Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل

ہمارے ملک میں تعلیم کے تین طریقے رائج ہیں ،ایک طریقہ دینی تعلیم ،اس میں بچہ حافظ حافظہ ،یا عالم عالمہ بنتا ہے ،کئی سالہ کورس پر محیط ایک مکمل علم دین اور فقہ کا علم ،،یہ طریقہ تعلیم کسی نہ کسی طور پورے ملک میض رائج ہے ،کئی لاکھ بچے اس طریقے سے مستفید ہوتے ہیں ،،اگرچہ درجہ نظامی کا بورڈ بھی ہے ،باقاعدہ پیپر ہوتے ہیں ، لیکن اس ڈگری سے کسی مدرسے میں استاد کے سوا کسی قسم کی جاب نہیں ملتی۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں ۔

ماہم یوسف

نظام عربی زبان کا لفظ جس کا مطلب ہے کسی کام کا ڈھنگ طریقہ ،نظم اس کا واحد
تعلیم ،عربی کے لفظ علم سے نکلا جس کا معنی ہے کسی شے کا ادراک حاصل کرنا ،اس طرح نظام تعلیم کا مطلب کسی شے کو جاننے ،سیکھنے کا طریقہ کار
انگریزی میں Education لاطینی زبان Edex ,مطلب ،،نکالنا ،اور Ducer..Due ,مطلب رہنمائی ،،،معلومات کا جمع کر دینا یا صلاحیتوں کو نکھارنا

یہ تو ہوا لفظی مطلب ،اصطلاحی اعتبار سے نظام تعلیم کا مطلب ہمارا ایجوکیشن سسٹم ،یا تعلیم دینے کا ڈھنگ ہے

ہمارے ملک میں تعلیم کے تین طریقے رائج ہیں ،ایک طریقہ دینی تعلیم ،اس میں بچہ حافظ حافظہ ،یا عالم عالمہ بنتا ہے ،کئی سالہ کورس پر محیط ایک مکمل علم دین اور فقہ کا علم ،،یہ طریقہ تعلیم کسی نہ کسی طور پورے ملک میض رائج ہے ،کئی لاکھ بچے اس طریقے سے مستفید ہوتے ہیں ،،اگرچہ درجہ نظامی کا بورڈ بھی ہے ،باقاعدہ پیپر ہوتے ہیں ، لیکن اس ڈگری سے کسی مدرسے میں استاد کے سوا کسی قسم کی جاب نہیں ملتی ،اس لئے بچیاں تو پڑھ درجہ نظامی پڑھ کر شادی کروا لیتی ہیں جبکہ لڑکوں کو عصری تعلیم کے پیپر دے کر عملی زندگی میں کاوش کرنا ہوتی ہے ،،اس لئے عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ دینی علم حاصل ہو گیا ،لیکن دنیاوی دوڑ میں پیچھے رہ گئے

دوسرا طریقہ اردو میڈیم ،جو کہ عام طور پر دیہاتوں قصبوں اور چھوٹے شہروں میں رائج ہے ،اس طریقہ میں گو خرج نہیں کتابیں سمجھ کر پڑھائی جائیں تو طلباء کی سوچ نکھرتی ہے ،لیکن افسوس صد افسوس زیادہ تر اساتذہ رٹا سسٹم ،،کی بکس ،،گائیڈ بکس ،،ماڈل پیپرز اور چنیدہ ٹوپکس یاد کرنے پر زور دیتے ہیں ،،استاد اور طالب علم دونوں کے دماغ میں امتحان پاس کرنا گھسا ہوا ہے ،علم حاصل کرنا ،خود سے کچھ سوچنا ،یہ سب جیسے حرام ہے
ہزاروں میں سے چند لوگ اس طریقہ تعلیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ،باقیوں کا بال بھی بانکا نہیں ہوتا ،اسی لئے کئی ایم اے پاس لوگ ڈگری تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن تعلیم کا جو مقصد ہے کہ باشعور ہوا جائے ،،خود سے سوچا جائے ،دماغ استعمال کیا جائی وہ مقصد ادھورا رہ جاتا ہے

