Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

غازی علم دین شہید

لاہور کے دلِی دروازے سے گزر کر مسجد وزیر خان کے پاس سے گزرتے ہوئے قبلہ کی سمت سیدھے چلتے جائیں تو آگے جا کر کشمیری بازار کے شروع میں بائیں جانب ایک بازار نظر آئے گا

31 اکتوبر 1929
یوم شہادت غازی علم دین شہید
پنجابی ،رنگین تاریخ نمائش 5 ستمبر 1978

تحریر و تحقیق : ساجد آرائیں

لاہور کے دلِی دروازے سے گزر کر مسجد وزیر خان کے پاس سے گزرتے ہوئے قبلہ کی سمت سیدھے چلتے جائیں تو آگے جا کر کشمیری بازار کے شروع میں بائیں جانب ایک بازار نظر آئے گا جسے بازار تزابیاں کہتے ہیں۔ اس بازار سے گزرتے جائیں تو سریاں والا بازار آ جائے گا جس میں کوچہ چابک سواراں محلہ کڑہ چیتے والا میں ایک غریب ترکھان طالع مند رہتا تھا. طالع مند کے گھر ایک بیٹا علم دین پیدا ہوا جس نے عشق رسول اور حرمت پیغمبر پر جان کی قربانی کی ایک ایسی داستان رقم کی جسکی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہے گی ۔

1929 سے قبل یہ بازار بھیڑ بکریوں کے لئے مشہور ہوتا تھا لیکن 1929 کے بعد اس بازار نے وہ پہچان حاصل کی کہ لوگ آج بھی اس بازار کو دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔ طالع مند ایک ترکھان تھا جسکا گھر اسی بازار کے مغربی کونے میں واقع تھا ۔ علم دین نہ تو کوئی عالم دین تھے اور نہ ہی کوئی مشہور یا غیر معمولی صوفی۔ وہ کسی گروہ یا تنظیم کے بھی رکن نہ تھے۔ مگر انکی شہادت اور حرمت رسول پر انکی زندگی کی گواہی نے انہیں وہ مقام عطا کیا جو ہزاروں متقی ، ہزاروں سلاطین اور ہزاروں علما کو بھی نصیب نہ ہوا.. ہندوستان میں انگریزوں کی حکمرانی تھی اور ہندو اپنی عیاری کی وجہ سے انگریزوں کے قریب تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے اور انکے جذبہ ایمانی پر ضرب لگانے کے لئے شدھی اور شنگھٹن تنظیمیں شروع کر رکھی تھیں ۔ ان تحریکوں میں لاہور کے دو ہندو پروفیسر پنڈت چمویتی اور پنڈت چنتا منی پیش پیش تھے ۔ ان تنظیموں کا مقصد مسلمانوں کے پیغمبروں کی شان میں گستاخی کرنا تھا.. ان دو پروفیسروں نے نبی ﷺ کی ازدواجی زندگی کے بارے انتہائی گستاخانہ اور دل آزار کتاب بھی لکھی تھی۔ انکا مقابلہ کرنے کے لئے تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں کا ساتھ چند ہندوؤں نے بھی دیا لیکن جلد ہی یہ مصنوعی اتحاد انجام کو پہنچا اور تحریک خلافت کے ختم ہوتے ہی ہندوؤں نے اس اتحاد کو بھی ختم کر دیا ۔ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لئے آریہ سماجیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ یوں تو وہ پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے لیکن انکا مرکز لاہور میں تھا ۔

