Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

کم عمری کے نفسیاتی مسائل

کم عمری کے نفسیاتی مسائل سمجھنے کے لیے سب سے پہلے بچہ بننا پڑے گا بچپن میں جانا ہوگا وہ دور جب گندم کی سبز بالیوں کی طرح بال لہراتے ہیں اور بدن سے کچے دودھ جیسی مہک آتی ہے.. جب مٹھیاں ریت سے بھری ہوتی ہیں آنکھیں چمک سے اور جیبیں رنگ برنگے کنچوں ادھڑی ہوئ نلکیوں اور چمکدار گول پتھروں سے.. زندگی ضرورت کے احساس بنا کتنی خوبصورت ہو جایا کرتی ہے خواہشات کا آدم بو آدم بو کرتا دیو خوشی کے اسی کھلونے سے بہلایا جا سکتا ہے.. مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔

آسی غازی

کم عمری کے نفسیاتی مسائل سمجھنے کے لیے سب سے پہلے بچہ بننا پڑے گا بچپن میں جانا ہوگا وہ دور جب گندم کی سبز بالیوں کی طرح بال لہراتے ہیں اور بدن سے کچے دودھ جیسی مہک آتی ہے.. جب مٹھیاں ریت سے بھری ہوتی ہیں آنکھیں چمک سے اور جیبیں رنگ برنگے کنچوں ادھڑی ہوئ نلکیوں اور چمکدار گول پتھروں سے.. زندگی ضرورت کے احساس بنا کتنی خوبصورت ہو جایا کرتی ہے خواہشات کا آدم بو آدم بو کرتا دیو خوشی کے اسی کھلونے سے بہلایا جا سکتا ہے..
بچہ اپنے اندر پورا ایک جہان سمیٹے ہوئے ہوتا ہے تحیر کا تجسس کا فکر کا انسان کے بچے کے زہن کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے دنیا اس کے نزدیک کیا ہے اور وہ کس آنکھ سے اسے دیکھ رہا ہے کیسا محسوس کر رہا ہے ان سوالات کے جوابات پانا آسان نہیں خاص کر جب اس میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوں اسی ایک بات سے اندازہ لگا لیجیے کہ ایک سال کا بچہ تین سے دس الفاظ سمجھ سکتا ہے دوسرے سال پونے تین سو اور تیسرے سال نو سو اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس کی جسمانی اور زہنی نشونما کے ادوار کا اس کے نفسیاتی مسائل سے براہ راست ربط ہے کچھ چیزیں تو فطری ہوتی ہیں جیسا کہ جبلتیں.. جبلت وہ پوشیدہ فطری قوت ہوتی ہے جو ہر جاندار میں رکھی گئ ہے جس کا اظہار مختلف سمتوں اور طریقوں سے کئ مواقع پر ہوتا رہتا ہے انسان میں کوئ چودہ قسم کی جبلتیں واضع ہو پائ ہیں جیسا کہ جبلت جنسی، نزاع پسندی، خودنمائ، تجسس، نفرت، اجتماع پسندی وغیرہ وغیرہ.. جبلت کوئ بھی ہو اس کے بنیادی وصف تین ہوتے ہیں خیال کرنا محسوس کرنا اور عمل کرنا مثلاً شیر کو دیکھ کر خطرناک جانور کا خیال آتا ہے پھر اس سے خوف محسوس ہوتا ہے اور پھر یا اسے مارا جاتا ہے یا راہ فرار اختیار کی جاتی ہے.. جبلتوں کو نہ خود پیدا کیا جا سکتا ہے نہ دبایا جا سکتا ہے صرف انہیں قابو میں رکھ کر انکی تعمیر کی جا سکتی ہے انسان اور تمام جاندار انہی جبلتوں کے سبب اپنا وجود برقرار رکھتے اور جسمانی و شعوری ارتقائ سفر جاری رکھتے ہیں.. نفسیاتی مسائل کا تعلق ان جبلتوں کے استعمال سے بھی ہے اور کچھ چیزیں جو غیر فطری ہوتی ہیں وہ آس پاس کی سراؤنڈنگز گھر کا ماحول اور والدین کے میلانات ہوتے ہیں جن میں مثبت یا منفی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے.. کوئ بھی مسئلہ اس وقت جذباتی اور نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے جب وہ انسان کی قوتِ فکر اور فیصلہ کو پراگندہ کر ڈالتا ہے.. کم عمری کے نفسیاتی مسائل بچے کی نشونما کے ادوار اور ان پر اثر ڈالنے والے فیکٹرز پلس بالواسطہ طور پر جبلتوں کی کارفرمائ سے منسلک ہیں..