تیسرا طریقہ ہے انگلش نظام تعلیم ،،جس میں ہاروڈز یا آکسفورڈ کا نصاب پڑھایا جاتا ہے ،،اے لیول ،،او لیول سسٹم ،،اس کی سب سے بہترین بات یہ ہے کہ بچے کے دماغ کی بتی جل جاتی ہے ،وہ خود سے سوچنا سیکھنا اور جاننا شروع کر دیتا ہے ،،ہر ٹاپک پر اس کا کانسیپٹ کلئیر ہوتا ہے ،،وہ سوالوں کے جواب اپنے ذاتی الفاظ میں لکھتا ہے ،،اسے خود سے لکھنا کریئیٹ کرنا آتا ہے ،ان باتوں کی وجہ سے وہ دنیا کو سمجھنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی سب سے اھم شے شعور بیدار ہو جاتا ہے
جہاں اس طریقہ تعلیم کی خوبیاں بیشمار ہیں وہاں خامیاں بھی بے شمار ،،سب سے پہلے تو اس طریقہ تعلیم میں لکھائی پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی ،،اکثر طلباۂ کی لکھائی ایسے جیسے کاپی پر کیڑے چھوڑے گئے ہو ،اور خاص طور پر اردو کی للھائی ،،افف افففف کیڑوں کے بھی کیڑے
اردو کی کتاب اس قدر آسان کہ طلباء کو چھوٹے چھوٹے جملے بھی بنانے نہ پڑے ،محاوروں اور ضرب المثل کی چاشنی کے بنا پھیکی سی کمزور سی اردو
اسلامیات کی بات کی جائے تو دین سے دور کرنے والی بات ،،انگریز مولیوں کی لکھی کتب ،،جن کو پڑھ کر دماغ الجھ جاتا کہ ہمارے گھروں میں تو دین کچھ اور ہے اور کتاب میں کچھ اور
سوشل سٹیڈز کے نام سے روم اور یونان کی تاریخ پڑھائی جاتی ،ڈارون کا نظریہ ،ارسطو ،کولمبس ،راجہ پورس اور اشوکا جیسے لیڈر پڑھائے جاتے ہیں ،،جبکہ محمد بن قاسم ،،ٹیپو سلطان ،اسلامی فتوحات اور تحریک پاکستان جیسے اہم موضوع پس پشت ڈالے جاتے ہیں

کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا

اس سب سے طالب علم کا دماغ اپنے معاشرے میں رہتے ہوئے دوسرے معاشرے کو جاننے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ،اور آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر خوار ہوتا ہے ،،اب نبمر اچھے آ گئے ،کانسیپٹس کلیر ہو گئے ،دماغ سوچ رہا ،،جدید تعلیم کے مواقع کھلے پڑے ،،اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرو یا ہائر سٹڈیز کے لیے باہر چلے جاؤ ،،لیکن بچہ ذہنی طور پر والدیں سے دور ہو جاتا ہے

اس سب میں ایک اور خاص بات ہے ،،اکثر درجہ نظامی کے طلباء مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ میٹرک کے پیپر دیتے اور پھر ایف اے بی اے کر کہ خود کو متوازن معاشرے کا فرد بنا لیتے ہیں ،،کہ دین اور دنیا ساتھ لے کر چل رہے ،،لیکن اگر میٹرک سسٹم کا طالب علم او لیول سسٹم میں گھس جائے تو الاماں ،،کسی بھی کلاس سے کنورٹ کرے اس کے لئے مسائل ہی مسائل ،،انگریزی پڑھائی کا بچہ ،،اردو لکھنے پڑھنے میں مار کھاتا ہے ،،لکھائی میں ،،رٹا لگا کر حرف بہ حرف نہ لکھ سکنے میں مار کھاتا ،اس کے علاوہ اساتذہ کا طریقہ تعلیم اس کے سر پر سے گزر جاتا ہے

یہی مثال میٹرک سسٹم کے بچے کو او لیول میں داخلے پر صادر آتی ہے ،کہاں دس طرح کی آئینہ اردو ،،گائیڈ بک ،ماڈل پیپرز اور تیار شدہ ملے نوٹس اور کہاں سب خود سے سوچ سمجھ کر لکھنا ،،دو تین سال میں بچہ سیٹ ہو بھی جائے تو وہ اس طرح سے ایزی فیل نہیں کرے گا جیسے وہ شروع کے نظام تعلیم میں تھا

