Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

وادیء کیلاش کا طرز زندگی

kalash culture Pakistan in urdu by lubna - guftagoo pakistani indian best urdu hindi best column blogs literature, kalash culture, culture , traditions

Kalash culture

پراسراریت کا لبادہ اوڑھے ایک خوبصورت پاکستانی کلچر

یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے ۔۔۔کہیں عجیب و غریب عمارتیں ہیں تو کہیں عجیب و غریب خطے
کہیں دلچسپ رسم ورواج ہیں تو کہیں دلچسپ کھیل ۔۔۔
ایسے ہی کچھ عجائبات سے بھری ایک وادی کیلاش بھی ہے ۔

کیلاش کا مطلب ہے ’کالے کپڑے پہننے والے‘ یہاں عورتوں کا عام لباس ایک لمبا، سیاہ اور فراک نما کُرتا ہے جس پر خوبصورت اور رنگ برنگے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں۔
.
وادیٔ کیلاش، چترال کی ایک دلکش تصویر ہے۔ چترال کوہِ ہندوکش کے سلسلوں میں واقع پاکستان کا ایک اہم سرحدی علاقہ ہے۔ یہ اپنی 3 اطراف، شمال، جنوب اور مغرب میں افغانستان سے ملا ہوا ہے۔ واخان کی جس پٹی نے پاکستان اور سابقہ روس کو جدا کیا ہوا تھا، چترال ہی سے ملتی ہے۔ درّہ لواری کے راستے یہ ضلع دِیر سے اور وادیٔ مستوج کے راستے گلگت سے مربوط ہے۔ وادیٔ مستوج سے آنے والا دریا چترال کا مرکزی دھارا ہے۔

وادیٔ کیلاش بنیادی طور پر 3 چھوٹی چھوٹی وادیوں رامبور، بریر اور بمبورت پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں وادیاں پہاڑوں کے 3 علیحدہ سلسلوں میں الگ الگ واقع ہیں۔ ان تینوں میں سب سے خوبصورت اور بڑی وادی بمبورت ہے۔ وادئ بمبورت اپنے درمیان میں بہتی نیلگوں شفاف ندی کے گرد پھیلے سیڑھی در سیڑھی سر سبز کھیتوں اوران میں جا بہ جا نظر آتی سجی بنی کیلاش دوشیزاؤں کی وجہ سے معروف ہے۔

ندی کے دونوں اطراف پہاڑی ڈھلوانوں پر درجہ بدرجہ بلند ہوتے ہوئے مکئی اور گندم کے سرسبز کھیت ہیں اور ناشپاتی، خوبانی، اخروٹ اور سیب کے باغات ہیں کہ جن کے درخت پھلوں کے بوجھ سے دوہرے ہوئے جاتے ہیں۔ فضاء میں ناشپاتی اور سیبوں کی خوشبو ہر دم رچی بسی رہتی ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلے کھیتوں کے آخر میں سرسبز درختوں میں چھپے ہوئے کیلاش لوگوں کے قدیم چوبی مکانات ہیں جو پہاڑ کی بلندی کے ساتھ ساتھ اوپر بڑھتے چلے گئے ہیں ۔
یہاں عورتوں کا عام لباس ایک لمبا، سیاہ اور فراک نما کُرتا ہے جس پر خوبصورت اور رنگ برنگے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں۔ اس لباس کا سب سے خوبصورت حصہ وہ ہے جسے سر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ پیٹھ کی طرف سے آکر سر کے اوپری حصے پر گولائی میں پھیل جاتا ہے۔ اس سر ڈھانکنے والے حصے پر سیکڑوں کی تعداد میں سیپیاں، گھونگے، سکّے، بٹن اور رنگین پر وغیرہ بڑی خوبصورتی سے ٹانکے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس کی دلفریبی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

جب بلندی سے وادی کا نظارہ کرنے والے کو دور نیچے کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے کوئی لوک گیت گاتا ہوا کیلاش کسان کھلونے کی طرح نظر آتا ہے تو اس کی ٹوپی میں لگا ہوا رنگین پر اس کے ہل کی تال پر رقص کرتا محسوس ہوتا ہے۔ پھر جب کھیت کے کسی کنارے کوئی حسین کیلاش دوشیزہ داخل ہوکر اپنے اس محبوب کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے تو یہ منظر اور بھی دلفریب بن جاتا ہے۔

کیلاش میں آپ کو شفاف پانی کے بے شمار چشمے گنگناتے ہوئے ملتے ہیں جو راستے کے اوپر سے گزر کر ندی میں گرتے ہیں۔ سیبوں اور خوبانیوں کے درخت رستے پر جھکے پڑتے ہیں۔ فضاء میں پانی کی مدھر قلقل پھیلی ہوتی ہے۔ کیلاش دوشیزائیں اپنے رنگا رنگ پیراہنوں میں ملبوس حیرانی سے سیاحوں کو دیکھتی ہیں اور مسلمان عورتیں اجنبی سیاحوں والی جیپ کو دیکھتے ہی کسی درخت یا دیوار کی اوٹ میں ہوجاتی ہیں۔

کیلاش سال میں 3 تہوار مناتے ہیں۔ ان مواقع پر دوشیزائیں قطاروں میں ایک دوسرے کے کندھوں پر بازو رکھے ہلکورے لیتی ہوئی بانسری کی تان اور طبلے کی تال پر رقص کرتی ہیں اور فضا میں ان کے سریلے گیت گونجنے لگتے ہیں۔ طبلے کی تھاپ کے ساتھ ساتھ رقص کی رفتار بھی تیز ہوتی جاتی ہے اور میلہ اپنے جوبن کی طرف بڑھتا جاتا ہے کیلاش مذھب میں خدا کا تصور تو ھے مگر کسی پیغمبر یا کتاب کا کوئی تصور نہیں. انکے مذہب میں خوشی ھی سب کچھ ھے. وہ کہتے ہیں جیسے کسی کی پیدائش خوشی کا موقع ھے اسی طرح اسکا مرنا بھی خوشی کا موقع ھے.

