Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

مڈ لائف کرائسس – اُدھیڑ عمری کی اُدھیڑ بُن ۔ حصہ اول 

مڈلائف کرائسس - ادھیڑ عمری کی ادھیڑ بن تعارف ، علامات، عمومی اثرات ، صنفی تقابل ، اور اس سے نمٹنے کی تراکیب

مڈ لائف کرائسس یعنی ادھیڑ عمری کا سیاپا کیا ہوتا ہے ؟


کتابی زبان میں میں مڈلائف کرائسس کا مطلب ہے ،

ایک مخصوص عمر کے بعد ، خودشناسی ، شناخت، اور اعتماد کا کوچ کرجانا ، یا کم ہوجانا ، اور اس کی جگہ ، بےچینی یا مایوسی کا ڈیرا ڈال لینا
مڈ لائف کرائسس کہلاتا ہے

اسے کچھ لوگ  .
‘اب اس عمر میں کیا ہوسکتا ہے یا

ابھی تو میں جوان ہوں  ”

کہہ کر بھی پکارتے ہی

 

مڈلائف کرائسس کس عمر میں ظاہر ہوتا ہے  ؟


مڈ لائف کرائسس یعنی  ادھیڑ عمری کی سے شروع ہونے والی یہ ذہنی  ادھیڑ بن

پینتیس سے پچپن سال یا چالیس سے پینسٹھ سال کے دوران وقوع پذیر ہوتی ہے

عمومی /فطری اثرات، علامات اور ان کا اظہار۔


یہ ضروری نہیں ، کہ اس کیفیت کے اثرات ہر کسی پر بہتات کے ساتھ طاری ہوں۔ اور درج ذیل علاما ت ، قطع نظر صنف ، کسی پر زیادہ ہوتے ہیں ، اور کسی پر کم ، اور کسی پر بالکل بھی نہیں ، یہ منحصر ہے اس بات پر کہ ، مڈ لائف کرائسس تو سب پر آتا ہے ، کیوں کہ اس عمر سے گزرتے سب ہی ہیں ، لیکن اس عمر کے مخصوص مرحلے میں ، طاری ہوجانے والی ، ڈپریشن اور مایوسی ، یا بے چینی کا اظہار کیسے ہو رہا ہے ، یہ ہوتی ہے اصل چیز ،
اب چونکہ ، کچھ افراد پر مڈ لائف کرائسس ، مخصوص عمر کے دوران ، بے چینی اور مایوسی بن کر اترتا ہے
اس دوران وہ ، نئے نوکریاں ، نئی ذمے داریاں لینے کے لیے پر جوش ہوتے ہیں تاکہ خود کو یہ باور کروا سکیں ، کہ ابھی مزید کچھ سال ان کی افادیت کے باقی ہیں ۔

ماہرین نفسیات کے مطابق

مڈ لائف کرائسس

خواتین اور مرد حضرات ، دونوں پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتا ہے

صنفی تقابل ، یعنی مرد/ عورت پر اس کے اثرات و علامات کا جائزہ۔


خواتین پر اس کے اثرات


عورتیں اس ایج رنج میں ، رجونورتی ، یعنی مینوپاز کے مرحلے میں داخل ہوجاتی ہیں ، مینوپاز ، آسان زبان میں ، عورتوں کے مخصوص ایام کی مدت بہت مخصوص رہ جانا – اور یہ انہیں پتا ہونا کہ اب چراغوں میں روشنی کے لیے تیل کم رہگیا ہے ۔
سب نہ سہی پر اکثر اوقات ، جن عورتوں کو اس کیفیت کا ادراک نہ ہو کہ یہ بھی ، مڈ لائف کراسئس کا ایک حصہ ہے ، وہ اپنی ناقص العقلی سے اس دور کو
بے کششی پر منطبق کر کے ، درج ذیل مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں ۔

ایسی عورتیں ، کٹ کھنی مرغی کی مانند ہوجاتی ہیں
یعنی ذرا ذرا سی بات محسوس ہونا
اور ہر کسی سے الجھ پڑنا
خود کی وقعت جتاتے چلے جانا ، جبکہ ضرورت بھی نہ ہو۔
اپنے وجود کو مقدم رکھنے اور اس کا برملا اظہار کرتے چلے جانے کی کوشش کرنا۔
بوڑھی گھوڑی لال لگام کا محاورہ شاید ایسے ہی وجود میں آیا ہے

مردحضرات پر اس کے اثرات۔


خود کو زیادہ پرجوش ، جوان ، یا  ایسے  کاموں کی طرف زیادہ مائل کرلیتے ہیں جن سے جوانی چھلک رہی ہو۔

حتی کے زیادہ ذمے داریاں لیتے ہٰیں تاکہ خود کو جوان سمجھیں اور ابھی تو میں جوان ہوں کا عملی نمونہ ثابت کریں

بڈھا گھوڑا لال لگام کہہ لیں

لیکن دونوں صورتوں میں ، کم ہی افراد کو ادراک ہوتا ہے کہ ہم اس مرحلے سے گزر رہے ہیں اس لیے ایسے بی ہیو کر رہے ہیں

اور ضروری بھی نہیں کہ , ہر کوئی اس مڈ لائف کرائسس کا زیادہ اثر لے ۔

یہ مڈلائف کرائسس کا بنیادی جز ہے ، اس میں حد سے زیادہ جوش اور مایوسی ، دونوں ہی ، علامات ہیں اس بحران کی۔

مڈ لائف کرائسس پر اس تفصیلی مضمون کے دوسرے حصے میں ہم آپ کو بتائیں گے

مڈ لائف کرائسس کی  وہ عمومی علامات جو کہ صنفی تفریق سے ہٹ کر ہیں ، یعنی مرد اور عورتوں  پر یکساں لاگو ہو سکتی ہیں ۔

 

زوہیب اکرم

کراچی کے رہائشی اور سند یافتہ انجینئر ہیں ۔لیکن لکھنے پہ آئیں تو ان کا قلم ایسے لفظ لکھتا ہے جو پڑھنے والے کو نوچنے اور دبوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔شخصیت الفاظ ہی کی طرح ذومعنی ہے جو الجھاو کے ساتھ تال میل کرکے ایک منفرد سراپے کو جنم دیتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top