Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

لکھنےکی چاہ میں

لکھنا چاہتا ہوں احساسات پر محسوسات پر موجودات اور تخلیقات پر لیکن کوئی بنیاد نہیں ملتی کیا کوئی صاحب قلم رہنمائی کرسکتا ہے ؟ مختلف آراء جاننے کے لئے لنک پر کلک کرکے پڑھیں ۔

آمنہ سردار لکھتی ہیں کہ

کوئی ایک احساس لیں اور اسپر لکھیں۔۔۔۔ محبت اور نفرت پہ تو بہت لکھا جا چکا۔۔۔۔۔ حرص ، ہوس، طمع، بخل ، غصہ ، غضب ،دھوکہ ، فریب، ان پر لکھیئے

اسکے علاوہ روزمرہ زندگی پر نظر ڈالئے تو مسائل کے انبار نظر آئینگے ۔۔۔ان میں سے کسی پر قلم کا جادو جگائیے
رسوم و رواج پہ بہت بہتر طور پہ لکھا جا سکتا ہے۔۔۔
ریتیں، رواج، روایات ۔۔۔۔

محترم وسیم اختر فیضی کے مطابق

سلامتی ہو۔
لکھنے کے لےَ مطالعہ اور اور خیال کی رو بہت ضروری ہے۔
آپ اگر ان دونوں پہلووں کے باوجود لکھنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں تو بلا سوچے سمجھے لکھنا شروع کردیں، جو ذہن میں آےَ لکھتے جایئں، کسی کو پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ دس دن لکھتے رہیں اور اپنا لکھا بار بار پڑھیں۔ آپ کو اس مشق کے دوران ہی کوئ سوچ یا کویئ خیال سوجھ جائے۔

ارشد جگنو کی رائے میں

جتنا آپ کا مطالعہ عمیق ہوگا اتنا ہی آپ پائے کے لکھاری بنیں گے۔۔۔ محبت اور نفرت پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔۔۔ حالات و حاضرہ پر لکھیں بہتر ہوگا۔۔۔۔ خاص کر رسم و رواج کی آڑ میں جو خرابیاں پیدا کی گئی ہیں ان پر لکھنا شروع کر دیں تاکہ اس سے معاشرے کی اصلاح بھی ہوگی

مبشرہ ناز کہتی ہیں کہ ۔۔

یہ ایک خداداد صلاحیت ہے
اگر آپ کے اندر موجود ہے تو سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی قلم بنیادیں ڈھونڈ لیتا ہے خود بخود چلنے لگتا ہے کبھی ایک لفظ
اور کبھی ایک خیال لکھنے کا سبب بن جاتا ہے ۔لفظ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ہمیں لکھو

سیدہ عاصمہ علی لکھتی ہیں کہ

کبھی کوئی بھی چھوٹی سی بات ذہن پہ ایسے اثر چھوڑ جاتی ہے کہ قلم خود ہی لکھنے پہ مجبور ہو جاتا ہے اپنے اردگرد نظر دوڑائیے ۔۔ کوئی سانحہ کوئی المیہ، کوئی چھوٹی سی خوشی، کسی کی نیکی، کسی کی زندگی بدلتا واقعہ۔۔ آپکے اردگرد سینکڑوں کردار بکھرے ہونگے ، دیکھیے ، مشاہدہ کیجیے ہو سکے تو بات چیت کیجیے اور پھر اس کی کیفیت میں خود کو اترتا محسوس کریں ۔۔۔ قلم چل پڑے گا۔۔۔ کبھی کبھی بے مقصد لکھیے بس جو دل میں آۓ بلا سوچے سمجھے۔۔۔ اپنا لکھا پڑھیں اور پھر ترتیب بنتی چلی جاۓ گی

محترم آسی غازی بہت خوبصورت بات کہتے ہیں کہ

نہ لکھیں زور زبردستی مت کریں
جسطرح آموں کو پال لگا کر رکھنی پڑتی ہے اسی طرح خود کو پال لگا کر رکھ لیں ایک وقت آئے گا شدت کی حدت آپ سے خودبخود لکھوائے گی اگر تب بھی خموشی رہے تو سمجھیے گا آپ کسی اور کام کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں..
جلدی نہ کریں شعوری کوشش مت کریں اس سے آپ ایک محقق بن سکیں گے تخلیق کار نہیں۔

اپنی رائے سے بھی ضرور آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top