Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

فیشن بلاگر آمنہ عتیق ___خود کشی یا قتل

 

زندگی آج بھی جہل کی قید میں ہے ۔ انتہائی روئیے آج بھی لوگوں کو سسک سسک کر مرنے پہ مجبور کررہے ہیں ۔ کہاں ہے تعلیم ، کہاں ہے تہذیب ، کہاں ہے محبت ۔۔۔۔کیا،ان کا کوئی وجود ہے ؟ اگر ہاں تو پھر آمنہ عتیق جیسا حسین وجود کیوں رزقِ خاک ہوگیا ؟ کیوں قریبی رشتوں کی بے حسی نے اس سے زندہ رہنے کی امنگ بھی چھین لی ۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح ایک ہنستی مسکراتی لڑکی معاشرے کی فرسودہ رسم ورواج کی بھینٹ چڑھ گئی ۔۔۔۔
والدین کی اکلوتی اولاد آمنہ آسٹریلیا میں زیرِتعلیم تھی ۔ زندگی خوبصورت تھی اور وہ خوبصورت ترین ۔ جوانی اور بے فکری کے اس حسین دور کو،اسوقت زندگی نے ایک کاری ضرب لگائی جب پاکستان سے اسکی والدہ کے انتقال کی خبر آئی ۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر غمزدہ سی پاکستان آگئی ۔ ماں کی جدائی کا دکھ بہت گہرا تھا ۔ کافی وقت لگ گیا،اس کو،سنبھلنے میں ۔ ابھی ٹھیک سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ باپ کی دوسری شادی کا ذہنی صدمہ برداشت کرنا پڑا ۔ مزید برآں یہ بھی ایک نئی خبر تھی کہ والد یہ شادی اس کی ماں کی زندگی میں ہی چند سال پہلے کرچکے تھے ۔اور،اس کی سوتیلی ماں عمر میں اس سے دو تین سال ہی بڑی تھی ۔
اس نے اس شادی کو،قبول کرلیا لیکن سوتیلی ماں نے شوہر کی اکلوتی جائیداد کی وارث بیٹی کو،دل سے ہرگز قبول نہ کیا ۔
آمنہ کے والد نے آسٹریلیا جانے کا ارادہ کیا لیکن آمنہ ساتھ نہ جاسکی کیونکہ اس کا ویزا ختم ہوچکا تھا اور،دوبارہ اپلائی کرنے کا،انتظار وہ لوگ نہیں کرنا چاہتے تھے سو،سوتیلی ماں نے اس جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے ایک شرابی اور ناکارہ مرد سے آمنہ کا رشتہ طے کردیا ۔ جبکہ آمنہ کا اس،دوران ایان نامی لڑکے سے فیس بک پر ایک جذباتی تعلق،استوار ہوچکا تھا اور،وہ اسی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی تھی ۔لیکن اس کی خواہش کو در خوراعتناء نہ سمجھا گیا ۔تو،اسنے بھی مشرقی لڑکیوں کی طرح والدین کی مرضی پر سرجھکادیا اور شادی کرکے شوہر کے گھر روانہ ہوگئی ۔
شرابی اور نکھٹو شوہر کیساتھ ایک مشکل زندگی کا،آغاز ہوگیا ۔ وہ ہر ممکن نبھاہ کی کوشش کرتی رہی ۔ کچھ عرصہ بیتا اور ایک بیٹی اسکی زندگی میں آگئی ۔لیکن بیٹی کا وجود بھی اس ظالم شخص کو تبدیل نہ کرسکا ۔دن بدن اسکا،رویہ سخت ہوتا جارہا تھا ۔روز روز کی مارہیٹ اور تشدد بڑھتا جارہاتھا جس کا اختتام بالآخر طلاق پر ہوا ۔
طلاق کا پروانہ لیکر وہ باپ کے گھر آئی لیکن شقی القلب اور معاشرے کے فرسودہ رسم رواج میں بندھے باپ نے اسکیلئے اپنے گھر کے دروازے نہیں کھولے ۔اور طلاق جیسی “بدنامی “کا طوق قبول کرنے سے انکار کردیا .
