Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

بچوں کاادب اور ہم

بچوں کہ ادب کا نا صرف معیاری ہونا بلکہ بچوں کی پہنچ میں ہونا ضروری ہے اردو ادب میں شائع ہونے والی بچوں کی کہانیاں ہماری آنے والی نسل کی اخلاقی اور اسلامی خطوط پر پرورش کر سکتیں ہیں جن کہ ذریعے ہم ایک مضبوط اور مستحکم نسل کو پروان چڑھا سکتے ہیں بس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پہ سنجیدگی سے کچھ مناسب اقدامات کیے جائیں۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے کلک کریں ۔۔۔

اردو ادب کے ایک مشکل شعبے ، بچوں کے ادب کے بارے میں صہیب جمال کی تحریر

اردو ادب  کا ایک مشکل شعبہ ، بچوں کا ادب ، بچوں کے ادب کے زمرے میں  شایع ہونے والا مواد تعداد میں چاہے کم ہو مگر اسبات سے انکار نہیں کہ بچوں کہ ادب میں شائع ہونے والی کہانیاں معیاری اور تفریح سے بھرپور ہوتی ہیں اس لیے اردو ادب میں بچوں کہ ادب کو ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے بچوں کہ ادب کہ لیے شائع ہونے والی کہانیاں بچوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں اسی سلسلے میں صہیب جمال کی تحریر گفتگو ڈاٹ پی کے قارئین کہ لیے


بچوں کاادب اور ہم

تحریر: صہیب جمال

دنیا بھر میں بچوں کے ادب پر بے انتہا توجہ دی جاتی ہے ، یہ سمجھ لیں کہ بچوں کی رنگین کتب و اسٹوریز بک جو آٹھ دس بارہ سولہ بتیس صفحوں پر مشتمل ہوتی ہے ایک بالغان کی سو اور دو سو صفحات کی کتب سے مہنگی ہوتی ہیں ، اس کو ڈیزائن کرنے والے اس کو چھاپنے والے اچھی خاصی رقم اس پر خرچ کرتے ہیں ، اس کے رائیٹر مہنگے ہوتے ہیں ، کیونکہ ان کتب و رسائل کو دلچسپ بنانا ہوتا ہے ۔
آپ کسی وقت فرصت سے عربی ، ترکی ، فارسی ، انگریزی ، مختلف ہ
یورپئینز ممالک کے بچوں کے ادب کو سرچ کریں اس میں آپ کو نت نئے آئیڈیاز اور کتب کی ان گنت فہرست نظر آئے گی ۔
اردو جہاں تک اپنے اندر ایک وسیع ادب و سخن رکھتی ہے مگر بچوں کے ادب میں دوسری زبانوں کے مقابلے میں نہایت ہی کم مواد آپ کو ملے گا ، اردو میں بچوں کا ادب زیادہ تر دوسری زبانوں کے تراجم ہی ملیں گے ۔
ہاں بچوں کے ادب میں اردو زبان نے ماہانہ رسائل اور مختلف اخبارات میں بچوں کے صفحہ نے بہت کام کیا ہے ، ایک زمانے میں ہونہار ، نونہال ، ساتھی ، آنکھ مچولی ، ٹوٹ بٹوٹ ، پھول ، بچوں کی دنیا ، بچوں کا رسالہ ، کلیاں ، مجاہد ، بچوں کا اسلام ، پیغام ڈائجسٹ جیسے رسائل بازاروں میں بچوں کے لیے دستیاب ہوتے تھے اور والدین باقاعدہ ماہانہ کی بنیاد پر بچوں کو لا کر دیا کرتے تھے ۔
ہمیں بھی ان رسائل سے پڑھنے کا شوق بڑھا ۔
پھر اشتیاق احمد ، اے حمید ، جیسے ادباء نے مستقل بنیادوں پر ناولز و سلسلہ وار تحاریر و کتب کو جاری رکھا ۔
یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ سننے اور دیکھنے سے بچے زیادہ اچھا سیکھتے ہیں ، مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ پڑھنے اور کتب کے صفحات پلٹنے سے بھی بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے ، املا و لغت بہتر ہوتا ہے ، حاشیہ و سطور سے آشنا ہوتا ہے پھر پڑھ کر اس کو تصور میں لانے سے دماغی صلاحیت بڑھتی ہے ۔
کیونکہ اب تو اینڈروئیڈ کا دور ہے ایک دباؤ پر اپلیکیشنز دستیاب ہیں تو بچوں تک تفریحات کی آسان رسائی موجود ہیں ، اچھا برا ہر طرح کا مواد بھی موجود ہے ، لبرل سیکولر والدین بھی اپنے بچوں کو اخلاق باختہ چیزوں سے دور رکھتے ہیں وہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے بچے بے راہ روی میں مبتلا ہوں ان کی بیٹی بہن ویلنٹائن میں کوئی تحفہ لائے ، مگر کب تک بچوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے ، دیکھنے اور سننے والا ادب بہرحال ایک خطرہ ضرور ہے ۔
حکومتی سطح پر بچوں کے ادب کو فروغ دیا جائے ، یو ایس ایڈ سے حاصل رقم سے آپ بچوں کے ادب کو مثبت سوچ نہیں دے سکتے ان کے اپنے مقاصد ہیں ، سالانہ دو کروڑ جو کہ دو تین دوروں کے اخراجات ہیں اس رقم سے بچوں کے ادب کو عام کیا جاسکتا ہے ، بچوں میں اخلاقیات کو فروغ دیا جاسکتا ہے ان میں شہری ذمہ داری اجاگر کی جاسکتی ہے ، تبدیلی کے حقیقی خواب کو تعبیر دی جاسکتی ہے ، مدینہ کی ریاست کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے ، ایک ایسی نسل تیار کی جاسکتی ہے جس میں کرپشن نہیں خودّاری پیدا ہوگی ، جن میں سکون ہوگا اطمینان ہوگا ۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کے ادب کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے بچوں کے ادب کو فروغ دیا جاتا ہے پہلے کوئی ناول گھر گھر جاتا ہے پھر اس پر تھری ڈی ، ٹو ڈی یا فیچر فلم تشکیل دی جاتی ہے اور وہ اربوں روپے کا بزنس کرتی ہیں اس رقم سے مزید بہترین اور شاہکار بچوں کا ادب تخلیق ہوتا ہے ۔
یہ تحریر اس درد کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ میں پچیس سال پہلے بچوں کے لیے لکھنا چھوڑ چکا ہوں ان شآ اللّٰہ پھر سے رسائل کے لیے لکھوں گا اور پہلے سے بہتر لکھنے کی کوشش کروں گا ، تعمیری و نظریاتی ۔


اپنی رائے سے کمنٹ باکس میں آگاہ کریں اور کلک کریں ” بچوں کی تربیت کے حوالے سے اہم گزارشات “ پر اور صہیب جمال کی مزید تحاریر پڑھنے کیلئے کلک کریں ” مزاح ” سیکشن پر

صہیب جمال

بچوں کے ادب سے بچپن میں منسلک رہا ، بچوں کے رسالے ماہنامہ ساتھی کا ایڈیٹر بنا ۔ پھر اشتہارات بنانے لگا ، ڈرامے لکھے ، پولیٹیکل سٹائر لکھے ، پھر لکھتا چلا گیا ، فیس بک آگئی اب مفت میں لکھ رہا ہوں ۔ اب خواب پر گذارا ہے اور خوابوں کا سہارا ہے سارا ماضی اور خواہشات خواب میں بیان کردیتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top