Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

آگہی کا خوف ۔۔ گیارہواں حصہ

دوسرا اختتام – پہلا حصہ

کرن خان
۔۔۔۔۔۔۔۔

کبڑا مر چکا تھا۔۔ہسپتال نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی۔۔اس کی فیملی میں سے عمر کسی کو نا جانتا تھا لہذا اس لاش کو کسی رشتےدار کے انتظار کے لیے سرد خانے رکھوا دیا گیا۔۔عمر مضمحل قدموں سے گھر کو چل دیا۔۔بوڑھے نے اپنی زندگی اس سفلی علم کے ہاتھوں گنوا دی اور اس بات کا اسے افسوس تھا۔۔گھر کی طرف روانہ ہوا ۔۔
۔۔بےخیالی میں اس کی نظر ساتھ والی سیٹ پر پڑی تو چونک گیا۔۔یہاں کبڑے کا کچھ سامان پڑا تھا۔۔یہ وہی پوٹلی تھی جو اکثر اس کے پاس ہی ہوتی تھی۔۔پہلے اس نے سوچا یہ سامان بھی تھانے دے دیتا ہوں۔۔لیکن پھر کچھ سوچ کر ارادہ بدل دیا۔۔اور گھر آگیا۔۔

کھانا کھایا۔۔گھر والوں کے ساتھ کچھ دیر بیٹھا رہا لیکن اس کا دھیان پوٹلی میں ہی رہا کہ اس میں کیا کیا سامان ہوگا۔۔بالآخر سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیے چلے گئے۔۔اور یہ حرا کے سونے کا انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر بعد جب اس کی تسلی ہوگئی ۔۔ آرام سے اٹھا اور گاڑی سے پوٹلی نکال کر سٹور میں آگیا۔۔ٹیبل لیمپ آن کرکے اس نے میز پر تھیلا الٹ دیا ۔۔۔
اب اس کے سامنے عجیب وغریب سی چیزیں پڑی تھیں۔۔عجیب سا سامان تھا۔۔جن میں بال ،ہڈیاں،سوئیاں، چند ٹوٹے ہوے برتن۔۔اور ایک کتاب تھی۔۔۔
کتاب اٹھا لی اور اس کے صفحات کھول کر دیکھنے لگا۔۔ اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔۔کیونکہ اس کتاب میں سفلی علوم پر مشتمل چلہ کشی کے طریقے تھے۔۔

۔پہلے تو گھبرا کر کتاب بند کر دی۔۔لیکن زیادہ دیر رہا نہیں گیا ۔۔۔تجسس کے مارے دوبارہ کھول لی۔۔
۔مختلف کاموں کے چلے تھے۔۔صفحات پلٹتا گیا۔۔ایک جگہ اس کا ہاتھ رک گیا۔۔۔۔اس چلے کی ڈسکرپشن توجہ حاصل کرنے کو کافی تھی
۔۔” کسی کا بھی موت کا وقت یا مستقبل جاننے کا عمل ”

نا چاہتے ہوے اس کی نظریں اس عمل کی ترکیب پر دوڑنے لگیں۔۔۔عمل خاصا مشکل تھا۔۔پورے چالیس دن اس عمل کو مخصوص ترتیب کے ساتھ کرنا تھا۔۔
۔عمر نے گھبرا کر کتاب بند کی دراز کھول کر سامان منتقل کیا ۔۔اور واپسی آکر لیٹ گیا۔۔لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔مسلسل اسی عمل کے بارے میں سوچتا رہا۔۔اس کہ فطرت میں تجسس بہت تھا۔۔اور اسی تجسس کے ہاتھوں آج اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کرنے والا تھا۔۔۔

آخر کار صبح تک وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔ ۔اسے یہ علم سیکھنا تھا ۔۔۔ اور یہ علم اسے فایدہ دے گا یہ اس کی خام خیالی تھی۔

۔۔سارا دن بے صبری سے اسے رات کا انتظار رہا۔۔شام ہوتے ہی آفس سے نکل گیا ۔۔ایک نسبتاً پرسکون جگہ جا کے اس عمل کا طریقہ کار پڑھنا تھا ۔تاکہ پھر یہ چلہ شروع کرے۔۔۔پہلی شرط یہ لکھی تھی کہ چالیس دن نماز نہیں پڑھنی۔۔۔
اسے تھوڑی سی بے چینی ہوئی۔۔لیکن ایڈوینچر کے شوق نے اس کو آمادہ کر ہی لیا۔۔۔
مزید انسٹرکشنز میں جو بھی عمل تھے اسے آسان ہی لگے۔۔اس سے اب صبر نا ہو رہا تھا۔۔اس نےآج رات یہ چلہ شروع کرنا تھا یہ تو طے تھا۔۔

کچھ وظایف تھے جو رات کو کسی بھی وقت چھت پر بیٹھ کر پڑھنے تھے اور وہ تیار تھا۔۔ اور نہایت مہارت سے چلہ پر عمل بھی شروع کردیا تھا۔۔
اسے کچھ مشکل بھی پیش آئی۔۔طبیعت بھاری رہنے لگی۔کم خوابی کا شکار ہوگیا۔۔ہلکا ہلکا بخار بھی رہنے لگا ۔۔لیکن اس نے پروا نا کی ۔۔اور آخر کار چالیس دن کا چلہ مکمل ہوچکا تھا۔۔آج یہ بہت ایکسائیٹڈ ہو رہا تھا ۔

۔اسے اب ڈیمو کرکے دیکھنا تھا کہ اس کا چلہ کامیاب بھی رہا ہے کہ نہیں۔۔ڈیمو کے لیے اس نے سب سے پہلا حرا کا مستقبل۔دیکھنے کا فیصلہ کیا۔۔کیونکہ وہ خود دیکھنا چاہتا تھا کہ کبڑے نے صحیح کہا ہے یا غلط۔

۔لہذا اس نے کاغذ پر پنسل سے وہ مخصوص لائینیں بنانا شروع کی۔۔جو کہ کبڑے کو بناتے دیکھ چکا تھا۔۔ادھر اس کی یہ لائینیں مکمل ہوئی۔۔ادھر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم سی چلنے لگی۔۔۔اسے حرا نظر آرہی تھی۔۔۔اسکے ہاتھ کانپنے لگے۔۔

مسکراتے ہوے کسی کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں داخل ہورہی تھی۔۔اس کے بعد دروازہ بند ہوچکا تھا۔۔اس کو شدت سے خواہش ہوئی کہ یہ دیکھ پاے کہ حرا کے ساتھ کون ہے۔۔لیکن اس شخص کا چہرہ نظر نا آیا۔

۔عمر کا خون کھول اٹھا۔۔۔۔یعنی حرا میرے ساتھ بے وفائی کرے گی؟؟ تلملاتے ہوے اس نے کاغذ پھاڑ دیا۔۔۔اور پریشانی سے ٹہلنے لگا۔۔۔اس کا خیال تھا کہ اس نے مستقبل دیکھا ہے۔۔وہ نا جانتا تھا کہ اس نے مستقبل نہیں دیکھا ۔۔یہ ایک ٹریپ تھا۔اس کو بری طاقتوں نے اپنا مہرہ بنانا تھا بس(جاری ہے)

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top