Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

مڈ لائف کرائسس – اُدھیڑ عمری کی اُدھیڑ بُن ۔ حل کیا ہے ؟ دوسرا حصہ 

مڈلائف کرائسس - ادھیڑ عمری کی ادھیڑ بن تعارف ، علامات، عمومی اثرات ، صنفی تقابل ، اور اس سے نمٹنے کی تراکیب

صنفی تفریق  سے قطع نظر ، مڈلائف کرائسس کی علامات


یعنی مردہو یا عورت ، دونوں پر ، اس بحران کی علامات کا اظہار عمومی طور پر کیسے ہوتا  ہے ؟

بڑھاپے کے  اس سیاپے کی چند عمومی نشانیاں۔


صنفی امتیاز سے قطع نظر ، مڈ لائف کرائسس، کی درج ذیل علامات ہیں ،اور ضروری بھی نہیں کہ یہ ہر کسی میں ہوں ، کیوں کہ ، مڈ لائف کرائسس، کی عمر سب پر آتی ہے ، لیکن ، کوئی حتمی بات نہیں کہ  کہ ہر کوئی اس کا اثر لے ، یا ایک ہی جیسا اثر لے ۔

بہرحال ، جو لوگ اس عمر کے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں ، اور ادراک سے عاری ہوتے ہیں ، ان میں درج ذیل علامات عام ہوتی ہیں ۔

 

ہر چھوٹی بڑی چیز کا رد کرنا ، یا عیب نکالنا، غیر ضروری یا غیر اہم ، یا بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھے رہنا۔

بظاہر ، بہت سے غیر متعلق/غیر منطقی واقعات کو جوڑ کر ، ڈرامے کے عنصر کو حاوی کر کے ، خود پر ایک بڑی تبدیلی طاری کرلینا۔یا زندگی میں اس کی کھوج میں رہنا۔

جو شخص ان مرحلوں سے گز ر رہا ہو ، ان کیفیات کا شکار ہو ، وہ خود سے درج ذیل سوال کرتا پایا جاتا ہے ۔

کیا بس یہی ہے سب کچھ میری زندگی میں ،کیا ایسا ہی ہوتا رہے گا؟

کیا میں ایک ناکام شخص ہوں ۔

مڈلائف کرائسس کی علامات ، کسی میں کم اور کسی میں شدید ہوتی ہیں ۔

مثلا

تھکن طاری رہنا

بظاہر ، بے وجہ بوریت۔

اپنے لائف سٹائل ، لوگوں ، رہن سہن، معاشرے ، سب سے غیر مطمئن ، یعنی جن سے پہلے خوش اور مطمئن تھے ، انہیں سے کھنچے کھچنے رہنا۔

خود سے سوالات کرتے چلے جانا۔ گزری ہوئی زندگی میں کیے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھانے لگ جانا۔

پاگل کردینے والی یعنی بہت زیادہ ، توانائی محسوس کرنا ،یعنی بے چینی کا طاری رہنا، گویا کچھ مکمل طور پر الگ کرنے کی خواہش۔

زندگی کا مقصد تلاشنے چل پڑنا۔

خودشناسائی کا ادراک قائم نہ رہ پانا، یعنی اپنی ذات کے بارے میں ابہام پیدا ہوجانا ، کہ

میں کون ہوں ، اور میری زندگی کس طرف جا رہی ہے ؟

خیالی پلاو بنانا

چڑچڑے رہنا، غیر متوقع اشتعال انگیزی ۔ بغیر کسی قابل ذکر وجہ کے پھٹ پڑنا۔

مستقلا اداسی چھائے رہنا۔

کھانے پینے میں اضافہ ،منشیات اور شراب/ الکوحل کے استعمال میں اضافہ ، یعنی پہلے اگر کم استعمال کر رہے تھے تو اب بڑھا دینا۔

جنسی رجحان میں نمایاں کمی یا اندھا دھند اضافہ ۔

جنسی تعلقات میں عمروں کے تفاوت کو نظر انداز کردینا ، یعنی بہت ہی زیادہ نوجوان طبقے کی طرح مائل ہونا۔

یعنی رل تے گئے آن پر چس بڑی آئی آ والا معاملہ ۔

زندگی کے مقاصد کا بہت ہی زیادہ بڑھ جانا ، یعنی میں یہ بھی کرلوں وہ بھی کرلوں ، یہ بھی کرنا ہے وغیرہ وغیرہ یا پھر بلکل ہی فارغ کہ

یار اب اس عمر میں کیا کیا کروں گا۔

یہ سب کیوں ہوتا ہے ، یعنی مڈ لائف کرائسس کی چند وجوہات ۔


سب سے پہلی بات ،

قدرتی ہوتا ہے ،

عمر کے اس مرحلے میں سب نے داخل ہونا ہے تو ظاہر ایک لحاظ سے یہ فطری ہے ۔

اس کے علاوہ ۔

  • زندگی میں آنے والی کوئی بہت نقصان دہ تبدیلی
  • عظیم جذباتی صدمہ ۔
  • کسی بہت اپنے کا کسی بھی طرح بچھڑ جانا ۔
  • یہ بات ٹھیک ہے کہ ایسے جذباتی /مالی/روحانی نقصانات کا توڑ ، ناممکنات کی حد تک مشکل ہے ۔

