Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

بے لگام وصل

فوٹوگرافی: زوہیب اکرم

کچھ تو ایسا تھا جس نے اس کے تخیل کو مضطرب و بے چین کر رکھا تھا ,سکون دل اس وحشی شہہ سوار کی طرح ایڑھ لگا کر ایسے اڑن چھو ہوگیا ,جیسے اداسی کا ڈوبتا ہوا سورج سمندر کی بے رحم موجوں نے نگل لیا ہو, جذبات کی بھپرتی ہوئی موج کو سکون سے کیامطلب ,شکستہ پائی ۔

کی محرومی نے گیلی ریت پر انمٹ نقوش چسپاں کردئیے , نشہ ہجراں سے بدن ٹوٹ کر من چلی پائل کی طرح مچل اٹھا ہو جیسے

فوزیہ سحر


روز چلے آتے ہو خیالوں کے سرپٹ گھوڑے پہ سوار اور میرا ہاتھ تھامے لے جاتے ہو نمکین پانی کے جزیرے پہ، جہاں ساحل کی گیلی مٹئ مجھے سمندر کے عشق کا فسانہ سناتی ہے۔ جہاں ریت کے ذرے ہر آنے والی شوریدہ سر لہروں ساتھ سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہوکر فنا ہو جاتے ہیں۔ وہیں اسی ساحل پہ تمہارے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز میرے چاہت کے بپھرے سمندر مین طغیانئ بھر دیتی ہے اور وصل کی حلاوتیں میرے وجود کو مسجود کرنے لگتی ہیں اورمیرا وجود عشق کے ساحل آشفتہ پہ سر بسجود ہونے لگتا ہے۔

در عدن


انسان خواہشات کی تکمیل کے پیچھے نڈھال وقت کے گول چوک میں گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھومتا رہتا ہے۔اور پتہ ہی نہیں چلتا کب چابی ختم ہوئی۔۔۔؟ کب روشنیاں زنجیر ہوئیں۔۔۔؟ کب ہاتھوں سے تتلی کے رنگ چُھوٹے۔۔۔؟ کب جسم سے جان کے رشتے ٹوٹے۔۔۔؟ کب صندل کافور ہوئی۔۔۔؟ انسان نفس کے گھوڑے کا سوار ہے۔۔۔! اگر اس گھوڑے کو لگام ڈال لی تو زندگی سُکھی اور اگر گھوڑا قابو میں نہ آیا تو پھر شہ مات۔۔۔! نفس کا ندیدہ گھوڑا ساری زندگی آپ کو بھگاتا پھرتا ہے خواہشوں کے بُت بندےاور رب کے درمیان دیوار بن جاتے ہیں پھر رب نہیں ملتا۔۔۔!

بشرہ ناز

یہ فضاء ایسی ہے کہ فطرت کا حسن اور آپکے قرب کی چاہ وحشیانہ درندگی سے میری طرف مائل ہو رہی ہیں اور میں ہوں کہ ان پانیوں کی رکاوٹ بنی کھڑی ہوں۔ لیکن گیلے پیروں کے قریب سے میری کھال راکھ ہو کر جھڑتی جا رہی ہے۔ جدائیوں کا قصد کر تو چکے ہیں لیکن کون میری طرح دیوانی ہو گی؟ اگر ابھی بھی آپ نے اپنے اس پالتو گھوڑے کا رخ واپس نہ موڑا تو اپنے پیچھے سمندر نہیں، پانی کا وہ ذخیرہ چھوڑ جائیں گے جسے مریضِ عشق تبرک کے طور پہ استعمال کریں گے اور میری راکھ ساحل کی ریت اور پانی کے بیچ سرسراتی رہے گی۔

دیازی

 

گفتگو پروان

تصویر سے تحریر کو جنم دینے کا سلسلہ ۔۔ گفتگو کے تخلیقی اذہان کی اڑانیں فطرت کے مداحوں کے کیمرے میں قید کئے گئے لمحات پر ثبت ہو کر تخیلاتی فن پاروں کو جنم دیتی ہیں ۔۔
جڑےرہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top