Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

افسانہ نگاری کے نو بنیادی اصول

شکنجا

یہ کہانی کا وہ حصہ ہے ، جو ،پلاٹ میں تو کہیں درمیان میں ہوتا ہے لیکن آپ کہانی کا آغاز قاری کو اس میں غوطہ دے کر کرتے ہیں ہیں۔

یہ کوئی ایکشن سیکوئینس بھی ہو سکتا ہے ، کسی رومانوی سین سے شروع ہو سکتا ہے ہے، رومینس میں ٹریجیڈی ،ٹریجڈی میں رومان، سے آغاز ہو سکتا ہے یاد رکھیے، آپ کے پاس نئے قاری کو اپنی کہانی سنانے کے لیے شروع کی پانچ سے سات سطریں ہوتی ہیں ۔۔۔
ان چند سطروں میں آپ نے اس کی توجہ کو جکڑنا ہوتا ہے

مثال:
بوس کنار سے بھرپور ان خوابناک لمحے انتہا ہوا چاہتی تھی کہ اچانک، لڑکی کے نقوش بگڑنا شروع ہوئے، ابھی ، رامش، شاید اس کے لبوں کے خمار کا ذایقہ ہی لے رہا تھا، کہ ایک دم اسے اپنے منہ میں لہو ،کا ذائقہ محسوس ہوا، اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تو ، سامنے کھڑی فروا ، کا جسم غائب ہوچکا تھا، محض ایک سر تھا جس کے گرد دو استخوانی پنجے نما پر سے نکلے ہوئے تھے۔

بیک اسٹوری

ہر کہانی کسی نہ کسی کردار کے ماضی سے پھوٹتی ہے ہے آپ جو بھی ایکشن آغاز میں دکھائیں اس کے لیے کوئی بیک گراؤنڈ سٹوری تیار رکھیں۔

مثال:
رامش کو چڑیلوں کا شکاری کہا جاتا تھا، اس کے دوست یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی اس کی بہادری کے گیت گایا کرتے تھے، آخری سال میں وہ، ایک فارم ہاوس میں پکنک مناے گئے،
جب پہلی بار اس نے فروا کو دیکھا۔

ٹریگر

یہ وہ لمحہ واقعہ کردار احساسات یا جذبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے سے آپ کی کہانی کا مرکزی کردار منفی ہو یا مثبت بتان حالات کا شکار ہوا ہوتا ہے
یا آپ کی کہانی کے ہر اہم کردار کا کیوں کیا اور کیسے ہوتا ہے

مثال

وہ اور فروا جلد ہی بے تکلف ہوگئے ، اس نے محسوس کیا۔ جلد ہی ان کی راتیں لمبی فون کال پر گزرںے لگین، بات اب وڈیو کالز پر اپہنچی تھی، اس نے محسوس کیا کہ جب وہ اس کے سامنے اپنے یونی ورسٹی کے قصے چھیڑتا ، تو فروا ، بات گول کردیا کرتی تھی۔

بحران

یہ آپ کی کہانی کے مرکزی کردار کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے، جب وہ ، کسی کمشکش کا شکار ہو۔

فروا ، رامش کی محںت میں گرفتار تو ہوگئ تھی لیکن وہ ، رامش کے زہریلے قہقہے کیسے ںھول۔سکتی تھی، جب وہ ایک شرط لگانے کے لیے، فارم ہاوس کے ںرابر واقع قبرستان میں ایک کچی قبر جو اندر سے خالی تھی، اس پہ کھڑا ہو کر مغلظات بک کر ایا تھا،

کوشش

ہماری پوری زندگی ، کوششوں کی ہی تو کہانی ہے۔

اسی طرح آپ جو کہانی لکھتے ہیں وہ کسی نہ کسی کردار کی کوششوں کا ثمر ہوتا ہے
کسی مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش
کسی کی مدد کرنے کی کوشش
کوئی غلطی کرکے اس کی تلافی کرنے کی کوشش

