Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

نیر سلاسل – ناول پر تبصرہ

اردو کتاب پر تبصرے

میں ایک بہترین ناول پر تبصرے کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں. ناول کا نام ہے ”نیر سلاسل“ اور یہ خوبصورت تخلیق میرے بہت ہی پیارے اور عزیز از جان بهائی عقیل شیرازی کی کاوش ہے جو کہ بہت ہی عمدہ لکھتے ہیں. ان کے لکھے لفظ لفظ میں عجب سی کوئی تاثیر ہے کہ بندہ ان میں کھو کر کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے. جب میں نے عقیل بھائی کی پہلی تحریر ”عبدیت کے آنسو“ پڑهی تو میں چونک گئی تهی اور میں نے دل میں سوچا تها کہ یہ بندہ اللہ کے چنیدہ بندوں میں سے ہے کیونکہ کوئی عام انسان اس پیرائے میں نہیں سوچ سکتا. اس افسانے کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ عقیل شیرازی کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص تعلق ہے اور یہ جانتے ہیں کہ بشریت کے تقاضوں کو سمجھنا کتنا ضروری ہے؟ تب مجھے لگا کہ ادب کی دنیا میں کوئی نیا رائیٹر تہلکہ مچاسکتا ہے تو وہ یہ ہی ہے. یعنی جو کچھ نیا اور چونکا دینے والا ہو گا اور اس کا ثبوت شاندار ناول ”نیر سلاسل“ کی آمد نے دے دیا.
“نیر سلاسل” کا پہلا کردار “سفیر احمد” شاندار شخصیت کا مالک خوبصورت و خود پرست، کسی مندر کے سب سے بڑے بت کی مانند ہے. جو صرف اپنی پرستاری کا خواہش مند ہے اور اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی ظاہری شخصیت کو بلند رکھنے اور صرف اور صرف اپنے آپ کو چاہے جانے کے قابل سمجهتے ہیں یا برتر کہلانے کا حق رکھتے ہیں. اس کے نزدیک اس کی خوبصورتی ہی اس کا بہترین ہتھیار ہے جس سے وہ مقابل کو چت کر سکتا ہے. یہ ایک احساس برتری کا عنصر ہے لیکن اسی احساس برتری میں احساس کمتری بھی پنہاں ہوتی ہے. “ثومیہ شاہجہاں” باپ کی بے قدری و سختی کی نظر ہوئی حساس اور سلجھی ہوئی لیکن تھوڑی دبنگ سی لڑکی ہے. جو ایک طرف اپنی ناقدری پہ کڑھتی ہوئی کمزور چڑیا لگتی تو اگلے پل جانے کہاں سے شیرنی کی طرح بپھرنے لگ جاتی. اگرچہ سفیر کی شخصیت شہزادوں جیسی آن بان والی ہے مگر میرے دل کو مصطفین شجاع کے کردار نے چھو لیا ہے. مجھے لگتا ہے کہ ناول کا ہیرو سفیر ہے لیکن میرے لیے مصطفین ہی ہیرو ہے. میری خواہش ہے کہ یہ ناول ہمیشہ مصطفین کے نام سے جانا جائے. ذاتی طور پر مجھے اپنے حسن و جمال، طرز گفتگو اور چال ڈھال سے صرف مصطفین ہی بھایا ہے کہ جس کی شخصیت میں زود رنجی کے علاوہ ٹھنڈی میٹھی پھوار بھی برستی ہے. اس کہانی کا ایک اور اہم کردار “ایمان راجپوت” ہے. جس کا بانک پن اور الھڑ پن مجھے بے حد بھایا. اس کی اداؤں میں معصومیت اور بے ساختگی دل موہ لیتی ہے. مخصوص دائرہ کار میں رہتے ہوئے اونچی اڑان کی شوقین ایمان ہر اس طبقے کی صنف کی عکاسی کرتی ہیں جن کے وسائل محدود اور خواہشات کی پرواز اونچی ہے.
