Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

کیا مار پیٹ اولاد پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے؟

بشریٰ نواز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
بڑے پتے کی بات ہے اور ایک بڑا باریک نقطہ ہے کہ جب تک مٹی نرم نہیں ہو گی تب تک فصل کاشت نہیں ہوتی اور جب زمین کاشت کےقابل ہو جائے تو جو چاہو بو لو اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے اولاد بھی بہت بڑی نعمت ہےبچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل نرم مٹی جیسا ہوتا ہے اسے جس طرح کا چاہیں والدین بنا سکتے ہیں اگر والدین بچے کو اچھی عادتیں سکھائیں گے تو وہ لازمی ایک اچھا انسان بنے گا یوں تو بچے کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ہوتا ہے لیکن باپ پر معاشی زمہ داری ہوتی ہےاور اسی سلسلے اس کا زیادہ وقت گھر سے باہر ہوتا ہے اور پھر زیادہ زمہ داری ماں پر ہی ہوتی ہے بچہ جو بھی سیکھتا ہے وہ اپنی ماں سے سیکھتا ہے بچے کے لیے والدین ایک نمونہ ہیں ان کاہر عمل بچے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے لہذا بچے کے سامنے کوئی جھگڑا یا مار پیٹ ہر گز نہ کریں جو والدین اپنے بچوں میں اچھی عادتیں ڈیویلپ کرتے ہیں۔ ان کے بچے کامیاب زندگی گزرتے ہیں دوسری طرف جو والدین اپنی اولاد کی تربیت میں لاپرواہی برتتے ہیں یا ان کے سامنے جھگڑتے ہیں ان بچوں کی ذہنی صلاحیت بہت کم رہ جاتی ہے وہ زندگی کے کسی میدان میں زیادہ کامیاب نہیں رہتے پڑھائی میں کمزور رہتے ہیں۔اور اگر بچہ فیل ہو گیا یا کم نمبر لیے تو والدین سے مار ۔بچہ بات نہیں۔ سن رہا تو مار گھر سے باہر گیا تو مار پیٹ ما ں باپ سے شکایت کر رہی۔ ہے تو پھر مار
– بچہ کسی بھی عمر کا ہو اگر اس کے ساتھ مار پیٹ کی جائے تو اس کے اندر باغیانہ حیالات جنم لیتے ہیں اور وہ والدین کو دشمن سمجھنے لگتا ہے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی جاتی ہے اس کی شخصیت میں محبت اور نفرت کے درمیان توازن ختم ہو جاتا ہے اسے اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی نفرت ہو جاتی ہے اس میں خود اعتمادی بھی نہیں رہتی۔ یوں وہ ایک سخت شخصیت بن جاتا ہے جو آگے چل کر ایک ناکام انسان بھی ہو سکتا ہےایسا شخص جب شوہر بنتا ہے تو وہ ایک سخت شوہر اور ایک سخت گیر باپ ہو سکتا ہے جو پھر اپنے گھر میں بھی اپنے ماں باپ کی کی ہوئی کہانی دہرائےلہذا اپنا اچھا ماحول اور اولاد کی اچھی تربیت ہی بچے کو ایک اچھا باپ اور ایک اچھا شہری بنا سکتا ہے اگر والدین اولاد کے سامنے جھگڑا نہ کریں اپنے ماحول کو ٹھیک رکھیں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک اچھا شخص دے سکتے ہیں
– اپنے بچے کو۔ فرما برداری سکھا یں۔
– جھوٹ سے بچنے کی تلقین کریں دوسرے کی عزت کرنا سیکھا یں بچے کے سا منے جھگڑا نہ کریں۔ اگر بچے سے غلطی ہی تو اس کو ما ر پیٹ کی بجاۓ پیار سے سمجھایا جاۓ۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی راۓ دیں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top