انتہائی مایوسی کے عالم میں آمنہ اپنی ایک دوست کے گھر چلی گئی ۔ اس دوران اسکا رابطہ پھر سے اس لڑکے سے بحال ہوگیا ۔ جس سے وہ شادی کی خواہشمند تھی ۔ جذباتی سہارا ملنے پر آمنہ نے پھر سے زندگی کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اوور اپنی اور اپنی بیٹی کی بہتر زندگی کیلئے فیشن اور میک اپ سے متعلق اپنے ہنر کو آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ ایان نے اس کی مدد کی اور،اسکو رہائش فراہم کردی ۔ بیوٹی بلاگز سے اسکی شناخت ہونے لگی اور اسے کام۔ملنے لگا ۔زندگی پھر سے سہل خوبصورت لگنے لگی ۔
ایان کے اچھے روئیے سے متاثر ہوکر آمنہ نے اس سے شادی کرلی ۔کچھ سال بہت اچھے گزرے لیکن قدرت نے شاید،ابھی اور،آزمائشیں اس کے حصے میں لکھ رکھی تھیں ۔
ایان کا،رویہ بدلنے لگا ۔ اسے آمنہ کے کام سے شکایات ہونے لگیں. وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ وڈیوز اور بلاگز بنائے ۔ لیکن آمنہ معاشی خوشحالی کی خاطر کام چھوڑنا نہیں چاہتی تھی ۔ آہستہ آہستہ ایان کا،رویہ سخت ہونے لگ گیا ۔ تشدد اور مارپیٹ روز کا معمول بننے لگا ۔ آمنہ کو اس کی سابقہ زندگی کے طعنے دیتا ۔کوئی اس کی تعریف کرتا تو حسد کا شکار ہوکر سگریٹ سے،داغتا ۔ آمنہ نے اپنی بیٹی کو اس ماحول سے بچانے کیلئے اسے اپنے سابقہ شوہر کے حوالے کردیا ۔
آمنہ کی زنگی ایک بار پھر طوفان کی ذد پہ تھی ۔ لیکن اس بار اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اسکا محبوب تھا ۔ جس سے اس نے شدید محبت کی تھی اور،آنکھیں بند کرکے اعتبار اور بھروسہ کیا تھا مگر اس نے اسکے اس بھروسے کو چکنا چور کردیا ۔آمنہ اس صدمے کو برداشت نہیں کرپارہی تھی اور،ڈپریشن کا شکار ہوگئی ۔ بیٹی سے دوری نے بھی اسکو توڑ کے رکھ دیا ۔خود پر ہونے والے ظلم کا ذکر اس نے فیس بک کے ایک لائیو سیشن میں کردیا ۔ اس آخری وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آمنہ کس قدر مایوس اور ڈپریسڈ تھی ۔ اس سے اگلے ہی دن وہ اہنے گھر میں مردہ پائی گئی ۔کہا تو یہی جارہا ہے کہ اس نے خود کشی کرلی ۔۔۔۔لیکن یہ خود کشی نہیں بلکہ قتل تھا اور آمنہ کے قاتل ہم سب ہیں ۔ اس،معاشرے کے گھناؤنے رسم رواج ہیں جو ایک طلاق یافتہ عورت کو،قبول نہیں کرتے ۔ وہ فرسودہ سوچ ہے جو کہ ایک عورت کو خود سے آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتی ۔ نجانے کب ہماری سوچ بدلے گی ۔کب ہم کسی آمنہ کو،اپنی مرضی سے جینے کا حق دیں گے.

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

لبنی نورین

تعلیم ____نفسیات میں بیچلرز
گھریلو خاتون ہوں ۔۔۔۔۔شعروادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تمام ہی شاخوں سے دلچسپی ہے ۔لکھنے لکھانے کا فن اور شوق ورثے میں ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top