Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

آج کا انسان

خدیجہ خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کل شمار لندن کے مشہور ڈاکٹرز میں ہونے لگا تھا۔۔۔ بڑے بڑے نام اپنی معمولی بیماری کے لیے اس سے اپوائنٹمنٹ لیتے تھے اور منہ مانگی رقم ادا کرتے تھے۔۔ وہ پاکستان سے پانچ سال قبل وہاں پبلک ہیلتھ کی ڈگری لینے گیا اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔۔۔ اس نے جہاں اور بہت کچھ پیچھے چھوڑا وہاں یہ خیال بھی چھوڑ دیا کہ دنیا میں بے لوث محبت نام کی کوئی چیز بھی ہوتی ہے ۔۔اسکے نظریات میں یہ بدلاو مکمل حادثاتی تھا ۔

ایک ماہ پہلے تک وہ ایک چھوٹے سے کلینک میں بیٹھا ایک عام سا ڈاکٹر تھا جو بیرون ملک اپنی پہچان بنانے کے لئے کبھی مریضوں کو فیس میں ڈسکاؤنٹ دیتا اور کبھی مریض سے ملتے وقت چہرے پر مسکراہٹ جمائے رکھتا ۔۔۔ اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنے سینے پر ہاتھ پھیرتا تاکہ مریض اسکی خوش اخلاقی سے متاثر ہوکر دوبارہ اس کے کلینک آئے ۔۔ امیر اور بااثر مریض اول تو اسکے کلینک پر آتے ہی نا تھے ۔کبھی آ جاتے تو وہ بچھ بچھ جاتا ۔
ایک دن ایک مریض نے اسے ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کا رسمی دعوت نامہ دیا اور وہ کلینک بند کرنے کے بعد بریف کیس اٹھائے وہاں پہنچ گیا۔ وہاں موجود کالے انگریزوں کو اس کی آمد ناگوار گزری اور انہوں نے کچھ طنزیہ فقرے کسے۔۔

اسکا مریض مائیک پہ کھڑا تقریر کر رہا تھا ۔۔اختتام پر اس نے ڈاکٹر اعجاز اعوان کا شکریہ ادا کیا جنکی دوا اور توجہ کی بدولت وہ حالیہ بیماری سے صحت یاب ہوا تھا ۔۔ جبکہ ڈرا سہما بیٹھا ڈاکٹر اپنی اس غیر متوقع پذیرائی پر خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔۔ جب اچانک اس کا نام پکارا گیا اور کچھ تجربات شیئر کرنے کی دعوت دی گئی ۔۔۔
اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں لیکن وہ اٹھا اور دھیرے دھیرے سٹیج کی طرف بڑھنے لگا ، کالے انگریزوں کے گروپ نے اس کی طرف طنزیہ انداز میں دیکھا۔

Mr Awan!
Share some of your life experience and patterns please
Please come

مائیک اسکے سامنے کرکے مقرر سٹیج سے ہٹ گیا
ہیلو ایوری ون!!
اس نے تھوک نگلا اور انگریزی میں گویا ہوا۔۔۔ میں نے زندگی سے سیکھا ہے کہ

” بے غرض محبت اور بے لوث تعلق نامی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی”

 

سامعین میں شہر کا میئر بیٹھا ہوا تھا جس نے اپنی وفا شعار بیوی کو شہر کے سابقہ میئر کی بیٹی سے تعلقات بنا کر سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔۔
پہلا ہی جملہ اس کے دل پر لگا اور وہ کھڑا ہوکر تالیاں بجانے لگا اور سٹیج پہ۔کھڑے اندھے کو ایک آنکھ مل گئی ۔۔ اعجاز کا حوصلہ بلند ہوگیا اور ٹانگوں کی کپکپاہٹ ختم ہوگئی۔۔ اس کی زبان اور دماغ ایک ساتھ چلنے لگے اور وہ اپنے موقف کو مدلل انداز میں پیش کرنے لگا ۔۔

“حتی کے ماں باپ کو بھی آپ سے غرض ہوتی ہے۔بیوی، محبوبہ ،اولاد، بہن، بھائی یہ سب رشتے کسی نہ کسی ضرورت کے تحت آپ سے جڑے ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ضرورت مادی ہی ہو بلکہ نفسیاتی یا جذباتی بھی ہوسکتی ہے۔۔
اور کچھ نہیں تو بے غرض کہلائے جانے پر جو سکون اور تفاخر کا احساس ملتا ہے وہی غرض بن جاتا ہے۔۔”

اس آخری جملے پر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔۔ہر کوئی اپنے اپنوں کی چاہت کو مشکوک اور منطقی انداز میں پرکھ رہاتھا۔۔