اب شیر خوار بچے کا سب سے بڑا مسئلہ بھوک ہوتا ہے اور وہ دنیا کے متعلق جو بھی تاثرات قبول کرتا ہے اس کا تعلق اسی وحشی جذبے کی طمانیت سے ہے اگر وہ پالنے میں پڑا روتا رہے دودھ تاخیر سے ملتا رہے یا وقت سے پہلے چھڑوا دیا جائے تو وہ ٹین ایج میں غذا کو عزیز ترین شے سمجھ کر اس میں سکون ڈھونڈ سکتا ہے اور یوں اس کے موٹاپے کے بیک گراؤنڈ اس وقت ملنے والی محبت اور توجہ کی کمی موجود ہوسکتی.
دوسرے تیسرے سال میں اسے وہ علامتیں سیکھنی پڑ جاتی ہیں جو معاشرہ پسند کرتا مثلا واش روم یوز کرنا اب تو اگر اسے زبردستی سکھایا جا رہا بنا ٹائم سپیس دیے تو اسے مستقبل میں فرمانبرداری سے نفرت بھی ہو سکتی.. چوتھے پانچویں سال میں جنسی تعلقات کے رحجانات قائم ہونا شروع ہوتے ہیں لڑکا جو باپ سے لو ہیٹ ریلیشن رکھتا ہے اور لڑکی جو ماں کے باپ سے التفات پر ناگواری محسوس کرتی ہے دونوں اب اپنے اس رحجان میں میچور ہونا شروع ہوتے ہیں لڑکا باپ کے ساتھ ماں پر حصہ بٹانے میں ایگری ہو جاتا ہے اور باپ کی نقل کرنے لگتا ہے یہ رویہ اسے مستقبل میں اپنی شریک حیات کے ساتھ وابستہ رکھنے میں مدد دے گا اور اگر ماں بھی اپنی توجہ اور محبت میں کمی نہیں کرتی تو وہ دیگر عورتوں کیساتھ شرافت سے پیش آنا سیکھے گا ادروائز وہ تند خو متشدد اور عورتوں سے نفرت کرنیوالا نوجوان بن سکتا اسی طرح لڑکی باپ جیسا اچھا آدمی پانے کے لیے ماں سے زیادہ سے زیادہ مشابہ ہونا اور اپنی نسوانیت میں رنگ بھرنا شروع کرتی ہے یوں والدین سے رقابت کے بجائے انکی نقل کا مرحلہ شروع ہوتا ہے یہ نازک وقت ہمیشہ کیلئے نفسیاتی مسائل کی نیو ڈال سکتا ہے اگر والدین کے میلانات منفی ہوں مثلا ٹین ایج میں جو لڑکیاں بے سوچے سمجھے محبت اور یہاں تک کہ گھر سے بھاگ جانے پر تیار ہو جاتی ہیں ان کے پیچھے ایسے باپوں کی بے سود تلاش ہوتی ہے جو انہیں نصیب نہیں ہو پاتے اور جن سے انہیں بیگانگی ہی ملتی ہے..
چھ سے بارہ سال کی عمر میں بچے جزباتی نشونما کے حوالے سے نسبتاً پرسکون رہتے ہیں لڑکے لڑکوں کی ٹولیاں بناتے اور لڑکیاں سہیلیوں سے چپکی رہتی ہیں اس عمر میں تحفظ اپنائیت اور دوستی کی اکثر ضرورتیں محبت دینے سے پوری ہوتی ہیں بشرطیکہ محبت دینے والے خود بھی جذباتی پختگی حاصل کر چکے ہوں اور بدلے میں ریٹرن کی قبل از وقت توقع نہ رکھتے ہوں اسوقت اگر والدین انکے ساتھ چپکے رہیں اور انہیں ہر فیصلہ ڈکٹیٹ کرواتے رہیں تو بچے میں خوف احساسِ کمتری اور ہر نئ چیز سے خائف رہنے والے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں..
