Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

چہل قدمی کے فوائد

چہل قدی ، صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چلنے کیلئے قدم اٹھاتے تو قوت سے پاﺅں اکھڑتا تھا اور قدم اس طرح رکھتے کہ آگے جھکنا پڑتا اور تواضع کے ساتھ قدم بڑھا کر چلتے۔ چلنے میں ایسا معلوم ہوتا کہ گویا کسی بلندی سے پستی میں اتر رہے ہیں۔ (نشر الطیب)

اس طرح چلنے کہ بے شمار فوائد ہیں ۔ مزید یہ کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی سواری بھی کی، لیکن علمائے حدیث لکھتے ہیں کہ کبھی سواری کی لگام تھام کر پیدل چلنا چاہیے۔ یعنی مقصد آدمی کا پیدل چلنا ہے۔

آج اس نعمت کو چھوڑ کر ہم پریشان ہیں ۔ پاﺅں پہلے پیدا ہوا یا پہیہ؟ پیدل چلنا سنت ہے۔ ایک سنت چھوڑنے سے کیا کیا نقصانات ہوئے اور اس سلسلے میں جدید سائنس کیا کہتی ہے؟ آئیے ایک نظر اس پہ ڈالتے ہیں۔۔

یہ بات تجربات کے ذریعے ثابت ہوچکی ہے کہ جو لوگ پر تعیش اور آرام دہ زندگی گزارتے ہیں اور اپنے بیشتر کام مشینوں کے سہارے کرتے ہیں اور پیدل بالکل نہیں چلتے وہ اکثر و بیشتر بیماریوں اور پیچیدہ قسم کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں، جب کہ پرمشقت اور جسمانی طور پر مصروف زندگی گزارنے والے، اوسط درجے یا زیادہ پیدل چلنے والے افراد دل کی بیماریوں، شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ سے تو محفوظ رہتے ہی ہیں بلکہ ماہرین کے مطابق ان کی عمر میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ تیز قدم سے چلنے والے یا دوڑنے والے لمبی عمر پاتے ہیں۔

پیدل چلنا نہ صرف سنت نبوی ہے بلکہ کولیسٹرول، موٹاپا اور جوڑوں کا درد، دل کے امراض ہارمونز کی بے ترتیبی، دمہ کا مرض، الرجی، بلڈ پریشر، خون کا گاڑھا پن، ٹانگ یا ایڑیوں کا درد، معدے کی تبخیر، گیس بدہضمی، ڈپریشن، ذہنی تناؤ، بھوک کا نہ لگنا شوگر کے مریض کی بے چینی، ٹانگوں میں درد، کمزوری، گردے فیل ہونا، اعصابی کمزوری اور بڑھاپے کا جلدی آجانا ان سب امراض سے بچنے کا آسان حل چہل قدمی ہے۔ تحقیق کے بعد بہت سے محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چہل قدمی یا تیز قدموں سے روزانہ آدھے پونے گھنٹے چلنے کا معمول اپنا کر ہم اپنی زندگی میں خوش گوار تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔

محققین خاص طور پر خواتین کو موٹاپے سے بچنے اور مشکل ورزشوں سے نجات کے لیے صرف اور صرف چہل قدمی اور تیز قدمی کا مشورہ دیتے ہیں۔ورزش کے ماہرین خواتین کو درپیش کمر اور اس سے نچلے حصے کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے خاص طور پر چہل قدمی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ خواتین کی فٹنس کے لیے چہل قدمی بہترین تھراپی ہے۔ چہل قدمی سے سانس کی نالیوں کے پٹھوں کو طاقت ملتی ہے اور نظام تنفس بہتر ہوجاتا ہے۔ چہل قدمی خواتین کے پچھلے حصے میں موجود پٹھوں کے لیے بہترین ورزش ہے۔ اس کے علاوہ اس سے پیروں، جسم کے اوپری حصے اور پیڑو کے آس پاس موجود مسلز کی قوت برداشت بھی بڑھ جاتی ہے۔چہل قدمی سے بلند فشار خون کی سطح نیچے آجاتی ہے، جس سے جسم دباؤ اور تناؤ سے نمٹ لیتا ہے۔ چہل قدمی کے ذریعے خواتین ’’HDL ‘‘ (کولیسٹرول کی ایک قسم) کو قابو میں رکھ سکتی ہیں، جو دل کے کئی امراض کا باعث بنتا ہے۔ حاملہ خواتین وضع حمل کے بعد جسم کو متناسب بنانے کے لیے چہل قدمی کریں۔ چہل قدمی یوں تو آپ کسی بھی وقت کر سکتی ہیں، مگر صبح و شام کو کی گئی چہل قدمی کے زیادہ بہتر نتائج دیکھے گئے، کیوں کہ عموماً اس وقت آپ کا معدہ خالی اور موسم معتدل ہوتا ہے، جس کے باعث آپ کے ’’انڈورفین‘‘ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ ایسا ہارمون ہے جو ہمیں سب کچھ ٹھیک ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ وہ خواتین جو دفتری مصروفیات کے باعث وزرش نہیں کر سکتیں اور نہ ہی بس اسٹاپ تک پیدل چل کر جا سکتی ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنے دفتر کے کمرے ہی میں ابتداء میں ہلکے ہلکے اور پھر تیز تیز چکر لگائیں۔ پہلے دن پانچ اور پھر بہ تدریج اس میں اضافہ کرتی جائیں۔ دن میں پندرہ منٹ ضرور چہل قدمی کریں۔