مثال : وہ پوری کوشش کر رہی تھی، کہ رامش کو ایسا سبق سکھائے، کہ اس کے دماغ سے پانچویں جہت کا خناس اتر جائے لیکن اس کی محںت آڑے آرہی تھی، کیوں کہ اس کام کے لیے اسے رامش کے سامنے اصل۔روپ۔میں انا پڑتا۔

جذباتی لمحات

یہ کہانی کا وہ سٹیج ہوتے ہیں جس میں آپ کا کردار اپنی اندرونی کشمکش سے لڑتا ،انتہائی جذباتی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے، یہ خود شناسی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہوتا ہے
یہ وہ ذہنی ادراک ہوتا ہے جس میں،
وہ خود میں بدلاؤ لانے کا فیصلہ کرتا ہے یہ بدلاؤ منفی بھی ہوسکتا ہے مثبت بھی
یہ اس بات پر منحصر ہے وہ کردار کیا ہے اور اس کی کہانی کیا ہے
اکثر اوقات کہانیوں میں یہ لمحہ مختلف کرداروں کی اصلاح کے وقت کام آتا ہے
جب انہیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ ہاں ان میں کوئی نہ کوئی خامی ہے اور اب بدلنے کا وقت آگیا ہے

مثال
اس نے فیصلہ کرلیا ٹھا کہ وہ محںت کو نہیں کھوئے گی لیکن سبق ضرور سکھائے گی۔

منصوبہ
فن افسانہ نگاری یا کہانی کاری میں ،ایک انتہائی اہم جزء منصوبہ سازی ہے
یعنی آپ کی کہانی کے کردار کی وہ منصوبہ بندی،
جس کو وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی، مشکلوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے، یا خود کو تبدیل کرنے کے لئے
اپنے ذہن میں ترتیب دیتا ہے

مثال
اس کام کے لیے۔ فروا کو مناسب وقت کا انتظار تھا،خصوصا اس رات کا جب رامش نشے میں مدہوش ہو کر اسے خود اپنے پاس بلائے۔

کلائی میکس

بحران اور ادراک کی جنگ کا فیصلہ کن لمحہ
جب کردار ،تمام کشتیاں جلا کر، حالات کا مقابلہ کرنے، اور خود کو بدلنے یا پھر ,حالات کو بدلنے نے کی کوششوں میں، انتہا کو پہنچ رہا ہوتا ہے اسی وقت اس کے سامنے آنے والی رکاوٹیں
مشکل سے مشکل تر اور مشکل ترین ہوتی جا رہی ہوتی ہیں۔

مثال

اس نے رامش کے ہونٹ کتر ڈالے تھے، اور اچانک اگے ہو کر اس کے سر پر ایک بھیانک ٹکر رسید کی،مدہوش رامش خاک نشین ہوگیا
آخری منظر اس نے فروا کے سر کو پھڑپھڑا کر اڑتے ہوئے کمرے سے باہر جاتے دیکھا تھا۔

انجام

یہ ہر کہانی کا وہ ناگزیر حصہ ہے، جس میں آپ انتہائی مختصر اور جامع طریقے سے اپنے کردار، اس کے سامنے آنے والے بحران ،اور اس کی کیفیات کا خلاصہ کرتے ہوئے، کہانی کو کو آخری موڑ دیتے ہیں۔

مثال

اب فروا اور رامش دو خوبصورت بچوں کے والدین تھے
عجیب بات تھی رامش کی بیٹی کو ہارر سٹوریز کا۔شوق تھا
لیکن بیٹا ہمیشہ اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔

ان کی نوک جھونک فروا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی
اور رامش اپنے ہونٹوں کو سہلا کر رہجاتا جہا۔ پر اج بھی کٹ کا نشان اسے ان بھیانک اور تکلیف دہ لمحات کی یاد دلاتا تھا۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

زوہیب اکرم

کراچی کے رہائشی اور سند یافتہ انجینئر ہیں ۔لیکن لکھنے پہ آئیں تو ان کا قلم ایسے لفظ لکھتا ہے جو پڑھنے والے کو نوچنے اور دبوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔شخصیت الفاظ ہی کی طرح ذومعنی ہے جو الجھاو کے ساتھ تال میل کرکے ایک منفرد سراپے کو جنم دیتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top