بارہ سے پندرہ سولہ سال تک بلوغت اور اس سے جنم لینے والے نفسیاتی مسائل شروع ہوتے ہیں واضع جسمانی تبدیلیوں کے رونما ہونے پر انہیں قبول کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ایک تو بچے کے اب تک بنے جنسی رحجانات پر ہوتا ہے دوسرا اس پختگی پر کہ وہ بچپن کو الوداع کہنے پر کتنا تیار ہو سکا ہے ایسے گھرانے جن میں جنس کا تذکرہ ممنوع سمجھا جاتا ہو وہاں لڑکیاں اپنی جسمانی تبدیلیوں کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے یہ انکے اندرونی محسوسات کی بیرونی علامتیں ہیں جو ظاہر نہیں ہونی چاہیئں اس لیے بھی بعض دفعہ لڑکیاں لڑکوں جیسا دکھائ دینے اور ان جیسی حرکتیں کرنے لگتی ہیں تاوقتیکہ ماہواری جیسی واضع نسوانی علامت نہ آن پہنچے اس صورت میں اگر تو ماں اپنے عورت پن پر ناز کرتی اور کچلی ہوئ ناخوش عورت نہیں ہے تو وہ بچی کے لیے ایک نفیس نمونہ ثابت ہوتی ہے اور وہ ماں سے مشابہت کرتے ہوئے نسبتا سکون سے یہ تبدیلی گوارا کر لیتی ہے وگرنہ اسے اس جسمانی تکلیف میں عورت ہونے کے سبب نفسیاتی تکلیف کا عکس دکھائ دیتا ہے اور وہ اندرونی تناؤ کا شکار رہتی جو بعد ازاں صنف مخالف سے سردمہری یا پھر غیر متوازن تعلق کی شکل میں سامنے آتا ہے
اسی طرح لڑکا جنسی غدودوں کی بڑھتی ہوئ سرگرمی کے سبب بدخوابی اور جلق جیسے مراحل کا سامنا کرتا ہے سیم اسی طرح اگر اسے بھی جنسی تربیت کا وہ ڈھنگ میسر نہیں آیا ہے جس میں جنسی پختگی کو فطری اور ضروری تبدیلی سمجھ کر قابل قبول بنایا اور سمجھا جاتا ہو تو وہ بھی خوف اور شدید احساسِ جرم کا شکار ہو جاتا ہے اگر وہ مخالف صنف کو یکسر نظر انداز کرتا یا پھر ضرورت سے زیادہ دلچسپی لیتا نظر آئے تو اس کا مطلب ہے اسے جنسی ہیجان پر قابو پانے میں دشواری ہو رہی ہے اور وہ مدد کا طالب ہے..
والدین یا بزرگوں کے متوازن جنسی نظریات اور اس بچے کا اپنا صنف مخالف سے اب تک کا مثبت سوشل میل جول اٹھارہ سال کی عمر تک بچے میں معاشرے کا صحت مند جزو بننے اپنے زاتی مستقبل کی سمت متعین کرنے اور معاشرے کے زمہ دار شہری کے طور پر زمہ داریاں نبھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے…
ورنہ تو یونہی بچپن رلتے رہیں گے کچے دودھ پِھٹتے رہیں گے
شیشے جیسی شفاف آنکھوں میں پکے ہوئے جالے لگتے رہیں گے
جگنو بچپن باغیچے میں اچھالی گیندوں کے سنگ گُمتے رہیں گے.. ونس اپان اے ٹائم ان ویسٹ کے کردار ہرمونکا سے جب کوئ پوچھتا ہے تمہارا بچپن کیسا تھا؟ تو وہ حقارت سے ایک طرف تھوک کر کہتا ہے “بہت چھوٹا تھا”.. !!

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top