Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

کیا ہم درندوں کی بستی میں ہیں ؟

آجکل آئے دن سننے میں آتا ہے کہ ننھے پھول زیادتی کے بعد قتل کر دئیے گئے۔ایسی خبر سنکر سنگدل سے سنگدل شخص بھی تڑپ جاتا ہے۔ یہ سب اب اتنے تواتر سے ہو رہا ہے کہ لگتا ہے شاید ہم درندوں کی بستی میں بستے ہیں. ہمارے اندر انسانیت ختم ہو گئی ہے۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔۔

بچے عطیہُ خداوندی ہوتے ہیں۔ ہماری ساری زندگی بچوں کے لئے ہی کمانے کی فکر میں گزرجاتی ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے بچوں کو وہ چیز مہیا کر رہے ہیں جو اسکی اس وقت انکی اہم ترین ضرورت ہے۔ اور وہ ہے والدین کی مکمل توجہ اور وقت۔
آجکل کےوالدین بچوں کو توجہ نہیں دیتے۔ انکا خیال نہیں رکھتے انکی ضروریات زندگی تو پوری کرتےہیں ، انکو ہر قسم کی سہولیات مہیا کرتے ہیں، دنیا جہاں کی آسائشیں انکے قدموں میں ڈھیر کرتے ہیں، لیکن اپنا وقت انکو نہیں دیتے۔آج کا بچہ آپکے وقت کا محتاج ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کوبظاہر توجہ نہیں دیتے تھےلیکن انکی بچوں کے ہر فعل پر گہری نظر ہوتی تھی۔ انہیں اپنے بچوں سےمتعلق تمام معاملات کے بارے میں علم ہوتا تھا۔ وہ کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں وغیرہ ۔ دوسرا اسوقت جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا تھا جسمیں اگر والدین کی توجہ بچے سے بٹتی بھی تھی تو دادا دادی، چچا تایا، پھپھو وغیرہ بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ یوں بچے کو بھی یہ خوف رہتا تھا کہ اسکے اوپر اتنی نظریں گڑی ہیں۔ وہ محتاط زندگی گزارتا تھا ۔انکی اجازت کے بغیر کہیں آگے پیچھے نہیں ہوتا تھا ۔ کوئی ایسی بات جو گھر والوں کی ناراضگی کا باعث بنتی تھی، اس سے گریز کرتا تھا۔ لہذا اُسوقت کے بچے میں ایک احساسِ ذمہ داری ہوتا تھا ۔جو آجکل کے بچوں میں عموماً مفقود ہے۔
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ آجکل آئے دن سننے میں آتا ہے کہ ننھے پھول زیادتی کے بعد قتل کر دئیے گئے۔ایسی خبر سنکر سنگدل سے سنگدل شخص بھی تڑپ جاتا ہے۔ یہ سب اب اتنے تواتر سے ہو رہا ہے کہ لگتا ہے شاید ہم درندوں کی بستی میں بستے ہیں. ہمارے اندر انسانیت ختم ہو گئی ہے۔ ہم صرف جنسی درندے بنکر رہ گئے ہیں۔ نفسیاتی و ذہنی طور پر لوگ اتنے مفلوج ہو گئے ہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ محرم نا محرم کا فرق ہی نہیں جان پا رہے۔ ذہنی پستی اپنی انتہاوُں کو چھو رہی ہے۔ اس سارے میں معصوم بچوں کا کیا قصور ۔ وہ کیسے ان درندوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جبکہ قدم قدم پہ جنسی بھیڑیئے اپنے ناپاک ارادے لئے کھڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کس طریقے سے ان سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کریں اور کس طریقے سے ان معصوموں کو ان وحشیوں سے بچا کے رکھیں۔
پہلے تو میں بات کرونگی ان درندوں کی کہ کیسے وہ اس درندگی پر آمادہ ہوتے ہیں اور کیا محرکات ہیں اس سب کے پیچھے؟
یہ عام طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ناآسودہ خواہشات کا بدلہ یہ قبیح فعل کرکے ، لیتے ہیں۔کچھ ایڈونچر کے طور پر ایسی حرکت کرتے ہیں ۔ کچھ ذہنی پستی اور گراوٹ کی انتہا پر پہنچ کر اپنی چند لمحوں کی بھوک مٹانے کے لئے اس بہیمانہ فعل کو انجام دیتے ہیں۔ کچھ نفسیاتی طور پر ، کچھ انتقام کے طور پر۔ دراصل جتنے لوگوں کا اور جن محرکات کا میں نے ذکر کیا یہ دراصل غیر انسانی رویے ہیں۔ ان لوگوں میں جانوروں کی خصلت ہے لیکن جانور بھی اتنا غلیظ نہیں ہوتا جتنے کہ یہ لوگ۔ جبتک ان گرے ہوئے لوگوں کو عبرتناک اور شرعی سزا نہیں ہو گی یہ گندا کھیل جاری رہے گا۔شرعی سزا کی جو تاویلات ہمیں حدیث و فقہ میں ملتی ہیں ان پر ظاہر ہے عمل اتنا آسان نہیں ۔ایک سخت ترین مرحلہ ہے گواہوں کا لانا اور سچی گواہی دینا لیکن میڈیکل سائنس نےاب اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ ہر بات کا ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
میں حیران ہوتی ہوں کہ لوگ جانتے بوجھتے ایسے لوگوں سے کیسے تعلق کو نبھا سکتے ہیں۔ مجھے تو سنکر گھن آتی ہے اور انکو ان سے بات کرنے پر بھی کراہت نہیں آتی۔ ایسے لوگ سر عام پھانسی کے مستحق ہیں۔اور اب اسپر اسلامی نظریاتی کونسل اور قانون سازوں کو مل بیٹھکر کوئی سزا تجویز کرنی ہوگی۔
اب میں دوسری بات کی طرف آتی ہوں کہ ان واقعات میں تواتر کیوں آرہا ہے اور کس طبقے میں زیادہ ہے۔ زیادہ تر یہ واقعات لوئر مڈل کلاس میں ہوتے ہیں جہاں باپ فکر معاش میں مبتلا ہوتا ہے اور مائیں چولہا چوکی کی فکر میں سر گرداں ہوتی ہیں۔ بچوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جو انکا حق ہے۔ اسطرح کے واقعات زیادہ گلی محلے میں کھیلنے والے بچوں کیساتھ پیش آتے ہیں جنہیں کوئ بھی بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ جانے پہ آمادہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں زیادہ تر جاننے والے ہی ملوث ہوتے ہیں۔ بعض اوقات محرم رشتے بھی ہوتے ہیں جو ذہنی پستی کی انتہا ہے۔
اپر کلاس میں ایسے واقعات میں زیادہ تر نوکر، ڈرائیور، خانساماں، مالی وغیرہ ملوث ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھی صاب لوگ پیسہ بنانے میں لگے ہوتے ہیں اور بیگمات سماجی رابطے بنانے میں ۔ لہذا انکے بچے نوکروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور وہی انکے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں۔ وہاں پہ عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا لیکن بچوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔انہیں اور انکے والدین کومارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
دونوں طبقوں میں دیکھیں تو بے توجہی اور لاپرواہی ہی سبب بنتی ہے۔لہذا والدین اور رشتہ داروں کو بہت زیادہ چوکس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین سے یہی گزارش کرونگی کہ. خدارا اپنے بچے کوچاہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی نوکروں کیساتھ ، رشتہ داروں کیساتھ ، حتیٰ کہ ٹیوٹرز اور قاری کیساتھ بھی تنہا نہ چھوڑیں۔اکیلے باہر نہ بھیجیں۔ آپکی تھوڑی دیر کی غفلت آپکے بچے کی جان لے سکتی ہے ۔

اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لیں، لالچ میں نہ آئیں، ہر ایک کے ساتھ چل نہ پڑیں۔ ہر بات والدین سے یا بڑے بہن بھائیوں سے شیئر کریں۔ ڈریں نہیں جھجکیں نہیں ۔چار سال سے چھوٹی عمر کے بچے کو سمجھایا نہیں جا سکتا لیکن ان پہ نظر رکھی جاسکتی ہے۔ زیادہ واقعات اسی عمر کے بچوں کیساتھ ہوتے ہیں۔اور والدین کی لاپرواہی کیوجہ سے ہوتے ہیں جتنے بھی واقعات اٹھائیں جیسے زینب کا واقعہ۔ تو اسمیں والدین خود موجود ہی نہیں تھے ملک میں اور بچوں کو رشتے داروں کے آسرے پر چھوڑ کر گئے تھے۔ اسی طرح فریال کے واقعے میں بھی لاپرواہی سامنے آتی ہے کہ والدہ کو خبر ہی نہ ہوئی اور بچی دادا کے پیچھے باہر نکلی۔ نہ ماں کو پتہ لگا نہ دادا کو۔ اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہورہے ہیں ۔ روزانہ ہی کچھ سننے کو ملتا ہے۔ ہری پور کا واقعہ، گلیات کا واقعہ، نوشہرہ کا واقعہ، مردان کا واقعہ۔ کس کس واقعے کا ذکر کروں دل خون کے آنسو روتاہے۔ ایسے لوگوں کے راضی نامے کرانے والے ان سے بھی بڑے گنہگار ہیں جو اس گناہ پر پردہ ڈالتے ہیں۔ وہ بھی انکے گناہ میں برابر کے شریک ہوئے پھر تو ۔شاید میں کچھ زیادہ تلخ ہو گئی ہوں۔ لیکن روزانہ کی بنیادوں پر جب ایسی خبریں سننے کو ملیں تو بندہ تلخ بھی ہو حاتا ہے اور زمیں میں گڑ جانے کو بھی جی چاہتا ہے کہ وہ کیونکر ان درندوں کو ، وحشیوں کو روک سکتے ۔ اگر ان لوگوں کو قانونی طور پر سزا نہیں ملتی تو الگ بات ہے لیکن اللہ ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور کرتا بھی ہے۔
اللہ کریم ہمارے سب بچوں کی حفاظت فرمائے اور ان شیطانوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کمنٹ باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔۔

آمنہ سردار

گلیات کی نمائندہ ایک ایسی ثابت قدم عورت جو دوسروں کے حقوق کے لئےڈٹ کر کھڑی ہوتی ہےاپنا نفع نقصان کی پروا کئے بغیر ۔ایک کھلی کتاب کی مانند جسکا ورق ورق واضح ہے ۔ جو اپنی پسماندہ عورت کے حق کے لئے سرگرداں ہے قلم سے بھی اور عملی طور پر بھی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top