ان سب نظام ہائے تعلیم میں ایک اور بہت واضح فرق ہے ،،جو کہ طبقاتی تقسیم کا باعث بنتا ہے ،اور وہ فرق ہے سکول فیس کا ،،مدرسہ میں کچھ بچے بالکل فری پڑھتے ،،بلکہ مدرسہ کے ہاسٹل سے فری رہائش اور کھانا پینا بھی پاتے ہیں ،کسی بچے کی فیس محض چند سو روپے ہیں جو کہ وہ آسانی سے افورڈ کر سکتا ہے ،،،اس لیے عام طور پر کم آمدنی والا طبقہ مدرسے کی تعلیم سے فیض یاب ہوتا ہے ،،،ہاں مخیر حضرات مدرسوں میں دل کھول کر دیتے ہیں

میٹرک ایجوکیشن سسٹم میں سرکاری سکول کی فیس بہت کم ہے ،،لیکن پڑھائی بھی اسی لحاظ سے بہت کم ،،پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں چند ہزار فیس جو کہ عام طور پر مڈل کلاس طبقہ افورڈ کر سکتا ہے ،،اس طرح یہ سکول مڈل کلاس طلباء کا ٹھکانا بنے

اب بات آکسفورڈ اور ہارورڈ سلیبس کے سکولوں کی کی جائے تو کئی ہزار فیس کے ساتھ یہ طبقہ امراء کے بچوں کا ٹھکانہ بنا ،،یعنی واضح طور پر طبقاتی تقسیم

اب ہم نظام تعلیم کے ایک اور اھم نکتے پر بات کرتے ہیں ،مخلوط نظام تعلیم

اس کی تاریخ پرانی نہیں ،یہ مغرب کا مرد و عورت شانہ بہ شانہ کے نعرے کے بعد کی بات ہے ،کسی تہذیب میں کسی دور میں یہ رواج نہیں تھا ،۔اس شانہ بشانہ میں عورت کا تشخص ختم ہواُ،عورت کے وقار کو شدید نقصان پہنچا

مرد و عورت کو الگ انداز کا جسم ۔سوچ ،عادات ،خواہشات ،،ذمہ داریاں دے کر پیدا کیا ،یعنی مرد و عورت مکمل مختلف ہیں اسی طرح عملی زندگی میں ان کا رول بھی مختلف ہے

اللہ پاک نے مرد و عورت میں کشش رکھی ہے ،اور تعلیم حاصل کرنے کے دور میں مرد و عورت ابھی شعور سے دور ہوتے ،کہ عمر کی منزلیں ابھی کم طے کی ہوتی ہے ،ایسی نازک عمر میں نوجوان بچوں کا ساتھ پڑھنا بالکل ایسا ہے کہ ہم بچے کو اپنے ہاتھ سے جلتی آگ کے کنارے چھوڑ رہے ،اور تاکید کر رہے تمہیں آگ نہ لگے

ساتھ پڑھنے والے دن کا بیشتر حصہ ساتھ گزارتے ہیں ،کئ ٹاپکس پر مل کر ڈسکس کرتے ،ظاہری بات کہ اس لا البالی عمر میں کشش بھی زیادہ اور کسی کا اچھا لگنا کوئ بڑی بات نہیں ،کہ آگ اور بارود جو ساتھ نہیں رکھا جاتا

آگ اور بارود کے ساتھ رہنے سے دھماکہ ہونا تو پکی بات ،اب یہ دھماکہ چھوٹا ہو یا بڑا ،بچوں کی زندگی متاثر ضرور کرتا ہے اس لیے اس سے بچنا ضروری

الگ الگ سکول ،کالج اور یونیورسٹیز ہونے چائیے تاکہ پردے کی حدود میں رہ کر علم حاصل کیا جا سکے

میں نے ایک انتہائی طویل اور مشکل ٹاپک کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے ،ابھی اس میں اور بھی بہت سے پہلو ڈسکس کرنے رہ گئے ہیں ،،جیسے سسمٹر سسٹم ،سالانہ امتحان سسٹم ،،اساتذہ کی نفسیات اور بہت کچھ ،، جو مزید تحاریر میں آپ کے ساتھ شیئر کریں گے ۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top