“اپکے والدین آپ کو خاندان میں اپنی اونچی ناک یا بڑھاپے کے آسرے کی امید پر پڑھاتے یا محنت کرتے ہیں۔۔۔
اس نے جاری رکھا ۔۔

اس کے ذہن میں میں اپنا گاؤں آگیا۔۔۔۔ اس کی ماں اسکے بچپن میں مر گئی تھی ۔۔۔اور اسکے باپ نے اسے دن رات محنت کرکے ماں بن کر پالا تھا ۔۔

سارا گاؤں اس کے باپ کی تعریف کرتا تھا ، جس سے اس کے باپ کی انا اور فخر کو مزید حوصلہ ملتا۔۔ اس نے اپنی زمین بیچ کر اسے باہر بھیجا تھا۔ اور چار سال کی ڈگری کے دوران کبھی پیسے کی کمی نہ آنے دی۔ سارا خاندان حسد کرتا ہوگا میرے باپ سے کہ اس کا بیٹا لندن کا ڈاکٹر ہے اس نے سوچا۔۔۔
اور میرا باپ بھی فخر سے کالر اکڑا کر پھرتا ہوگا برادری میں۔۔
تو اس لحاظ سے اس نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا،
اس کے نظریات مزید پختہ ہو گئے۔اور اس کے دلائل اور ہال کی تالیوں میں شدت آتی گئی وہ اسٹیج سے اترا تو کالے انگریزوں کا گروہ اسے توصیفی انداز میں دیکھ رہا تھا ۔۔اسے اپنی زہنی صلاحیتوں اور سوچ پر فخر ہوا۔

 

میئر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور آگے بڑھ کر اسے گلے لگا کر اس کا کارڈ طلب کیا۔۔۔وہ جو پڑھائی کے بعد سے کلینک بنانے کے قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا ، ایک دم چہک اٹھا۔

دو دن بعد اسے ایک پبلشر کی طرف سے کال موصول ہوئی، جو کہ میئر کا دوست تھا ۔۔۔ کہ “انسان ایک خود غرض معاشی اور معاشرتی حیوان ہے” کے موضوع پر نفسیاتی دلائل سے بھرپور ایک کتابچہ تیار کریں۔

سوشل میڈیا پر اس کی تقریر کے جملے چند ہی گھنٹوں میں اس کی تصویر کے ساتھ وائرل ہو گئے ۔۔۔۔نوجوان نسل کیلئے یہ امر بہت سرور آور تھا کہ ان پر پیسے یا توجہ لگا کر کوئی احسان نہیں کیا جارہا بلکہ یہ ایک دو طرفہ لین دین ہے ۔اس نے کلینک میں ایک ڈائری اور پین رکھ لیا تاکہ جب بھی اس موضوع پر کوئی دلیل یا مثال ذہن میں آئے تو وہ فورا اسے لکھ لے ۔۔ اب وہ معمولی مریضوں کو خود چیک نہیں کرتا تھا بلکہ اس کام کے لیے اس نے ڈسپنسر رکھ لیے تھے۔

اس کے باپ سے اس کی آخری فون کال اس کی ڈگری کے دوسرے سال ہوئی تھی اور وہ کہہ رہا تھا
” پتر میں تجھے ڈاک ڈالا کروں گا مجھ سے نہیں ہوتے یہ فون وون”
اور وہ ہنس دیا تھا ۔۔ ہر مہینے اسے اپنے باپ کا خط موصول ہوتا تھا۔
فرق یہ تھا کہ چار سال ان خطوط کے ساتھ پیسے بھی آتے تھے جب کہ ڈگری کے آخری سال کے خط میں لکھا تھا کہ” پتر میرا فرض ہوگیا پورا
ہن اپنا کما تے کھا ”

 

کلینک کے لئے دوستوں سے قرضے کے لیے منت سماجت کرتے اس نے کئی بار سوچا کہ یقینا اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی ہوگی ورنہ کروڑوں کی زمین چار سال میں کیسے ختم ہوگی لیکن انا تھی اس نے پیسے نہ مانگنے تھے، نہ مانگے۔

 

چھ مہینے میں اس کا سارا قرض اتر گیا اور کلینک اس نے مزید کشادہ اور آراستہ کرلیا تھا۔ وہ انسانی تعلقات اور نفسیات پر بڑے مدلل بیان دیتا۔۔ اس کی کتاب مکمل ہوچکی تھی جس کے چھپ جانے کے بعد اسے اچھی خاصی رقم ملتی۔اس کے انٹرویوز کئی چینلز پر لگ چکے تھے۔ یونیورسٹیاں اسے بھاری معاوضے کے عوض لیکچرز کیلئے بلاتیں۔۔۔۔
سر ! میرا ایک سوال ہے
ایک نٹ کھٹ سی سنہری بالوں والی لڑکی سامعین میں سےکھڑی ہوئی ۔
جی کہیں؟
کیا بے غرض رشتے ابھی اس دور میں ناپید ہوئے ہیں؟ یا کبھی وہ بے غرض تھے ہی نہیں؟
اگر ایسا ہے تو ایک عام ذہن کو ادراک کیوں نہیں ہوتا مخلص لوگوں کی غرض کا؟
وہ دھیرے سے مسکرایا ۔

