Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

آپریشن مرغا پکڑائی

رمضان و عید گزر چکی تھی۔ایک دن قصہ کچھ یوں ہوا کہ بڑی ہمشیرہ نے صبح سویرے حکم جاری کیا کہ گھر میں گھومتے پھرتےمحلے بھر کی مرغیوں کے مشترکہ "بوائے فرینڈ" اور انتہائی آوارہ کردار کے حامل موٹے تازے ٹھرکی مرغے میاں کو گرفتار کیا جائے۔۔۔ آپریشن مرغا پکڑائی کی مسکراتی تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔۔

اردو مزاح کی ہنستی مسکراتی تحریر اور انسانی مسائل کو شائستگی سے مسکراہٹ کہ لبادے میں لپیٹتا ہوا اردو مزاح پڑھنے والوں کہ دل ودماغ کو فرحت بخشتا ہے ایسی ہی ایک مسکراتی تحریر جس میں لکھاری نے ایک شر پسند مرغے کہ ہاتھوں ہونے والی درگت کو مزیدار پیرائے میں اسطرح بیان کیا ہے کہ اردو مزاح کے شائقین اپنی بے ساختہ مسکراہٹ کو نہیں روک سکتے


رمضان میں کراچی کی قیامت خیز گرمی اور پانی کی کمیابی سے خار کھاکر ہم نے گاؤں کی راہ لی۔گرچہ وہاں کی گرمی کچھ بڑھ کر ہی تھی لیکن ٹھنڈے پانی کی چشمے اور کنویں آبِ حیات کے مثل تھے کہ جب چاہو غوطہ زن رہو اور ٹھنڈک حاصل کرو۔ وہیں قیام کے دوران کی یہ روداد ہے۔
رمضان و عید گزر چکی تھی۔ایک دن قصہ کچھ یوں ہوا کہ بڑی ہمشیرہ نے صبح سویرے حکم جاری کیا کہ گھر میں گھومتے پھرتےمحلے بھر کی مرغیوں کے مشترکہ “بوائے فرینڈ” اور انتہائی آوارہ کردار کے حامل موٹے تازے ٹھرکی مرغے میاں کو گرفتار کیا جائے تاکہ اسے شہید کر کے کراچی سے آئے ہوئے دوسرے مہمان بہنوئی کی خاطر مدارت کی جائے۔
اب آپس کی بات ہے کہ مجھے یہ ناہنجار مرغا کبھی ایک آنکھ نہ بھایا تھا کیونکہ اسکی درجن بھر گرل فرینڈز مرغیوں کو دیکھ کر ہمیں اپنی شدید کم مائیگی کا احساس ہوتا کہ ہم اس مرغے سے بھی گئے گزرے ہیں کہ مجال ہے کوئی ایک آدھ دوشیزہ ازراہ ثواب ہی لفٹ کرادے۔ اس نامعقول مرغے کی اخلاقی پستی و ٹھرک کا یہ عالم تھا کہ سرِراہ ہی کسی گزرتی یا دانہ چگتی مرغی کو دبوچ کر ہمارے سینے پر مونگ دلتا اور ہم پیچ و تاب کھا کر رہ جاتے۔ انھی حرکات کی بناہ پر اکثر و پیشتر ہم بھاری ہتھیاروں سے اس پر شیلنگ کرتے تاہم شاذونادر ہی نشانہ لگا۔ان بھاری ہتھیاروں میں کبھی روایتی چپل پستول، گوبر گولی، کنکر پٹاخہ جیسے چھوٹے ہتھیار شامل ہوتے اور کبھی ممنوعہ بور مثلاََ وائپر اسنائپر، ڈنڈا مشین گن، ٹوکری میزائل سے بھی کام لیا جاتا۔
خیر!! ہم بات کر ریے تھے اس مرغے کے لمحہ اجل کی کہ ہمشیرہ نے اسے پکانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔لہذا ہماری باچھیں کِھل گئیں کہ آخر کار یہ آوارہ عاصی اور مائل بہ ٹھرک مرغا اب انجام کو پہنچنے والاہے۔
ہم نے آستینیں چڑھا کر اور پائینچے اٹھاکر جنگی صورت کیلئے خود کو تیار کیا اور دوڑ پڑے اس برآمدے کی طرف جہاں یہ حضرت تشریف فرما تھے، زمانہ قدیم کے جنگجوؤں کی طرح بھاگ کر حملہ آور ہوتے وقت ہم فرطِ جذبات میں یہ فراموش کرگئے کہ رات بھر بارش برستی رہی ہے اور کچی مٹی کا آنگن کیچڑ بن کر ہڈیاں توڑنے کو تیار ہے۔ نتیجتہََ!!! دھڑام۔۔۔ کی آواز کے ساتھ یا وحشت کا نعرہ بلند ہوا اور اگلے ہی لمحے چشمِ فلک کے ساتھ برامدے میں چائے سے لطف اندوز گھر کے افراد نے بھی ہمیں زمیں بوس ہوکر چِت لیٹے پایا!! پھسل کر گرنے سے جو درد ہوا اور تشریف کی ہڈیاں ہل گئیں وہ تو سو ہوا لیکن افرادِ خانہ کے زوردار قہقہے نے نمک پاشی کا کام کیا، اس کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ پڑوس کی ایک دوشیزہ بھی اس دوران مصالحہ مانگنے کیلئے بس دروازے سے داخل ہی ہوئیں تھی اور ہمیں کیچڑ میں رُلتے دیکھنے کا نظارہ ملاحظہ کرگئی تھی۔ ہماری حالت کاٹو تو بدن میں لہو نہیں!! غیض و غضب اور شرمندگی کے احساس سے سرخ ہوکر ہم میدان جنگ میں زخموں سے چور سپہ سالار کی طرح بھرپور طنطنے سے اٹھے اور مرغے کو مزہ چکانے پھر سے دوڑے۔۔۔ آپی آوازیں ہی دیتی رہیں لیکن ہمارے سر پر خون سوار ہوچکا تھا۔۔۔اب منظر یہ تھا کہ وہ ابوالخبائث آگے آگے اور ہم پیچھے پیچھے کیچڑ میں لت پت بھاگے جارہے تھے۔۔۔۔
معاََ مرغے میاں نے ڈیران (کچرے کا ڈھیر) پر چھلانگ لگادی، ہم نے بھی جری بہادر سپاہی کی طرح مجرم کے تعاقب میں جان کی پروا نہ کرتے ہوئے زقند بھری اور اگلے ہی لمحے ڈیران ہر لینڈنگ کرگئے۔۔۔لیکن یہ کیا!! شومئی قسمت کہ ہمارے دونوں پاؤں بالکل تازہ گوبر میں دھنس گئے تھے جو غالباََ پاس والی خالہ نصیبن نے ابھی ابھی پھینکا تھا۔۔ ہمارا پاؤں کچھ اس طرح پڑا کہ وہ گوبر، سالگرہ کیک کی مانند دو حصوں میں کٹ گیا!! صد شکر کہ وہاں کراچی کے بچے نہیں تھے ورنہ یقیناََ ہیپی برتھ ڈے گاکر تالیاں بجاتے۔خیر ہمارا ہیپی برتھ ڈے کروا کر وہ نامعقول مرغا باآواز بلند ککڑوکووووں کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے بھاگتا چلا گیا اور ہم نے بھی تعاقب جاری رکھا۔۔
بھاگتے بھاگتے مرغ صاحب پنیترا بدل گئے اور سیدھا سڑک پر چڑھ دئیے، غضب وہاں بھی ہمارا منتظر تھا کہ محلے کی مسجد کے خودساختہ موذن م ماما المعروف ٹِپٹپا خان کیچڑ سے بچتے بچاتے لاٹھی ٹیکتے ہوئے سڑک کنارے چل رہے تھے کہ ہنگامِ قتال ہم انکی لاٹھی کے ساتھ الجھ بیٹھے۔۔۔۔ اور۔۔۔ ایک بار پھر چاروں خانے چِت پڑے تھے۔اس دفعہ سڑک پر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بہنے والی لختی (چھوٹی نالی جو گھروں کے ساتھ بنائی گئی ہوتی ہے) میں غوطہ زن تھے۔ اب کی بار کمر پر خراشیں لگا بیٹھے اور ساتھ میں ٹپٹپا خان صاحب کا قصیدہ بھی سماعت فرمایا جس میں میرے شجرہ نسب پر معیوب انداز میں رائے زنی کی گئی تھی۔ ہم غصے اور بے بسی سے کانپ اٹھے کہ اس بے غیرت اور آوارہ مرغے کی یہ مجال کہ ہمیں نالے تک میں لاپھینکا ہے۔۔۔ ٹپٹپا خان سے باز پرس کرنے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہوئے سوچا کہ اب تو یہ انا کا مسئلہ بن گیا ہے۔۔ اُدھر مرغے صاحبں ہمیں خاک چٹانے کے بعد بے فکری سے ساتھ والے کھیت میں چہل قدمی فرما رہے تھے اور سامنے پِھرتی ایک مرغی کو ہوس زدہ نظروں سے تاڑ رہے تھے۔۔۔ ہمیں تو گویا پتنگے لگ گئے کہ ایسا کیسے۔۔۔ہمیں گوبر سے مَل دو اور خود مزے اڑانے کی سوچ رہے۔۔ سو اپنی تکلیف و ذلت کا احساس بھول کر پھر سے مشن پر نکل کھڑے ہوئے۔۔۔ لیکن اب ایک پاؤں میں لِنگ بھی پیدا ہوگیا تھا۔حفظِ مراتب سے ناآشنا وہ آواارہ اور بدتمیز مرغا اب کھیت میں زیر تعمیر مکان کی طرف جا نکلا تھا اور وہاں۔۔۔۔ ایک گدھے صاحب پورے طمطراق کے ساتھ ایٹمی ہتھیار لوڈ کئے کھڑے تھے۔۔۔ وہ ناہنجار مرغا اسی گدھے کی جانب دوڑا اور پیچھے ہم۔۔۔۔ دفعتاََ مرغے ستم ظریف نے کھوتے صاحب کے ہتھیاروں پر چونچ سے ٹھونگ ماری۔۔۔ یاوحشت۔۔۔مجھے تو صرف دیکھ کر ہی تکلیف ہوگئی تھی۔۔۔گدھے میاں نے تکلیف سے بِلبِلا کر دولَتّی جھاڑی اور ہم۔۔۔۔ جو گدھے کے بالکل پیچھے ہی ہاتھ پھیلا کر جھکے بیٹھے تھے کہ مرغے کو نکلتے ہی دبوچ لیں گے، دولتی سیدھی ناک پر پڑی اور کٹے ہوئے شہتیر کی طرح پیچھے کی طرف الٹ گئے۔۔۔