انہی دنوں ایسی ہی ایک تنظیم کے رکن راج پال نے 1923 میں ہسپتال روڈ سے ایک انتہائی گستاخانہ کتاب شائع کی۔ راج پال بد بخت ایک کتب فروش تھا اور پبلشر تھا. وہ دیال سنگھ کالج لاہور میں یک اعزازی پروفیسر کے عہدے پر بھی فائز تھا ۔ان حالات میں جب مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تو راج پال کے خلاف 24 مئی 1924 کے دن مقدمہ قائم کیا گیا جس کے تحت ماتحت عدالت نے 18 جنوری 1927کے دن راجپال کو ڈیڑھ سال قید با مشقت اور اور ایک ہزار جرمانہ کی سزا سنائی۔ اتنی بڑی گستاخی کے لئے یہ سزا کسی مذاق سے کم نہ تھی۔ اس پر مزید ستم یہ کہ راج پال نے اس سزا کے خلاف جب سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی تو اسکی سزا میں تخفیف کر کے اسے چھ ماہ قید کر دیا گیا۔ مزید ستم بر آں ہائی کورٹ نے چیف جسٹس شادی لال کی ذاتی دلچسپی کے باعث ملعون راج پال کو 4 مئی 1927 کے دن با عزت بری کر دیا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے مسلمانوں کے جذبات کے الاؤ پر جلتی کا کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانان برصغیر راج پال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس ظلم، جانبداری اور ہٹ دھرمی کے خلاف مسلمانوں نے اپنی جان کی پراہ کئے بغیر راج پال ملعون کو واصل جہنم کرنے کا ایمانی ارادہ کیا ۔ ہندوستان کے مختلف کونوں سے مسلمان لاہورآئے اور گرفتار ہوئے ۔

31 مارچ1929 کی شام غازی علم دین اپنے بھائی کے ساتھ معمول کے کام کاج سے فارغ ہو کر دلی دروازے سے گزر رہے تھے کہ ایک ہجوم نے انکے قدم روک لئے ۔ وہاں پر سید عطا اللہ شاہ بخاری کی تقریر نے مسلمانوں کے دلوں کو لرزہ دیا اور یہ تقریر سننے کے بعد غازی علم دین شہید کی کیفیت عجیب ہو گئی۔ اسی رات خواب میں انہیں ایک بزرگ ملے اور کہا کہ علم دین تم سو رہے ہو ۔تمہارے نبی ﷺ کی شان اقدس کے خلاف کاروایاں ہو رہی ہیں۔

علم دین خواب سے بیدار ہوئے تو چند دن ان کی طبیعت یونہی رہی ۔ کسی پل چین نہ تھا ہر پل جنجھوڑ رہا تھا.. 6 اپریل 1929 کی صبح اس عاشق رسول نے صاف ستھرا لباس زیب تن کیا،خوشبو لگائی ، سر پر گلابی رنگ کا رومال رکھا ، والدہ صاحبہ سے چار آنے وصول کئے اور لنڈا بازار جا کر لوہا مارکیٹ سے تیرہ انچ لمبی چھری خریدی ۔ چھری کو ڈب میں رکھا اور راج پال کی دکان کی طرف چل پڑے۔ راج پال ملعون ابھی دکان میں پہنچا ہی تھا اور اسکے دو ملازم کدار ناتھ اور بھگت رام بھی دکان میں موجود تھے۔ کدار ناتھ دکان کے عقبی حصہ میں مصروف تھا اور بھگت رام راج پال کے پاس ہی کھڑا تھا۔ غازی علم دین شہید دکان میں داخل ہوئے تو راج پال ملعون کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ موت اس کے سر پر پہنچ چکی ہے۔ غازی علم دین نے بجلی کی سی تیزی سے چھری نکالی اور اس بد بخت کے سینے میں گھونپ دی۔ اس ملعون کو واصل جہنم کر کے آپ سیدھے ودیا ناتھ کی ٹال پر پہنچے ۔وہاں کارپوشن کا نلکا چل رہا تھا ۔وہاں پر آپ نے اپنے ہاتھوں کو راج پال کے ناپاک خون سے صاف کیا ۔ اسی دوران انہیں شبہ ہوا کہ کہیں وہ بد بخت زندہ نہ بچ جائے لہٰذا دوبارہ وہ راج پال کی دکان میں گئے تو وہ واقعی واصل جہنم ہو چکا تھا ۔

