Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

بہتر عادات اپنانے کے چار اصول

زوہیب اکرم

۔۔۔۔۔۔
ٹریگر ، رویہ، اور صلہ۔
اکثر اوقات، انسانی رویے، ایک ہی سائیکل/پیٹرن پہ چلتے ہیں۔
یہ پیٹرن/لوپ درج ذیل تین چیزیں ہوتی ہیں۔

محرک (Trigger)
رویہ (behaviour)
صلہ (Reward)

یہ کچھ اس طرح کام کرتا ہے کہ، جس رویے/عادات کو آپ اپنانا چاہتے ہیں۔
اس میں مددگار/ محرک یعنی ٹریگر کو نمایاں/اہم قرار دیے رکھنا ایک مقصد/ہدف ہوتا ہے۔
جس کی مدد سے ، وہ مخصوص عادات و اطوار ، اپنانے میں آسانی ہو۔
اور اس کا نتیجہ یعنی صلہ، فوری مل جائے۔
یعنی
محرک – نمایاں/اہم
رویہ/عادات – اپنانا آسان۔
نتیجہ – فوری اور اطمینان بخش۔

مثال
ایک عادت/رویہ ورزش کی ہے۔
اس کا ٹرگر وہ شیڈول ہے، جو آپ کے فریج پر چسپاں ہے۔ جہاں فوری نظر پڑجائے۔ اس عادت کا نتیجہ/صلہ ہے، فٹنس/ جسمانی خوبصورتی۔

اور جو عادات آپ ترک کرنا چاہیں، اس کے لیے یہ پیٹرن بالکل الٹ ہوتا ہے۔
یعنی آپ ٹریگر کو دفن /غیر اہم کردیں ۔
مثلا اوپر کی مثال میں، فریج پر چسپاں شیڈول کو ہی نظروں سے اوجھل کردیں ۔
ان تمام پیٹرنز کو سمجھنے اور عادات کو اپنانے کے لیے درج ذیل، چار اصول اپنا لیں۔

· گردو پیش کو اپنےمطابق ڈھالنا۔

آپ کے اردگرد کا ماحول/حالات /افراد، آپ کی عادات و اطوار کو بنانے /بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، کوشش کیجیے کہ
ان سب عناصر کو، خود پہ کنٹرول سے روکیں۔
بہتر آپشن یہ ہے کہ محض قوت ارادی کے استعمال سے ہی ،آپ اپنے آس پاس بکھرے ایسے سارے فیکٹر ہٹا سکتے ہیں، جو کسی نہ کسی طور، آپ کی عادات و اطوار میں، آنے والے مثبت بدلاو کی راہ میں، رکاوٹ بن رہے ہوں۔
اس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ
اگر آپ بار بار فون چیک کرتے ہو اور اپنی اس عادت سے بیزار ہوں اور چاہنے کے باوجود اس عادت سے۔ چھٹکارا حاصل نہ کر پا رہے ہوں تو کام کے دوران ، اپنا موبائل فون دوسرے کمرے میں رکھ دیجئے۔

· اپنا سوشل سرکل خود ترتیب دیں۔

بنیادی اور مختصر بات یہ ہے کہ، انسان ، جلد یا بدیر ، اپنی صحبت کا رنگ پکڑ لیتا ہے ۔
یاد رکھیں ،موٹی ویشن ہو یا منفی رویے، یہ متعدی ہوتے ہیں، یعنی ایک سے دوسرے کو لگنے والے
اسی لیے ، اپنے لوگ ، خود چنیں، آپ جیسا ہونا چاہتے ہیں، ویسے ہی افراد میں رہیں۔
غیر ضروری، غیر متعلق، افراد /تعلقات سے مکمل طور پر دوری اختیار کیجیے۔
اس میں مروت روا روی، اور بےجا نرمی، آپ کے اپنے لیے نقصان دہ ہے۔

· چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھائیں۔

اگر آپ باقاعدگی سے اپنی صلاحتیوں کو ، اپنی ہمت سے کہیں زیادہ استعمال کریں گے تو،جلد، موٹی ویشن کی موم بتی پگھل جائے گی۔
لیکن اگر آپ تدریج یعنی آہستگی سے چیلنج لیول بڑھاتے چلے جائیں گے تو، انرجی بھی سلامت رہے گی اور عادات بھی مستقل ہوتی چلی جائیں گی۔ اس لیے ، چھوٹے چھوٹے ، فیصلے ، لیجئے ، مختصر قدم بڑھائیے ، مسافت ، آہستگی لیکن ، مستقل مزاجی سے طے ہوتی چلی جائے گی۔

· خود ساختہ جج بننے کے بجائے، خود پر نرم رہیں۔

جتنا مشکل چیلنج ہوگا، اتنا ہی زیادہ چانس اسے ترک کرنے کا ہوگا۔
ایک وقت آتا ہے کیا آپ کوشش کرکے اپنا زیادہ سے زیادہ ان پٹ دے کر بھی ،
اگر ناکام ہوتے جا رہے ہوں تو ایک سوچ فطری طور پر پر ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ کہ
سب چھوڑ چھاڑ کے کے آپ خود کو کو یہ باور کروانے میں لگ جاتے ہیں کہ شاید میں اس کام کے لیے بنا ہی نہیں ۔
شاید میں یہ کام کر سکتا ہی نہیں۔
یا ، شاید ، میرے سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہو گی ،
ہر کام میں ، خود کو مورد الزام ٹھہرانا۔۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنی سخت کوششوں پر نظر کرنے کے بجائے نتیجے کو دیکھتے ہوئے ۔
خود کی عدالت میں، خود کو مجرم ٹھہرا کر ،خود ہی جج بن کر خود ہی فیصلہ دے کر، مایوسی کے تختہ دار پرخود ہی ، جلاد بن کر، خود کو ہی لٹکا دیتے ہیں ۔
ایسا نہیں کیجئے

کیونکہ سخت مشقت اور کوشش کے باوجودد کسی بھی وجہ سے آنے والی ناکامی پہ،
اگر آپ کے اندر کی آواز، آپ کے لئے ہی، سخت اور انتہائی ججمنٹل ہوگی ، تو وہ ،
ناکامی کو بڑھاوا دے گی

جبکہ کہ خود پہ پہ ہمدردی، شفقت، اور نرمی میں کرنے سے سے انسان کے اندر ، مزاحمت کی قوت مزید بڑھتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، خود پر جائز اور مناسب حد تک لچک رکھنے سے ترقی کے منازل طے کرنے کا زیادہ چانس ہوتا ہے

لچک یا نرمی، ایسے افراد کے لیے۔ آسان نہیں ہوتی جو، مستقل کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں
خود کو شک کا فائدہ دینا، کہ فلاں کام میں، میں نے تو پورا ان پٹ دیا، لیکن
لیکن شاید ،کسی اور وجہ سے،
یہ کام اس طرح نہیں ہو پایا ،جس طرح میں کرنا چاہ رہا تھا یا چاہ رہی تھی ۔
اچھا اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ آپ، بار بار اپنی غلطیوں سے بری الذمہ ہو کر ، دوسروں پہ الزام تراشی شروع کردیں دی یا پھر ڈسپلین سے ہی عاری ہو جائیں۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تھک محنت اور کوشش کے باوجود اگر اگر نتائج آپ کی امیدوں کے مطابق نہیں تو آپ ، ڈسپلین کو لے کر خود پر چڑھائی کرنے اور خود احتسابی اور جج بن کر اپنی ذات پر سختی کرنے کے بجائے اپنے ساتھ ذرا نرمی کا مظاہرہ کیجئے اور دوسرے عوامل پر بھی غور کیجئے جن کی وجہ سے آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا یہ ہرگز ہرگز بلیم گیم کر نا نہیں ہے بلکہ یہ اپنے آپ کو اگلے مقابلے کے لئے تیار کرنے کی نسبتا بہتر حکمت عملی ہے

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top