اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے۔

عجب ہے نا کہ کوٸ آپ سے خود آ کر کہے دیکھو میں آپکو نفع کا سودا بتاٶں ایک ایسی تجارت جس میں تمہارا فاٸدہ ہے تو ہم پہلے سوچتے ہیں کہ یہ بندہ جو بن بلاۓ بن پوچھے میری خیر خواہی کر رہا ہے آخر کیوں پہلا وہم اور گمان یہ گزرتا ہے کہ […]

October 28, 2019

عذابِ آگہی

لبنیٰ نورین بہت سنہرے دن تھے وہ ۔ جب بستے میں کتابوں کیساتھ تختی بھی ہوتی تھی ، معصومیت اور لاپرواہی بھی ۔جب ہاتھ سیاہی سے کالے بھی ہوتے تھے اور آنکھیں بلاوجہ انجانی خوشیوں سے چمکتی رہتی تھیں ۔ اور اس، دن تو دنیا مٹھی میں ہوتی تھی جب پراٹھے کی بجائے امی دو […]

September 16, 2019

حسابِ حقیقت

ریحان نے کمرے سے کچن کی طرف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ،،، یار عبداللہ پیٹ میں چوہے کود رہے ہیں ، گر تو نے کچھ دیر اور صرف برتن دھونے میں ہی گزار دی ، تو میری قبر پر کینڈل لائٹ ڈنر کرنے آ جانا ۔۔۔ عبداللہ نے کچن سے آواز بلند کرتے ہوئے […]

September 1, 2019

جادو بھری آنکھیں

ایک قلم نکالی بستہ سے اور میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور دوسرے ہاتھ سے نقاب ہٹانا شروع کیا میں نے قلم ابھی اس سے لی ہی تھی کہ جیسے ہی نقاب ہٹا میرے ہوش خطا ہو گئے اور میرے ہاتھ سے قلم چھوٹ گئی۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

June 23, 2019

مختصر حقیقت

اس میں وقار صاحب کا بہت اہم کردار تھا جنہوں نے بات کی گہرائی کو سمجھا کہ ایک لڑکی پچیس  سال کی تربیت و رہن سہن لے کرآرہی ہے وہ ان اطوار کو یک دم کیسے جڑ سے ختم کر سکتی ھے مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

June 23, 2019

گولڈن جتی

بچی اپنے باپ کے ساتھ تھی رجو کو خوش ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے دل کو انجانا سا خوف تھا اس خوف کو وہ کوئ نام نہیں دے پارہی تھی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

June 13, 2019

خوبصورت سہارے خستہ دیوار کے

اور وہ ساری سوچوں کو پرے کرتی اسکے ہاتھ کو جھٹکتی تیزی سے گھر کی طرف بڑھی آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے پیروں سے جوتیاں کب نکل گٸیں پتہ ہی نہ چلا مکمل تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔

June 12, 2019

دو نسلیں، دو نظریے

ابو جان پہلی بات تو یہ کہ ہر نئی ایجاد کو یہودیوں کا خفیہ منصوبہ مت سمجھا کریں ، یہ ہی مسئلہ ہے کہ ہم آج ترقی یافتہ ممالک سے تقریباً بیس سال پیچھے ہیں ،،، جب تک ہم یہ طے کرتے ہیں کہ یہ نئی چیز حلال ہے یا حرام ، تب تک وہ لوگ مزید جدید دس منصوبے منظرِ عام پر لے آتے ہیں ۔۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔

June 1, 2019

ایک درزی کا آخری خط

س دن آپ جب سوٹ دے کر گئیں میں نے سوچا اس بار اس پر اپنی ساری محنت لگا دوں گا اور آپ سے ایک روپیہ نہیں لوں گا اسی لئے آج آخری روزے کو بھی آپ کا سوٹ بغیر سلا ئی کے پڑا ہے ۔ میں نے سوچا تھا کہ آج رات آپ کے سوٹ پر اپنا سارا درزیانہ ہنر لگا دونگا اور ایک ماسٹر پیس تیار کروں گا، لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے طافو موچی میری دوکان پہ آیا اور ۔۔۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔۔

May 25, 2019