لیکن یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں ، پرابلم تب ہوتی ہے ، جب یہ ایشوز، آپ کے ساتھ ، مڈ لائف ایج میں داخل ہوتے ہیں ، تو پھر انسان ، مڈ لائف کرائسس کے ساتھ اس کو مکس کر کے ، مزید پیچیدہ کرلیتا ہے ۔

یہ منتقلی ، ایک مخصوص عمر سے دوسری مخصوص عمر یا مرحلے میں ، بہت حیران کن اور اعصاب شکن محسوس ہونے لگتی ہے ۔


مڈ لائف کرائسس سے نبرد آزما کیسے ہوں ؟


سب سے پہلے تو سمجھ لیں  کہ، مڈ لائف کرائسس کے جتنے بھی چیلنجز، مشکلات ، مراحل ہوتے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے وقت اور توانائی دونوں چاہیے ہوتی ہے

 

درج ذیل اصول یا ٹپ اپنا کر انفرادی طور پر آپ اپنی مڈل ایف کرائسس کو  ایک صحت مندانہ طرز زندگی میں میں بدل سکتے ہیں۔

اپنے جذبات کو دریافت کیجئیے انہیں قبول کیجئے اوران کا اظہار کیجئے  ، انہیں مناسب لوگوں سے  شیئر کیجئے۔

 

اپنی زندگی پر یا اپنے بارے میں ، باقاعدہ غوروفکر کیجیے، خود شناسی اور ادراک کا دامن تھامے رکھئیے۔

 

اپنے پارٹنر کے ساتھ ساتھ اضافی وقت وقف کیجیے

نئے اہداف تشکیل  کریں

نئے مشاغل اپنائے

سفر کیجیے

فلاح و بہبود کے کاموں میں حصہ لیجیے

اگر صاحب اولاد ہیں تو بچوں کے ساتھ زیادہ  وقت گزارئے

اپنی ذہنی صحت پر خاص توجہ دییجے ، ور اگر ضرورت محسوس کریں ، تو کوئی  ذہنی ہم آہنگی حاصل کرنے کے لیے کوئی سپورٹ گروپ جوائن  کیجیے یا کسی ، ماہر نفسیات /تھراپسٹ سے رابطہ رکھے

جسمانی ورزش بھی لوگوں کو ،اپنی صحت کو برقرار  رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک خود مختار اور چاق و چوبند زندگی کے لیے ضروری ہے

بڑھتی عمر کے ساتھ انسان کا جسم  ڈھل جانا عام بات ہے ، لیکن یہ ضروری  نہیں کہ اسے بھی مڈلائف کرائسس کا نتیجہ سمجھا جائے۔ اور تو اور  یہ بھی کوئی مسلمہ اصول نہیں کہ اسے ڈھلکا ہی رہنے دیا جائے ۔

بہت سے لوگ جسمانی ، نزاکت، کمزوری ، اور تھکن ، کو  اکثر اوقات بڑھاپے منسوب کر دیتے ہیں

جبکہ یہ

سستی اور غیر فعالیت کا نتیجہ ہوتی ہے

 

غیر صحت مندانہ  طرز زندگی /کھانا پینا اور اس کے ساتھ جڑی  بہت سی مشکلات  پر قابو پا کر ، زندگی کو آسان بنایا جاسکتا ہے حتیٰ کہ ان کے بالکل الٹ رویے اپنا لیجئے جائیں تو اسے بہتر بنانا بھی ممکن ہے ۔

اس کے علاوہ ایک بہت بڑا فائدہ  یہ بھی ہے کہ مخصوص طرز زندگی اپنا کر ،   انسان دل کی بیماریوں سے بھی بچا رہتا ہے

 

بلڈ پریشر گٹھیا کا مرض،  شوگر کے ساتھ ساتھ دوسری بیماریوں سے بھی بچاو کے چانسز قوی ہوتے ہیں۔

حتیٰ کہ ورزش  جسمانی اور ذہنی ، دونوں کے ملاپ سے آپ ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں ، جنسی فعالیت بھی حاصل ہو سکتی ہے ، جو  کہ ذہنی دباو/ ڈپریشن وغیرہ سے بچنے کےلیے ،  بذات خود ایک بہت بڑا اور اہم فیکٹر ہے۔

 

زوہیب اکرم

کراچی کے رہائشی اور سند یافتہ انجینئر ہیں ۔لیکن لکھنے پہ آئیں تو ان کا قلم ایسے لفظ لکھتا ہے جو پڑھنے والے کو نوچنے اور دبوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔شخصیت الفاظ ہی کی طرح ذومعنی ہے جو الجھاو کے ساتھ تال میل کرکے ایک منفرد سراپے کو جنم دیتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top