ایک تحقیق کے مطابق تیز رفتار چہل قدمی کے فوائد، جوگنگ سے صحت پر پڑنے والے مثبت اثرات کے مساوی ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ جرمن اسپورٹس یونیورسٹی کے ہیلتھ سینٹر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر Ingo Froboese نے پیش کی ہے اسکے مطابق، تیز رفتار چہل قدمی کا اصل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک گھنٹے میں تقریباﹰ 4.5 کلومیٹر سے چھ کلو میٹر تک کا فاصلہ تیز رفتار چہل قدمی سے طے کیا جائے۔ پروفیسر Ingo Froboese کے مطابق چہل قدمی سے انسانی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کارڈیو ویسکیولر سسٹم نہ صرف مضبوط ہوتا ہے بلکہ یہ پھیپھڑوں کی صلاحیت بڑھانے اور خون میں چکنائی کی سطح کم کرنے میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، شام کے اوقات میں صرف آدھے گھنٹے کی تیز رفتارچہل قدمی طویل عرصے تک صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو دن بھر چلتے رہتے ہیں یا خاص طور سے دن کے کسی بھی حصے میں تین بار دس منٹ پیدل چلتے ہیں ان کے دل کی حالت اور خون کی گردش میں بہتری آتی ہے اور وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں تحقیق کےمطابق صحت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم گن کے پیدل چلا جائے۔اس مقصد کے لئے پیڈو میٹر یا قدم گننے والے آلےکو بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

چہل قدمی سے انسانی جسم پُرسکون ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ چہل قدمی ذہنی دباؤ کو دور کرتی ہے اور طبیعت ہلکی کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صبح سویرے یا شام کو چہل قدمی سے واپسی کے بعد خود کو ہلکا پھلکا اور تازہ دم محسوس کرتے ہیں۔چہل قدمی کی عادت کو اپنانے سے بڑھاپے میں اوسیٹوپروسس کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ 60 برس کی عمر کے بعد روزانہ پیدل چلنے کی ورزش بڑھاپے سے پیدا ہونے والی بیش تر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خاص طور پر یادداشت کھو جانے والی بیماریوں میں چہل قدمی نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چہل قدمی کے ایک سو ایک فوائد ہیں اور نقصانات صفر۔ ماہرین طب کے مطابق ہمارے پیر کے تلووں میں کچھ خاص حصے ہوتے ہیں، جن پر چہل قدمی کے دوران جب دباؤ پڑتا ہے، جو جسم کو آرام ملتا ہے۔

ٹہلنے یا سست روی سے چلنے کو چہل قدمی یا پیدل چلنا نہیں کہا جاسکتا ہے۔ چہل قدمی کا مطلب ہے کہ آپ چہل قدمی سے شروع کریں اور ایک مخصوص چال کے ساتھ نپے تلے قدموں سے اضافہ کیا جائے اور تیز رفتاری کا خاص طور پر خیال رکھا جائے تو یقیناً متوقع نتائج حاصل ہوں گے۔ ٹہلتے ہوئے گپ شپ کرتے رہنا مونگ پھلی، پاپ کارن، ڈرنکس وغیرہ کا بے دریغ استعمال کرنا یا چھالیہ، سونف، سپاری، سگریٹ پان کا استعمال کرنا، آپ کو ہرگز چہل قدمی کے فوائد نہیں دے گا۔ سست رفتاری سے چلنے، ٹہلنے والے اس سے بجائے فریشنس محسوس کرنے کے تھکن اور کمر درد یا پنڈلیوں میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔

ذہنی جسمانی سکون و آرام، اسمارٹنس اور صحت مند سڈول جسم کے لیے چہل قدمی سے تیز قدمی کی طرف جانا ہوگا۔ یاد رکھیں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں دماغ جسم کا وہ واحد حصہ ہے جو آرام نہیں کرتا۔ دماغ کو آرام کی ضرورت ہے اور اسے یہ آرام صحت مند طرز زندگی سے ملتا ہے۔ پیدل چلنے یا تیز قدمی کا عمل ہمارے دماغ کو آرام دینے کا سب سے آسان، آرام دہ اور سستا طریقہ ہے۔ اگر چہل قدمی کسی سرسبز مقام پر، جیسے پارک یا باغ میں کی جائے، تو آنکھوں کو تازہ صاف ستھری ہوا اور سبزہ قوت عطا کرتا ہے۔ مزاج پر بھی اس کے خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یادداشت بھی تیز ہوتی ہے۔

تو پھر آج ہی سے واک پر جائیے، اگر باہر نہیں جا سکتے تو اپنے گھر کہ صحن، چھت یا کمرے کو بھی اس کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر یاد رکھیے کہ واک کا مطلب ٹہلنا نہیں، بلکہ تیز چلنا اور پھر کچھ دیر کے لیے بھاگنا ہے یا پھر تیز تیز چلنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

سیدہ عاصمہ علی

ادب سے اتنا تعلق ہے کہ جس عمر میں بچے پریوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں میں نے زندگی کی حقیقتوں کو پڑھا اور اتنا پڑھا کہ گھبرا کہ پریوں کہ دیس میں پناہ لے لی.. اب تک حقیقتوں سے منہ چھپائے بیٹھی ہوں.. زندگی جب وہاں سے باہر کھینچ لاتی ہے تو درد الفاظ بنکے بکھر جاتے ہیں آس پاس چاہے وہ اپنے ہوں یا کسی اور کہ... بس اتنا تعارف ہے کہ سلجھی ہوئی دنیا میں الجھی ہوئی لڑکی ہوں....

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top