Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

اداسی تم تو شاہد ہو

اداسی باخبر ہو تم کہ میں نے ہجر اسکا کس طرح منایا ہے ! لبنی نورین کے قلم سے محبت کی اداسی لکھتی خوبصورت نظم لنک پہ کلک کرکے مکمل پڑھیں اور داد دیں

اردو شاعری کے شائقین کے لیے اداس اردو شاعری - لبنی نورین کے قلم سے

ہجر کی تنہا راتوں میں اک ساتھ ہمیشہ رہتا ہے ، جسے اداسی کہتے ہیں ، اور اسی اداسی کو لبنیٰ نورین نے اپنے جذبات کی گواہ بنا لیا ، اردو شاعری کے شائقین کے لئے ایک ایسی اداس نظم ، جس میں اک اقرار ، اک گماں بھی ہے ، اداسی بھری نظم جس میں شاعرہ اپنے محبوب کی کم یقینی اور اپنی وفاؤں کو بیان کرتی ہیں ، لبنیٰ نورین کے قلم سے لکھی نظم پڑھیں ” اداسی ”


وہ شکی ہے یقیں کچھ کم ہی کرتا ہے
مگر اِس پل اداسی تم تو شاہد ہو
کہ اس سے دور ہوکر بھی
اسے ہی یاد رکھا ہے
اسی کے ٹوٹے وعدوں سے
یہ گھر آباد رکھا یے
اداسی با خبر ہو تم
کہ میں نے ہجر اُس کا
کس طرح سے منایا ہے
جدا ہو کر بھی میں نے
ساری رسموں کو نبھایا ہے
اداسی میں ہیں دن کاٹے
شبیں آنکھوں میں کاٹی ہیں
یہ میری آنکھ کے آنسو
یہ میرے دل کا سونا پن
اسے معلوم ہی کب ہے ؟
وہ شکی ہے یقیں کچھ کم ہی کرتا ہے
مگر اِس پل !! اداسی تم تو شاہد ہو


اداس شاعری کے شائقین کے لئے گفتگو ڈاٹ کام پیش کرتا ہے دل کو چھو جانے والی نظم ، جس میں شاعرہ اپنی اداسی کو گواہ تصور کرتے ہوئے اپنی وفاؤں کا اقرار کرتی ہیں ، اداسی بھرے ان جذبات کا کمنٹ باکس میں اظہار کریں ۔۔۔ اور لبنی نورین کی نظم پڑھنے کیلئے کلک کریں ” بستر پہ مرے ہوئے خواب ” یا وزٹ کریں گفتگو ڈاٹ پی کے کا ” نظم ” سیکشن

لبنی نورین

تعلیم ____نفسیات میں بیچلرز
گھریلو خاتون ہوں ۔۔۔۔۔شعروادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تمام ہی شاخوں سے دلچسپی ہے ۔لکھنے لکھانے کا فن اور شوق ورثے میں ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top