کیونکہ مخلص لوگوں کی غرض بظاہر یا مادی لفاظ سے بہت موہوم لیکن ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے بہت مضبوط ہوتی ہے ۔ اسقدر مضبوط کہ اس غرض کی تکمیل پہ وہ خود کو فاتح سمجھ کے خوشی سے پھولے نہیں سماتے جبکہ دوسرے کو لگتا ہے یہ ہماری خوشی میں خوش ہو رہے ہیں ۔

لیکن سر ! میرے خاوند یا میرے والدین کی خوشی ہی میری خوشی میں ہے ، تو کیا یہ بھی غرض ہوئی ؟

بالکل یہ بھی غرض ہوئی ، یہ غرض کی سب سے پیچیدہ قسم ہے ۔ آپ انکے سینس آف پرائڈ اور اچیومنٹ کو تقویت بخشتی ہیں جبکہ بدلے میں انہیں صرف آپکو خوش ہی تو رکھنا ہوتا ہے ۔

سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔

کتاب چھپ چکی تھی ۔ ایک رات جب وہ سو کر اٹھا تو اس کے بینک اکاونٹ میں خاصی موٹی رقم اور اخبار میں اس کی کتاب کا تعارف ا چکا تھا ۔۔۔
بہت سی مشہور ویب سائٹس کے مالکان کی ای میلز اسے موصول ہوئیں ۔ وہ اسکے مضامین اور انٹرویو چھاپنا چاہتے تھے ۔
اس نے سوچا ایک بار پاکستان واپس جاکر اپنے باپ کو وہی زمین خرید کر واپس دے دے گا تاکہ جو فخر اس کا باپ اپنے کندھے پر سالوں سے لئے پھر رہا ہے وہ اب اسے حاصل ہوجائے۔

برادری والوں کو مجھے بٹھانے کے لئے اپنے گھر میں جگہ نہ ملے گی۔۔
اس نے ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے سوچا۔۔
ہوا کی گرد سے بچنے کے لیے اس نے ناک پر رومال رکھ لیا “ویلکم ٹو پاکستان ”
وہ طنزیہ مسکرایا ۔۔ گاؤں میں پہنچا تو شام ہو چکی تھی کچھ نئے چہرے اس کے سامنے سے گزرے،
جنہیں وہ پہچان نہ سکا ۔گلیوں کی غلاظت سے اپنا قیمتی بریف کیس بچاتے ہوئے اس نے حویلی کے بڑے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔
اور انتظار کرنے لگا ،
اسکے ذہن میں موجود صورتیں بہت مدھم ہو چکی تھیں۔ ۔ اور وہ انہیں دہرانے کی ناکام کوشش سے بیزار کھڑا تھا ۔

اوئے کون اے؟۔
اس کے تایا کی گونج دار آواز آئی ۔
میں ۔۔اعجاز۔۔۔
بسم اللہ ۔۔ میرا پتر آ گیا
اسے اپنے دادا کی لڑکھڑاتی آواز آئی، شاید وہ صحن میں بچھی چارپائی پر لیٹے تھے۔
چند لمحے بعد دروازہ کھل گیا اور تایا کچھ دیر اسے بے یقینی سے دیکھتے رہے ۔۔پھر اسکے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے لگے۔۔

کینسر لے ڈوبا تیرے باپ کو
کینسر لے ڈوبا۔
چار سال ہوگئے۔
نہیں!
نہیں ۔۔
تایا ابا ڈیڑھ سال پہلے تو میری ڈگری پوری ہوئی مجھے تو خط ملتے رہے ہیں۔۔
وصیت کرگیا سی پتر
چونتیس خط تیرے نام لکھ گیا سی کہ ہر مہینے پوسٹ کر دیو۔
تے پیسے پیجدے ریو۔
اپنا علاج نہ کرایا تیرے باپ نے
نہ کسے نوں دسیا۔۔

تایا ہچکیوں سے رو رہا تھا اور اس کے سارے نظریات اس کے منہ پر کالک بن کر چپک گئے۔

 

 

اس تحریر کے بارے میں  اپنی  رائے  سے  آگاہ  کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے  سے جڑے رہیں ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top