Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر ایک نظر

اب ہر کوئی محض ایک سٹیٹس، ایک ٹویٹ، ایک تصویر یا، ایک وڈیو کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک اپنی بات چند منٹس کے اندر پہنچاسکتا ہے ۔ اور یہی بات اس کا مثبت پہلو بھی ہے اور منفی پہلو بھی ۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

لبنی نورین

اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کی تمنا انسان کی سرشت میں ابتدائے آفرینش سے ہی یے ۔ اسی لئے رائے کے اظہار کے مناسب طریقے کو انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے ۔
آغاز سے ہی انسان اپنے خیالات و احساسات کے اظہار کے لئے مختلف ذرائع کا، استعمال کرتا آرہا ہے ۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی شکل و ہیت بدلتے رہے ہیں اور ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق رنگ و نوعیت بدلتے رہے ہیں ۔
آج کے جدید دور میں اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچانے کیلئے سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے ۔ یی ایک آسان، موثر اور سستا میڈیم ہونے کی وجہ سے یر شخص کی پہنچ میں ہے ۔ اب ہر کوئی محض ایک سٹیٹس، ایک ٹویٹ، ایک تصویر یا، ایک وڈیو کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک اپنی بات چند منٹس کے اندر پہنچاسکتا ہے ۔ اور یہی بات اس کا مثبت پہلو بھی ہے اور منفی پہلو بھی ۔۔۔۔۔
سوشل۔میڈیا کی طاقت سے لوگ پہلے آگاہ نہیں تھے لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کو ادراک ہوا کہ اس پلیٹ فارم کی طاقت کے آگے ٹی وی سکرینز، روزنامے ، ہفت روزے اور ماہنامے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔
سوشل۔میڈیانے دنیا کو، ایک گلوبل ویلیج بنادیاہے اگر یوں کہہ لیا، جائے کہ ایک مٹھی میں بند کرلیا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا ۔ جو پیغام ہفتوں مہینوں میں پہنچتا یے اب چند لمحوں میں دنیا کے ہر کونے تک پہنچایا، جاسکتا ہے ۔ لوگ خود کو دنیا کا، ایک اہم حصہ سمجھنے لگ گئے ہیں ۔وہ چایے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں ہر شخص ہر جگہ تک ان کی رسائی ممکن ہے ۔
غریب ہو، امیر ہو، طالبعلم ہو، بزنس مین ہو کوئی پروفیشنل ہو یا گھریلو عورت ، وہ پوری دنیا، سے کنیکٹڈ ہے ۔ تحریر اور تصویر کے ذریعے لطف اندوز بھی ہوا جارہا، ہے اور پیغام بھی پہنچایا جارہا ہے ۔
جہاں سوشل میڈیا کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح اس کے منفی پہلوؤں سے بھی نظر نہیں چرائی جاسکتی ۔ مذہبی سکالر مفتی طارق مسعود کا بیان اس سلسلے میں اہم ہے وہ کہتے ہیں. ” سوشل میڈیا کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے. جیسے گھوڑے کو لگام نہ ڈالی جائے وہ نقصان پہنچا سکتا، یے بالکل اسی طرح سوشل میڈیا، کے استعمال کو، بھی کنٹرول نہ کیا گیا، تو، یہ بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا ”
سوشل میڈیا کے نقصانات میں سے ایک بڑا، نقصان یی یے کہ یہاں ہر سوچ اور ہر طبقے کے لوگ ہر طرح کے لوگوں پر اثر، انداز ہورہے ہیں ۔اگر کسی شخص کے فالوورز، زیادہ ہیں تو، وہ کچھ بھی لکھ دے اس کی بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے گی ۔۔۔قطع نظر اس کے کہ وہ درست ہے بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔ایسی ہی غیر مستند لوگ غیر تعلیم یافتہ اور کچے دماغوں پر اپنا دءر پا اثر چھوڑت جاریے ہیں جو معاشرے کو تباہی کے دہانوں کی طرف دھکیل رہا ہے ۔
نوجوان نسل سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کررہی ہے ۔ اور، اہنے قیمتی اوقات کے مثبت مصرف کی بجائے اسے ضائع کررہی یے ۔ اور، مسلسل استعمال سے ڈپریشن کا شکار ہورہی ہے ۔ مڈل کلاس امیر طبقے کے لائف سٹائل کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہورہی ہے ۔

لوگ دن کا، ایک بڑا حصہ اہنے اردگرد کے لوگوں کو دینے کی بجائے سوشل میڈیا پر، صرف کردیتے ہیں ۔اس، ڈیجیٹل دنیا نے لوگوں کونمودو نمائش کا، عادی بنادیا ہے. اپنی روزمرہ زندگی کی ایک ایک چیز سوشل میڈیا پر داد سمیٹنے کیلئے شئیر کی جاتی ہے ۔لیکن اپنے ہی گھر کے لوگوں کو، وقت نہیں دیا، جاتا ۔
اپنی زندگی کے اہم ایونٹس جیسے سالگرہ یا شادی کی تقریبات کو بھی زیادہ رنگین بنایا جاتا ہے ۔۔ بہت پیسے، خرچ کئے جاتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر تصاویر لگا کر تعریفیں سمیٹی جائیں ۔۔۔۔۔ان تمام چیزوں نے لوگوں کو، ذہنی مریض بناکر رکھ دیا ہے ۔
یہ سب باتیں ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہیں کہ اگر، اس میڈیم کا مثبت استعمال کیا جائے تو یہ سب کیلئے بہت مفید ثابت ہوگا ۔ رفاح عامہ کی بھلائی کے مقصد سے معلومات، اور، خیالات کا تبادلہ کیا جائے تو یقینا اس سے معاشرے کو فائدہ ہوگا، اور لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوسکتی ہیں.
ہر چیز کے استعمال میں میانہ روی سے کام۔لیاجائے توکوئی بھی چیز، نقصان نہیں دیتی ۔ سوشل میڈیا، کے استعمال میں بھی یہی قانون لاگو کرنا ہوگا، تاکہ اسکے مثبت پہلوؤں سے، استفادہ کیا، جاسکے اور منفی سے بچا جا سکے ۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

لبنی نورین

تعلیم ____نفسیات میں بیچلرز
گھریلو خاتون ہوں ۔۔۔۔۔شعروادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تمام ہی شاخوں سے دلچسپی ہے ۔لکھنے لکھانے کا فن اور شوق ورثے میں ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top