Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

نبیوں کی میراث کے ہر امین کو سلام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نام استاد

کچھ ایسے بھی دن تھے کہ میں گھٹنوں کے بل چلتی تھی
لفظ میرے مجھ سے بس توتلی باتیں کرتے تھے
مبہم مبہم مدھم مدھھ لفظوں کی سیاہی تھی
الٹی سیدھی سیدھی الٹی لفظوں کی طغیانی تھی
دلدل سی تھی بکھیرا تھا پہنچ میں بس اندھیرا تھا
لفظ جھگڑتے قلم سے پھسلتے کاغذ پہ جب جاتے تھے
خام خیالی بنجر پن کا منظر بس دکھلاتے تھے
اک دن سنا شہر میں اک معالج ایسا بیٹھا ہے
میری بیماری کا بس وہی ایک مسیحا ہے
لفظوں کا وہ آقا ہے، تخیل جس کا خادم ہے
مجھ کو سکھلائے گا سلیقہ اچھی قلمکاری کا
بےہنگم سی قلم کی دھڑکن بھی وہی سدھارے گا
اک جگنو سا سنگ آیا تاریکی میں جس نے رستہ دکھایا
وفا کے پیکر ننھے ساتھی نے شعر و ادب کے شاہ تک پہنچایا
شفقت، محبت، بحرِ عنایت؛ اس شاہ کے وزیر کھڑے تھے
اپنی میلی سی گٹھری تھی، سنگ بکھری زلفیں اور لٹیں تھیں
شاہ نے عرضی مان لی میری جگنو کی سفارش پر
رفتہ رفتہ سنوری میں بھی آقا کی رعایت پر
مجھ کو اس نے سبق سکھائے شعروں کی بحروں کے
آوارہ سے لفظوں کو نظم و ضبط کی لہروں کے
میلی کچیلی پگلی لڑکی یوں اچھی سی بن بیٹھی
لفظوں کو پرو کے اپنی ساری کہانی کہہ بیٹھی
شاہ نے احسان کیا، دکھتی رگ کو تھام لیا
اب بھی لفظوں کے آقا کا بہتا دریا جاری ہے
ساغر اپنا بھر لے ساقی آقا جی کی ندیا سے
لفظوں کی مے سے دیوانہ کر لے گا تو دنیا کو
شاہ میرے وہ میرے رہبر میرے استادِ کامل ہیں
مہر و ادب کی دولت سب شاگردوں کو دینے والے ہیں
حق ہے یہ کہ حق مجھ سے ادا نہیں یہ ہو سکتا
ان کی مخلص خدمتوں کو میں اللہ ہی کو سونپتی ہوں
کچھ اپنی عاجز دعائیں ان کے حق میں کرتے ہیں
سلامت رکھے اللہ ان کو تاج ِ شاہی سر پہ سجے
دین و دنیا میں ان کی ایسی دھوم مچے
دنیا عش عش کر کے بولے ہاں یہی مہاراجہ ہے
پتھر کو پکڑ کر پارس یہی تو بناتا ہے۔۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

اقراء فرید

بی ایس باٹنی کرنے والی عام سی لڑکی جو اپنی ذات کی پرتوں سے ناواقف ہے لیکن جب قلم تھامتی ہے تو کسی سحر کے زیر اثر، خود کو شعروادب کا راہی تصور کرتے ہوئے مست و بیخود کہیں دور نکل جاتی ہے اور پھر اسے اپنا آپ انجانے رستوں پر موجود اپنے کرداروں میں ملا کرتا ہے اور وہ ان کا ہاتھ تھامے اپنی ذات کی کھوج میں لگ جاتی ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top