۔۔۔مرغے نے ایک بار پھر ککڑوکوووووں کا نعرہ بلند کرکے گویا ہم پر زبانی چوٹ بھی کی تھی۔اس زور دار ضرب سے دماغ جھنجھنا اٹھا اور نکسیر پھوٹ پڑی۔۔۔ اب تو ہم جلال میں آگئے کیونکہ بات انا سے نکل کر غیرت پر آگئی تھی۔۔۔ ہم ٹہرے آخر کو پختون!! غیرت سے بڑھ کر کیا تھا۔۔۔ غضبناک ہوکر اٹھے اور مرغے کو گھیر گھار کر گھر کے ساتھ والی پگڈنڈی نما تنگ گلی کی طرف لے گئے جس گلی میں ہر گھر کا پچھلا دروازہ کھلتا تھا۔ مرغا ادھر ہی بھاگا جارہا تھا اور ہم تعاقب میں۔۔۔ دفعتاََ ایک دروازہ کھلا اور وہی نازنین نکلی جو گھر میں ہمیں کیچڑ سے گلے ملتا دیکھ چکیں تھیں۔وہ سامنے سے آرہی اور ہم اسی طرف نگوڑ مارے مرغے کو پکڑنے بھاگ رہےتھے۔۔۔ گلی اتنی تنگ کہ ہم آمنے سامنے ہوئے تو گزرنے کا راستہ نہیں تھا اور بقول استاد درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش بچتی تھی۔ ہم جنھجلا اٹھے کہ یہ کیا کم بختی ہے جب گوہرِ مقصود ہاتھ آنے لگا تو اب یہ مصیبت۔۔۔ ان محترمہ نے شائد ہماری حالت دیکھ کر ہم پر گزرنے والی مصیبت کا اندازہ کرلیا تھا اور ہمیں ویسے بھی زمین بوس ہوتا دیکھ چکی تھیں ۔۔۔ اس لئے کمالِ بے نیازی سے جھکی اور عین اپنے پیروں کے درمیان سے اس نامعقول مرغے کو گرفتار کر کے ہماری تحویل میں دے دیا۔۔ ہم خفت مٹانے کیلئے جھینپ کر مسکرانے لگے کہ اس قدر درگت بنوانے کے باوجود بھی ہم مرغا خود نہ پکڑ سکے اور مرغے نے بھی اپنی ٹھرک کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری گرفتاری بھی صنفِ نازک کو ہی دی۔۔۔
ہم بغل میں مرغا دابے کچھ اس شان سے گھر میں داخل ہوئے کہ ایک پیر گھسیٹ کر لارہے ہیں، کیچڑ میں لت پت ہیں اور کمر پکڑے ناک پر خون جمائے پاؤں گوبر سے اٹے ہوئے کسی میدان جنگ سے واپس آتے ہوئے شدید مضروب سپاہی کی بھرپور منظر کشی کر رہے تھے۔


اردو مزاح کی مسکراتی تحریر قارئین کی زہنی تروتازگی کے لیےہمیشہ سے بہترین ذریعہ رہی ہیں ایسی ہی ایک ہنستی مسکراتی تحریر فرحان عابد فرحان کہ قلم سے گفتگو ڈاٹ پی کے اپنے مزاح کا شوق رکھنے والے قارئین کہ لیے لایا ہے.. پڑھیے اور مسکرائیے اور اپنی راۓ سے آگاہ کرتے رہیے کمنٹ باکس میں اور کلک کریں ” بیگم کا چھاپا “ پر یا وزٹ کیجئے گفتگو ڈاٹ پی کے کا ” مزاح “سیکشن

فرحان عابد

فرحان عابد، جامعہ کراچی میں شعبہ ریاضی کا طالب علم ہوں.سیاحت، مطالعہ اور کرکٹ شوق ہیں.سائنسی دماغ اور ادبی مزاج کے رکھنے والے بڑے ، خوابوں اور بڑے دل والے لکھاری ہیں .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top