ایمان اور مصطفین کے مابین نوک جھونک بھی کہانی میں حسن بهرتی ہے.
اس کہانی کا ایک اہم کردار “منصور عالم” جو کہ سفیر کے والد ہیں وہ بھی مجھے بھید بھری شخصیت لگے. جیسے سمندر کی پرسکون سطح اپنے اندر کتنے طوفانوں کو کروٹیں دیتی ہو. گیتی کی انٹری بھی شاندار ہے میری خواہش ہے کہ تخلیق کار مضطرب گیتی کو قرار دے دے اور وہ حق کو بھی پا لے.
یہ تو تھے ناول کے شاندار اور جاندار کردار اب آتی ہوں اندازِ بیاں کی طرف، تو ماشاءاللہ عقیل بھائی نے فلسفہ بڑے خوبصورت اور اچھوتے انداز میں بیان کیا ہے. ہر تیسرے منظر میں اس فلسفے نے جان ڈال دی ہے ایک ایک حرف پہ دل ایمان لاتا ہے تو ایک ایک لفظ میں اپنا آپ چھلکتا ہے. کیا کہنے واہ کس کس کا ذکر کروں کہ سارے الفاظ ہی معتبر ٹهہرے. ایک کا ذکر کرنا دوسرے کا نہ کرنا تو ان کمیاب الفاظ کے ساتھ زیادتی کرنے جیسی بات ہو گی. مجھے بہت وقت کے بعد کسی کے جملے روح میں اترتے ہوئے محسوس ہوئے ہیں. یوں لگا کہ جیسے بے زبان دل کو گویائی عطا ہو گئی ہو. کبھی کبھی آپ اپنا آپ چند لفظوں میں کسی پہ عیاں کرنا چاہتے ہیں مگر الفاظ نہیں ملتے. ہاں لیکن وہی الفاظ جو آپ کے دل کی بہتر ترجمانی کر سکیں، عقیل بھائی نے صفحہ قرطاس پہ جابجا موتیوں کی صورت بکھیر دیے ہیں. میں نے اس ناول کو خصوصی وقت نکال کر سہولت سے پڑھا ہے اور میرا تسلسل ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا. اب تک کی شائع شدہ تمام اقساط میں پڑھ چکی اور بے صبری سے اس کی باقی اقساط کی منتظر ہوں. نگاہیں بے تابی سے گھڑی کی سوئیاں گن رہی ہیں کہ انتظار کے جاں گسل لمحات جلد گزریں اور اس ناول کی باقی اقساط میسرِ نگاہ ہوں.
اہم بات کہ ناول میں کہیں کہیں مزاح نگاری بھی ہے. خاص طور پہ مصطفین اور سفیر کی پہلی نوک جھونک جس میں سفیر کے گھورنے پر مصطفین کہتا ہے کہ “بهائی صاحب آپ کے ان “نین نشیلوں” کو میں بعد میں تاک لوں گا فی الوقت رسم تعارف نبهاتے ہیں…” اور اس کے علاوہ ایمان اور اس کی والدہ کے درمیان گفتگو میں ایمان کا بے ساختہ انداز میں یہ کہنا کہ “مصطفین بچہ کہاں ہے؟ ابھی اس بچے کی شادی کر دو تو سال بعد ایک بچے کی ماں نہیں تو باپ ضرور بن جائے گا…”.
ہاں لیکن اگر عقیل شیرازی سفیر کی فنی سی نوک جھونک دو چار بار اور کرا دیتے تو لطف زیادہ رہتا. تاہم ٹائٹل کی مناسبت سے کہانی کو زیادہ غیر سنجیدہ بھی نہیں ہونا چاہئیے.

 

مجھے یہ ناول بہت اچھا لگا ۔ایسا منفرد انداز تحریر آج تک میری نظر سے نہیں گذرا ۔

 

گفتگو ڈاٹ پی کے ، پر ایسی ہی اچھوتی تحاریر پڑھنے کے لیے کلک یجئے ، حقائق کا زمرہ یا پھر دیکھئے خدا اور محبت  پر تبصرہ

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top