Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

اے میرے زمیں زاد سجن

اردو نظم جو اپنے پڑھنے والوں کیلئے نئی روایات کی دہلیز ثابت ہوتی ہے ۔۔۔۔ پڑھئے اور اپنی رائے سے آگاہ کریں ۔

خدیجہ خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شش جہت تیرے ساتھ کی آرزو!
مجھے اپنا اسیر کر رہی ہے
اے میرے زمیں زاد سجن۔۔۔
تمہارا اس طرح میری چاہ میں مغلوب ہونا
میری پیشانی کے بخت کی وہ روشنائی ہے
جس سے تیری میری تقدیر میں۔
ہمارے ملن کا جملہ لکھا گیا تھا۔
لکھا گیا تھا کہ ایک شاہ زادی!!!
وہ دیا بن کے روشن ہوگئی کہ جس کی کرنیں
محبت کے مقبروں سے پھوٹیں گی۔
کہ جس کی آنکھ کے غرور سے حسینائیں مصر کی روٹھیں گی۔
لکھا گیا تھا کہ ایک گھمنڈی انا زادے کے قدموں میں۔
وہ پہلی ملاقات ہی اپنا آنچل چھوڑ آئے گی۔۔
اے میرے محبوب صنم!
میری پلکیں تیری محبت کے کرب کے بوجھ سے لرزتی ہیں۔
میرا گمشدہ آنچل اس برس۔۔
کسی ترک کے جنگی گھوڑے کی زین میں اڑسا ہوا ہے۔۔
جس کی رگوں کا لہو،آگ پر پڑے دودھ کی طرح کڑھتا ہے۔
اے میرے سنگ دل شاہ۔
جوتو” امرربی” سے “قبول ہے” کہہ دے۔
تو وہ ترک جنگجو اپنا گھوڑا میری جھونپڑی کے سامنے روک سکتا ہے۔۔۔۔
کہ اب کے برس تیرے دلاری شاہ زادی۔۔
شش جہت تیرے ساتھ کی آرزو میں
نیم پاگل سی ہو چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top