Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

فریب ۔۔۔ مجموعہ کلام

لفظ فریب پر لکھی گئی کچھ نظمیں اہل ذوق کی نذر ۔۔

فریب_
قیمتی پل چاہت میں نہ گنواتے
ہم فریب محبت، کھبی نہ کھاتے
اگر تم بتاتے
محبت کی آنچ میں دھواں دھواں ہو
ہجر کی کھٹن راہوں سے
زمانے کی پر تپش نگاہوں سے
تم پریشان ہو
خوابوں کی دنیا میں آکر تو دیکھو
حقیقت میں کھبی آزما کر تو دیکھو
میرا ہاتھ پھیلا ہے
پھیلا ہی رہے گا
تمنا میں تمہاری
بن کے بھکاری
دل کو سلگایا ہے
جلتا ہی رہے گا
فریب ہستی سے جو نکلنا چاہو
کسی کی خاطر جو جینا چاہو
تو ہمیں بتانا
سراپا انتظار ہیں
قیامت تک منتظر ہی رہیں گے

لینا رخ تاج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسا دلفریب تھا
وہ جو اک فریب تھا
ابتداء میں کھیل تھا
انتہا ہوئی ! جھمیل تھا
اک ساتھ کے سراب میں
لٹا وہ میرا شباب تھا
دوریوں کے گلے نہیں
میرے وہ رہے نہیں
بے بسی کا راج ہے
زندگی یونہی تاراج ہے
گزرا وقت خمار میں
رہا وہی شمار میں۔۔۔۔

رابعہ شریف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو ذات کا فریب ہے
یہ حصارِ جاں، یہ حسین تر،
طلسماتی نگری میں کھویا ہوا،
حسین پیرہن میں سمویا ہوا،
گردشِ ادوار کی…
تمسخر بھری نگاہیں،
معنی خیز لہجے اور
پیشانی کے محراب کو
ادائے دلبری سے ٹھکراتا ہوا….
نہ پل کا پتہ ہے، نہ کل کی خبر ہے،
مگر یہ کیا کہ بلندیوں پر اپنی نظر ہے،
اونچائیوں کی حد ہے وہاں تک…
کہ حشراتِ انساں کی لحد ہے جہاں تک…
کہ ٹوٹے دلوں کی صدا گونجتی ہے،
بن آواز کے بے کراں چیختی ہے،
نہ میں ہادی، نہ چارہ گر..
نہ رہزن، نہ رہبر،
نہ خضر کا پیکر،
نہ حاتم کا عنصر،
نہ لفظوں کا جادو،
نہ پیر اور نہ سادھو،
نہیں ہوں میں انساں
فقط مٹی کا پتلا…
چلا جا رہا ہوں،
چلا جارہا ہوں،
بدن کے قفس میں،
خواہشوں کی بیڑی پہن کر،
مبتلائے رقص ہوا جارہا ہوں…
اس حسین فریب میں بس جیا جارہا ہوں…
نہ میں ہوں مسیحا،
نہ مرا کوئی مسیحا،
فقط اپنی ہی خاطر جیے جارہا ہوں….
مرا جارہا ہوں….

کرن ہارون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نا فریب دے میرے مہرباں
بس پاس رہ شب روز تو
نا کوئی شکایت تجھ سے کروں
نا کوئی وضاحت طلب کروں
جیسا تو چاہے ویسی رہوں
تیرے رنگ ہی میں ڈھل جاؤں
تیری آہٹ پہ میں مہک اٹھوں
تیری بے رخی پہ سلگ جاؤں
یہ جیون تجھ پہ نثار ہو
تو مکمل مجھ کو راس ہو
اس فریب سے تو نکال دے
میرے مہرباں بس آس دے

ام ہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فریب

ﺗرﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے فسوں میں آئے ﮔﺎ
ﺩﻝ ﯾﮧ مرا پھر ﺳﮯ ﻓﺮﯾﺐ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻟﻤﺤﮯﺳﺎﺭﮮﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮨﻮں گے
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻼﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

ﻟﮑﮫ ﮐﮧ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﻧﺎﻡ اپنے ﮨﻤﺪﻡ ﮐﺎ
ﻭﺭﺩ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

آئے گی تعلق میں آزمائش کی گھڑی
اک دوسرے کا خون جلایا جائے گا

ﺣﺎﻟﺖ ﺯﺍﺭ ﮐﭽﮫ یوں ہو گی جدائ میں
ﺩﻥ کو آرام، نہ شب میں چین آئے گا

بٹھائے گا عشق یار کے قدموں میں
ترا غرور یوں خاک میں ملایا جائے گا

سنا کے سرِانجمن نغمے محبت کے
ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﮐﻮ اپنی ﺭﻧﮕﯿﮟ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

ﺭﺍﺣﺖِﻭﺻﻞکہاں اس لمحے بھی
خوفِ ہجراں سے ڈرایا جائے ﮔﺎ

فریحہ ۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top