غازی علم دین شہید گرفتار ہو چکے تھے ۔ آپکی والدہ کے الفاظ تھے کہ اگر میرے سات بیٹے بھی ہوتے اور وہ اسی طرح تحفط ناموس رسالت کے لئے قربان ہو جاتے تو پھر بھی میں اتنی ہی خوش ہوتی جتنی آ ج ہوں۔ مسلمانان برصغیر غازی صاحب کے لئے گھروں سے نکل پڑے ۔ غازی علم دین ڈیفنس کمیٹی بن گئی ۔ سیشن کورٹ میں 22 مئی کے دن غازی صاحب نے بیان دیا کہ شاتم رسول کو میں نے ہی واصل جہنم کیا ہے ۔ اس نابکار راج پال کو میں نے ہی قتل کیا ہے۔ اس کے بعد سیشن جج نے آپ کو سزائے موت کا حکم دیا ۔ بیرسٹر محمد علی جناح ممبئی سے لاہورآئے ۔ فلیٹیز ہوٹل کے کمرہ نمبر 13 میں ٹھہرے ۔ ہائی کورٹ میں غازی صاحب کے وکیل کے طور پر مدلل تقریر کی ۔ لیکن 7 جولائی 1929 کے دن ہائی کورٹ نے بھی سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ بعد ازاں غازی صاحب کو میانوالی جیل منتقل کیا گیا ۔ وہاں پر میاں والی کے لوگوں نے پھولوں کی بارش میں آپ کا استقبال کیا۔ جیل کا عملہ عقیدت سے آپ کے ہاتھ چومتا ۔31 اکتوبر 1929 کے دن آپکو پھانسی دے دی گئی جسکے بعد وہ شہادت کے بلند رتبہ پر فائز ہوئے ۔انکا جنازہ آج تک لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہے جس میں دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی ۔ میانی صاحب قبرستان لاہور میں علامہ اقبال انکو لحد میں اتارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم تو باتیں ہی کرتے رہے اور ترکھانوں کا لڑکا ہم سب پر بازی لے گیا ۔

اس عاشق رسول کی زندگی کے خدو خال نمایاں کرنے کے لئے اور حرمت رسول پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اس ایمان افروز واقعہ کی یاد تازہ کرنے کے لئے فلمساز و ہدایتکار حیدر نے خود کو مرکزی کردار میں کاسٹ کرتے ہوئے ستر کی دہائی میں فلم ”غازی علم دین شہید“ بنائی۔ حیدر نے ہدایتکاری کے ساتھ ساتھ فلم میں غازی علم دین شہید کا کردار بھی بخوبی نبھایا ۔ ایک کمرشل فلم کے طور پر اگر اس فلم کے جزیات کا جائزہ لیں تو یہ ایک مرکزی کردارں کے ساتھ ساتھ مہمان اداکاروں کی زبردست کردار نگاری سے سجی فلم ہے۔ مرکزی کرداروں میں حیدر کے علاوہ نوین تاجک ، علی اعجاز، حبیب ، مسعود اختر،بہار بیگم اور افضال احمد کے ساتھ ساتھ مہمان اداکاروں بدر منیر، اقبال حسن ، عالیہ، نجمہ ، قوی خان، آصف خان اور الیاس کشمیری نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ حبیب نے غازی علم دین شہید کے والد طالع مند کا کردار انتہائی خوبصورتی سے نبھایا تو افضال احمد نے بھی راج پال کے کردار میں زبردست تاثرات قائم کئے ۔قوی خان نے بیرسٹر محمد علی جناح کا کردار ادا کیا ۔ سیماں بیگم بھی ایک سین میں نظر آئیں جنہوں نے عبدالعزیز کی زوجہ کا کردار نبھایا۔ الیاس کشمیری فرنگی کے روپ میں نظر آئے جبکہ آصف خان نے جیلر کا مختصر کردار ادا کیا۔ فلم کے ایک سین میں جب حیدر اپنے مقصد میں کامران ہو کر جیل میں داخل ہوتا ہے اور جیل میں بدر منیر اور اقبال حسن جس طرح حیدر کا استقبال کرتے ہیں بے حد شاندار طریقے سے فلمبند کیا گیا ۔