چنانچہ جب کوئی مرتا ھے تو ھزاروں کی تعداد میں مردوزن جمع هوتے هیں- میت کو ایک دن کے لئے کمیونٹی ھال میں رکھدیا جاتا ھے ، مہمانوں کے لئے ستر سے اسی بکرے اور آٹھ سے دس بیل ذبح کئے جاتے ھیں اور شراب کا انتظام کیا جاتا ھے. تیار ھونے والا کھانا خالص دیسی ھوتا ھے.

آخری رسومات کی تقریبات کا جشن منایا جاتا ھے. ان کا عقیده هے که مرنے والے کو اس دنیا سے خوشی خوشی روانہ کیا جانا چاهیۓ. جشن میں شراب ، کباب ، ڈانس اور هوائی فائرنگ ھوتی ھے ۔ مرنے والے کی ٹوپی میں کرنسی نوٹ ، سگریٹ رکهی جاتی هے- پرانے وقتوں میں وہ مردے کو تابوت میں ڈال کر قبرستان میں رکھ آتے تھے ، آج کل اسے دفنانے کا رواج ھے. کیلاش میں ھونے والی فوتگی خاندان کو اوسطاَ اٹھارہ لاکھ میں پڑتی ھے جبکہ یہ کم سے کم سات لاکھ اور زیادہ سے زیادہ پینتیس لاکھ تک بھی چلی جاتی ھے۔

فوتگی کی طرح انکے ھاں شادی اور پیدائش بھی حیران کن ھے- لڑکے کو لڑکی بھگا کر اپنے گھر لیجانی ھوتی ھے. لڑکے کے والدین لڑکی کے والدین اور گاؤں کے بڑوں کو اس کی خبر کرتے ہیں جو لڑکے کے ھاں آکر لڑکی سے تصدیق حاصل کرتے ہیں کہ اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی گئی بلکہ وہ اپنی مرضی سے بھاگی ھے، یوں رشتہ ھو جاتا ھے. اسکے بعد دعوت کا اھتمام ھوتا ھے جس میں لڑکی والے بطور خاص شرکت کرتے ھیں. شادی کے چوتھے دن لڑکی کا ماموں آتا ھے جسے لڑکے والے ایک بیل اور ایک بندوق بطور تحفہ دیتے ھیں ، اسی طرح دونوں خاندانوں کے مابین تحائف کے تبادلوں کا یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا ھے.
حیران کن بات یہ ھے کہ پیار ہونے پر شادی شدہ خاتون کو بھی بھگایا جا سکتا ھے. اگر وہ خاتون اپنی رضامندی سے بھاگی ھو تو اسکے سابقہ شوھر کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پہلا بچہ پیدا ھونے پر زبردست قسم کی دعوت کی جاتی ھے جس میں بکرے اور بیل ذبح ھوتے ھیں. یہ دعوت ھوتی لڑکی والوں کے ھاں ھے مگر اخراجات لڑکے والوں کو کرنے ھوتے ھیں. اسکے علاوہ لڑکے والوں کو لڑکی کے ہر رشتےدار کو دو ہزار روپے فی کس بھی دینے ھوتے ھیں. اگر پہلے بچے کے بعد اگلا بچہ بھی اسی جنس کا ھوا تو یہ سب کچھ اس موقع پر بھی ھوگا یہاں تک کہ اگر مسلسل صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ھوتی رھیں تو یہ رسم برقرار رھیگی ، اس سے جان تب ھی چھوٹ سکتی ھے جب مخالف جنس کا بچہ پیدا ھو.

اگر کیلاش لڑکے یا لڑکی کو کسی مسلمان سے پیار ھو جائے تو شادی کی واحد صورت یہی ھے کہ کیلاش کو اسلام قبول کرنا ھوگا خواہ وہ لڑکا ھو یا لڑکی ۔ ۔ ۔ حالیہ عرصے میں شادی سے قطع نظر کیلاش لڑکیوں میں اسلام تیزی سے پھیل رھا ھے جس سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ یورپین این جی اوز بھی پریشان ھیں جو اس علاقے میں کام کر رھی ھیں چنانچہ ان این جی اوز کی جانب سے ھر کیلاش فرد کے لئے ایک بنک اکاؤنٹ کھولا گیا ھے جس میں ھر ماہ پابندی کے ساتھ بیرون ملک سے رقم ڈالی جاتی ھے جسکے عوض فقط یہی مطالبہ کیا جاتا ھے کہ مسلمان بننے سے پرھیز کیا جائے اور اگر کیلاش مذہب سے بیزار ھوں تو عیسائی بن جائیں لیکن مسلمان بننے سے گریز کریں. ان وادیوں میں پیدا ھونے والا بچہ رھتا تو کافرستان میں ھی ھے لیکن اسے پیدائش کے ساتھ ھی کوئی یورپین گود لے لیتا ھے اور وہ اسکے لئے ھر ماہ رقم بھیجتا رھتا ھے

جیسی دلچسپ اور مزے دار kalash culture

ثقافت سے بھری مزید تحریریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیرں

لبنی نورین

تعلیم ____نفسیات میں بیچلرز
گھریلو خاتون ہوں ۔۔۔۔۔شعروادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تمام ہی شاخوں سے دلچسپی ہے ۔لکھنے لکھانے کا فن اور شوق ورثے میں ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top