Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

بچوں کا جنسی استحصال , وجوہات اور، اقدامات

ہمارے معاشرے کا آجکل کا سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ بچوں کا جسمانی استحصال ہے.. معاشرتی بےراہ روی کی بڑی وجہ پورن ویب سائٹس ہیں جو فی زمانہ ایک کلک کی پہنچ میں ہیں بچوں کا جنسی استحصال ایک ایسا خطرناک مسئلہ بن کہ سامنے آ رہا ہے جو والدین کا اعتماد قریبی رشتوں سے بھی ختم کرتا جا رہا ہے۔۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔۔

بچوں کے جنسی استحصال بڑی وجہ ، پورن ویب سائٹس، فحش ویب سائٹس مواد ہے

ہمارے معاشرے کا آجکل کا سب سے بڑا اور خطرناک مسئلہ بچوں کا جسمانی استحصال ہے.. معاشرتی بےراہ روی کی بڑی وجہ پورن ویب سائٹس ہیں جو فی زمانہ ایک کلک کی پہنچ میں ہیں بچوں کا جنسی استحصال ایک ایسا خطرناک مسئلہ بن کہ سامنے آ رہا ہے جو والدین کا اعتماد قریبی رشتوں سے بھی ختم کرتا جا رہا ہے بچوں کا جنسی استحصال کی بڑی وجہ پورن ویب سائٹس جو معاشرے میں بےراہ روی پھیلانے کا بڑا سبب ہیں پھر ایسا کیاکیا جاۓ جو بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام اور پورن ویب سائٹس کہ خاتمے کہ لیے معاون و مددگار ثابت ہو سکے معاشرتی بے راہ روی کہ سدباب کہ لیے کیا ضرورت کس امر کی ہے اور بچوں کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کہ لیے بحیثیت ذمہ دار شہری اور والدین ہم کیا کر سکتے ہیں پڑھیے کچھ حقائق سے پردہ اٌٹھاتی تحریر!!


جب والدین کی توجہ اپنی اولاد سے ہٹ جاتی ہے تو دوسرے لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

بچہ مدرسے یا اسکول تو بعد میں جاتا ہے، اکثر بچے اپنے سے بڑے کزن، کوئی دور کے خالو پھپھا جیسے رشتوں سے ہی متاثر ہو چکے ہوتے ہیں اور یہ اس عمر کی بات ہے جن میں شاید بچوں کو علم بھی نہ ہو ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

میرے نزدیک والدین کی عدم توجہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے، گھر میں قیمتی چیز رکھی ہو تو دن میں کئی بار اس کمرے میں جانا پڑ جاتا ہے، یہ تو اولاد ہے، اس کو کسی کے آسرے پہ چھوڑنا ہی دعوت نامہ ہے۔

اب آجائیں گھر سے باہر ہونے والے جنسی استحصال کی طرف، جب بچہ باہر جائے تو اس پر والدین کی نظر ہر وقت نہیں ہو سکتی تو اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کسی بھروسے والے انسان کو آپ اپنا بچہ حوالے کرو کہ وہ اس کا خیال رکھے۔ اب یہاں یہ کہنا جب رشتہ داروں کا کوئی بھروسہ نہیں تو باہر کے لوگوں پہ کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس مسئلے سے بڑا مسئلہ ہے۔

**********

یہ تو ہوگئےوہ مسائل جن سے والدین آئے دن ایک ٹینشن میں رہتے ہیں، اب اس کا حل کیا ہے؟ اور اس بیماری کو معاشرے سے کیسے ختم کیا جائے؟

جواب سیدھا سا ہے Kill the fantasy,ایک لفظ Fantasy جس کا شکار اکثر وہ لوگ ہوجاتے ہیں جو زیادہ تر پورن ویڈیوز دیکھتے ہیں، اس طرح کی ویڈیوز دیکھنے والوں کی اگر شادی بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ باز نہیں آتے کیوں کے آئے دن ایک نئی چیز انہیں نظر آتی ہے جسے وہ چاہتے ہیں کسی کے ساتھ پریکٹیکلی کیا بھی جائے۔

سب سے پہلے تو پورے ملک میں ہر طرح کی فحش ویب سائٹس کو بلاک کیا جائے، اسوقت جو PTA نے بلاک کی ہوئی ہیں وہ کافی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کے ذریعے کھولی جا سکتی ہیں تو یہ پابندی ناکافی ہے۔ دوسرا وی پی این کے ذریعے تو اور بھی آسان۔

اس کے علاوہ کافی ساری فیسبک کے طرز پہ سوشل ایپس Social apps ہیں جہاں آئے دن نئی نئی پورن موویز اپلوڈ ہوتی ہیں اور ان Apps کی طرف سے ایسی کوئی Restriction Policy نہیں جس سے ان ویڈیوز کو ہٹایا جائے جیسے عموما فیس بک کرتا ہے۔

یہاں سب سے پہلے PTA کو چاہیے ان سب چیزوں پہ سختی سے عمل شروع کردے، جب جڑ ہی کاٹی جائے گی تو باقی چیزیں بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جائیں گی۔

پس تحریر: بچوں کی استحصال میں سب سے زیادہ جو لوگ ملوث پائے گئے ہیں وہ شادی شدہ افراد ہیں جو شاید اپنی ازدواجی زندگی سے ناخوش ہیں یا پھر Fantasies کی دنیا میں رہتے ہیں۔


پورن ویب سائٹس.. بچوں کا جنسی استحصال اور معاشرتی بے راہ روی یہ سارے مسائل ایک دوسرے سے جُڑے ہیں انٹرنیٹ کا غلط اور فحش مواد کو سرچ کرنے کے لیے استعمال جہاں معاشرے میں گوناگوں مسائل کو جنم دے رہا ہے وہیں عام انسان اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کہ نفسیاتی دشواریوں کا سامنا کر رہا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کہ لیے کونسے اقدامات سودمند ثابت ہو سکتے ہیں اپنی رائے سے آگاہ کیجئے اور کلک کریں “سماجی اصلاحات “ سیکشن پر

دانش احسن لوہار

دانش احسن لوہار پہلے از دانست کہ نام سے رقمطراز تھے . موویز کو ناقد کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور قارئین کہ لیے اُس پہلو کو ڈھونڈ کہ لاتے ہیں جو موویز دیکھنے والوں کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے ایسا پہلو جو عموماً ہماری زندگی میں شامل رشتوں اور رویوں سے جُڑا ہوتا ہے...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top