اس حساس موضوع کو جناب حزیں قادری کے سوا کوئی بھی پردہ اسکرین کے لئے نہیں ڈھال سکتا تھا لہٰذا فلم کی کہانی، ربط اور نغمہ نگاری کے لئے جناب حزیں قادری کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے فلم کے لئے شاندار شاعری کی۔ ’’لکھ عیب مینوں، اکو صفت میری ، کراں عشق محمد‘‘ اور’’ بندیا ۔۔۔ نبی تے رکھ ایمان ‘‘جیسا نعیتہ کلام لکھ کر فلم کو چار چاند لگائے۔ فلم کی موسیقی کا ذکر کیا جائے تو یہ ماسٹر عبداللہ کی سحر انگیز موسیقی سے سجی البم تھی۔ خاص طور پر ایک گیت ’’دل لائیے نا۔۔۔ عشق گل پائیے نا‘‘ اس قدر شاندار اور مشکل ترین دھن رکھتا ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔ ماسٹر عبدا للہ کی دھن اور مہناز کی آواز میں یہ گیت ا انتہائی شاندار ہے۔ خاص طور پر انتروں میں یہ دھن اس قدر مشکل ہو جاتی ہے کہ مہناز کو سانس لینے کا بھی موقع نہیں مل پا رہا۔ اگر غور سے سے اس گیت کو سنیں تو یہ حقیقت آ شکار ہوتی ہے کہ مہناز نے انتہائی مہارت سے اس دھن کو سنبھالا اور ایک لمحے کے لئے بھی سُر سے باہر نہیں ہوئیں۔ انتہائی مشکل دھن کے باوجود مہناز کا یہ گیت انکی خداداد صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور مہ ناز ایک انٹرویو میں یہ کہہ بھی چکی ہیں کہ انہیں ماسٹرعبداللہ کی موسیقی میں گانا گانا ہمیشہ ایک چیلنج رہا۔ وہ بہت مشکل میں ڈال دیتے اور انکی موسیقی پر گانا بلاشبہ ایک اعزاز کی بات ہے اور سند جیسی اہمیت رکھتا ہے کہ انکی دھن پر گانا گانا کسی بہت بڑے امتحان میں سرخرو ہونے کے مترادف ہوتا

’’غازی علم دین شہید‘‘ کے نام سے ایک اور فلم 24 مئی2002 کے دن ریلیز ہوئی جس میں مرکزی کردار معمر رانا نے ادا کیا۔ اس فلم کے ہدایت کاررشید ڈوگر تھے ۔ یہ ایک غیر معیاری اور ناقص ہدایتکاری کا نمونہ فلم تھی ۔فلم کے اختتامی مناظر کے علاوہ اور کوئی بھی منظر نامہ فلم بینوں کو متاثر نہ کر سکا ۔ غلام محی الدین اور شفقت چیمہ کے علاوہ کوئی بھی اداکار اپنے کردار سے انصاف نہ کر سکا۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں نور ، صائمہ ، سعود ،نرما ، نغمہ، بدر منیر، طارق شاہ، راحیلہ آغا اور عاصم بخاری شامل تھے ۔ یہ فلم کسی بھی طور پر اپنے موضوع کے شایانِ شان نہیں تھی۔

آج غازی علم دین شہید کا یوم شہادت ہے, 90 سال بیت چکے ہیں لیکن یہ ایمان افروز واقعہ آج بھی جذبہٰ ایمانی کو گرماتا ہے, رب کریم سے غازی علم شہید کے بلندی درجات کے لئے , ایصال ثواب کی استدعا ہے..

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top