Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

گم گشتہ پیمان

ریل کی پٹری، کسی کے لیے وصال ہے ، تو کسی کے لیے فراق دھرتی کے سینے پر بچھے ، قربتوں اورہجر کے یہ استعارے ، اس پر مبنی ہے ، آج کا گفتگو پروان

   ریل کی پٹری، ٹرین کی آواز ، اور پلیٹ فارم، کے موضوع پر مشتمل آج کی گفتگو ڈاٹ پروان ، تصویری کہانی ۔


یہ سب ،  کسی کے لیے وصال ہے ، تو کسی کے لیے فراق دھرتی کے سینے پر بچھے ،  قربتوں اورہجر کے یہ استعارے

محض، ریل کی پٹری نہیں ، بلکہ عنوان ہیں ، امانتوں کے ، وعدوں کے ، ٹرین کی آواز ، پلیٹ فارم کے

عقب میں ڈوبتا سورج ، کہیریل کی پٹری کو اداسی کا لبادہ بھی اوڑھا دیتا ہے ۔

پلیٹ فارم پر بیٹھی حسرت و یاس کی مورتیں ہوں,یا طربیہ کھلکھلاہٹیں دونوں کے لیے ریل کی پٹری ،

امید ، پلیٹ فارم ، ایک جذبہ بن جاتا ہے ، کوئی ملنے کا سوچ کر ، کوئی واپس ہونے کا سوچ کر ،ریل کی پٹری کو

دکھیارا سا تکتا ہے ،ٹرین کی آواز، اور ریل کی پٹری پر اس کا رینگنا ، دل کی ڈؤبتی ابھرتی دھڑکنوں کا تال میل ،

اور امید و بیم کی یہ کیفیات ، ریل کی پٹری، پلیٹ فارم ، ٹرین کی آواز میں ملتے ہیں

اسی منابست سے آج ٹرین کی چھک چھک ، پلیٹ فارم سے جڑے ان گنت جذبوں اور ٹرین کی آواز

کے ساتھ منسلک ، ٹرین کی پٹریوں کو تصویری شکل میں گفتگو ڈاٹ پی کے ، کے ، گفتگو پروان

نامی تصویری سلسلہ میں ، پیش کرنے کا پورا کریڈٹ ، لبنی نورین کو جاتا ہے ، جن کی تحاریر  آپ گفتگوڈاٹ پی کے

پر  گاہے گاہے پڑھتے رہتے ہیں، اس کے علاوہ ، گفتگو ڈاٹ پی کے ، کے گفتگو پروان

نامی ، اس تصویری اور تخلیقی سلسلے میں حصہ لینے والے گفتگو ڈاٹ پی کے ، کے ، باذوق

اور اردو سے محبت رکھنے والے ، سخن فہم ، قارئین بھی شامل ہیں ، جن کے کے جذبات،

ریل کی پٹری ، پلیٹ فارم ،اور ٹرین کی آواز سے کیسے اتھل پتھل ہوتے ہیں.

اس کا بیان درج ذیل سطروں میں ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے .

فوٹوگرافی: لبنی نورین


ڈھلتی دیگر قبل از مغرب ٹمٹماتی لائٹوں میں دنیا کے ہجوم سے بےپرواہ ہو کر کبھی نہ اترنےوالا بوجھ دلِ

مغموم پہ لیے ہوئے بے نشان منزل کی طرف جس ریل کا راہی ہوا اب تک کوئی پشیمان آنکھیں اسٹیشن پہ، پلیٹ فارم پہ ،

.اس ریل کی پٹری پر آتی ۔۔ٹرین کی آواز کی منتظر ہیں

شیرازی ملک


شور ، ہنگامے، افراتفری سے لاپرواہ عالم وجد میں گم دل میں تخلیے

کا عالم لیے ، میلے میں تنہائی ،ویرانیِ قلب سے زیادہ وحشِت نگاہ ،

کھوجتی متلاشی نظریں ، ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ ڈھونڈتی ہوئی

نظریں ، تھرتھراتے لبوں کی دعا واپسی کا سفر بھول نہ جانا ۔۔۔

فوزیہ سحر


ریل کی پٹڑی تو کب سے گٹھڑی باندھے پڑی ہے دھرتی  اکیلی ہے

اس کا تو کوئی گھر بار ہی نہیں.. اس کے کانوں میں تو پلیٹ فارم ، یا ٹرین کی آواز  کا شور ہوتا ہے،

آنکھ دریا میں لہروں کا زور ہوتا ہے،

اس کے سینے پر تو قدم چلتے ہیں آبنوسی شام کے سائے ڈھلتے ہیں.

دھرتی اکیلی ہے اس کا تو کوئی گھر بار ہی نہیں

آسی غازی

 

گفتگو پروان

تصویر سے تحریر کو جنم دینے کا سلسلہ ۔۔ گفتگو کے تخلیقی اذہان کی اڑانیں فطرت کے مداحوں کے کیمرے میں قید کئے گئے لمحات پر ثبت ہو کر تخیلاتی فن پاروں کو جنم دیتی ہیں ۔۔
جڑےرہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top