Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

گولڈن جتی

بچی اپنے باپ کے ساتھ تھی رجو کو خوش ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے دل کو انجانا سا خوف تھا اس خوف کو وہ کوئ نام نہیں دے پارہی تھی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

یبقیٰ حسین

رجو کومعلوم تھا کہ عید آنے والی ہے اور اس موقع پر ماہوار کام کے علاوہ مختلف باجیاں اس سے ایکسٹرا کام کروالیتی تھیں اوراسے کچھ اضافی پیسے مل۔جاتے تھے جس سے اس کا کوئی نہ کوئی کام ہو ہی جاتا تھا ۔۔ اس بار چونکہ مہنگائی حد سے بڑھنے لگی اور اس کا لوفر اور نکما شوہر چرس کے ساتھ ساتھ جوا بھی کھیلنے لگ گیا تھا تورہی سہی کسرپوری ہو گئ تھی۔ وہ سوچے جارہی تھی کہ ننھی جو رمضان شروع ہوتےہی اماں گولڈن جتی اماں گولڈن جتی لادے اس وار مینوں عید تے۔۔۔کی رٹ لگائے ہوئے تھی اس کا ارمان اگر وہ کونے والے بنگلے والی شمائلہ باجی بلالیں توضرور جائیگی ۔۔وہ کام توسر پر کھڑے ہوکے کرواتی تھیں لیکن اجرت ہمیشہ اچھی دیتی۔ اسلیے صبح صبح رجو کو جیسے ہی شمائلہ کا فون آیا وہ جلدی جلدی کام کے لیے نکلنے لگی۔۔۔ننھی کو وہ اکثر ساتھ ہی رکھتی تھی کام۔کے دوران لیکن کبھی کبھی اسے گھر بھی چھوڑجاتی تھی۔آج بھی اس نے ننھی کو گھر چھوڑا آج اس کا نکھٹو شوہر بھی گھر پر تھا اور ننھی کچھ ٹھیک بھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اسے گھر چھوڑ کر اپنے کام نپٹانے لگی لیکن اس کے دماغ میں مسلسل گولڈن جُتی گولڈن جُتی کے الفاظ گھومتے رہے۔اس کی بچی نے پہلی بار کوئ چیز اتنے شوق سے مانگی تھی۔۔ کام نپٹانے کے بعد وہ جلد ہی قریبی مارکیٹ گئ اور وہاں سے گولڈن جتی لے کر گھر کی جانب رخ کیا آج وہ اتنی خوش تھی کہ سارےدن کی تھکان ان گولڈن جوتوں کے ھاتھ میں آتے ہی ختم ہوگئ تھی۔وہ جلدی جلدی گھر پہنچی توکیا دیکھتی ہے کہ گھر میں نہ ننھی ہے نہ اس کا شوہر۔۔وہ اندر باہر ہوتی رہی چھوٹا سا تو صحن تھا جوشروع ہونے سےپہلے ہی ختم ہوجاتا تھا۔۔ہمسائیوں سے بھی پوچھا ۔۔۔کسی نے بتایا ارشد اسے لے کر جارھا تھا اور بچی کافی خوش تھی۔۔۔بچی اپنے باپ کے ساتھ تھی رجو کو خوش ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے دل کو انجانا سا خوف تھا اس خوف کو وہ کوئ نام نہیں دے پارہی تھی۔کہ اتنے میں دروازہ بجا اور ارشد جھمتا جھامتا گھر میں داخل ہوا۔۔۔رجو بے تابی سے اس کی جانب بڑھی ۔۔اور بولی کدھر ہےمیری بچی ؟
ارشد اچنبھے سے اسے دیکھنے لگا اور بولا کون؟ ننھی ؟
ہاں ہاں ننھی ۔ میرے کونسے اور بچے ہیں ایک وہی توہے۔
تو ارشد بولا جلدی کیا ہے رجو بولی میری بچی نے اتنے ارمان سےگولڈن جتی مانگی تھی میں وہ لے کے آئی ہوں ۔ تو ارشد کہنے لگا او اس جوتی کی کیا اوقات جہاں ننھی کو چھوڑ کر آیا ہوں وہاں گولڈن جتی کپڑے زیور سب ملے گا۔ وہ ایک دم سہم کر بولی کیا مطلب ۔۔۔؟ تو ہماری ننھی کو کہاں چھوڑ آیا؟
بول نا بے ہدایتا کدھر ہے میری بچی میرے جگرکاٹکڑا۔۔۔ایسے نہ کر ارشد دیکھ مذاق نہ کر۔
۔۔چل چل آگے سےہٹ مجھے سونے دے ۔میں کہتا ہوں آگے سے ہٹ۔۔۔۔۔میری مرضی میری بیٹی تھی باپ کے کام آگئ سیٹھ محبوب کے منشی سے جوے کی بازی ہاری تو ننھی کام آگئ۔۔رجو کو زور کا جھٹکا لگا اور وہ زمین پرگر گئ۔۔۔ اور وہ “گولڈن جتی” اس کے ہاتھ سے نک5 قائم ث،ےقل کر کچے صحن کی مٹی میں مل گئی بلکل ویسے ہی جیسے ننھی۔۔۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے کمنٹ باکس میں لکھیں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top