Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

مختصر حقیقت

اس میں وقار صاحب کا بہت اہم کردار تھا جنہوں نے بات کی گہرائی کو سمجھا کہ ایک لڑکی پچیس  سال کی تربیت و رہن سہن لے کرآرہی ہے وہ ان اطوار کو یک دم کیسے جڑ سے ختم کر سکتی ھے مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

شانزے اعجاز

وقار ایک مذہبی گھرانے کے، روحانیت کو سمجھنے اور پڑھنے والے فرد، اسی لئے کسی حد تک روحانی علاج اور دم درود کے اہل بھی تھے مگر زمانے کے ساتھ چلنے کا ہنر بھی خوب رکھتے تھے۔

سحر ، دبئی میں رہنے والی پاکستانی لڑکی
والدہ ایئر لائن کی جاب سے وابستہ ، والد محترم بوجہ دوسری شادی بیگم کے ساتھ بے انتہا مصروف ،

شاہ صاحب (جن سے بیعت کر رکھی تھی وقار صاحب نے) لوگوں کو روحانی علاج سے بھی نوازتے تھے ، وقار صاحب کی سحر اور سحر کی والدہ سے پہلی ملاقات شاہ صاحب کے یہاں ہی ہوئی تھی۔۔۔ پہلی نظر میں وقار صاحب کو سحر اور انکی و الدہ بہت اچھی لگیں، شاہ صاحب سے کہا کہ “رشتے کی کچھ بات بڑھا دیجئے” شاہ صاحب نے سحرکی والدہ کی اجازت سے دو ایسے لوگوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا جو ایک عرصے تک شادی کے نام سے بھی بھاگتے رہے ، دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا ،اور سوچنے اور فیصلے کے لئے وقت دیا گیا، دونوں اطراف سے جواب مثبت آیا گو کہ انتہائی حد تک مختلف پس منظر ہونے کے باوجود رشتہ دونوں گھرانوں سے قبول کرلیا گیا، تفصیلات کے مطابق کافی ساری چیزیں آسان تو ہر گز نہیں تھیں لکین آسان بنا دی گئیں،

وقار کے منع کرنے پہ اسکی و الدہ کو نہیں بتایا گیا کہ سحر کی والدہ جاب کرتی تھیں کیوں کہ وہ تھوڑے پرانے خیالات کی مالک تھیں اور انہیں یہ پسند نہیں تھا۔
وقار کی فمیلی میں پردہ تو نہیں البتہ چادر کا اہتمام ضرور کیاجاتا تھا ،سحر کافی جدید لباس زیب تن کیا کرتی تھی اب اس کاباہمی حل یہ نکالا گیا کہ جب سحر اپنے میکے جایا کرتی تو میکے کےطور اطوار اپناتیں، اور سسرال کی طرف چادر کا اہتمام کرتیں، اسی طرح بال نہیں کھولنےجو وقار کے گھرانے میں معیوب سمجھے جاتے تھے جینز نہیں پہننی وغیرہ و غیرہ۔۔

اسی طر ح بہت سارے حل باہمی رضا مندی سے نکال لئے گئے، جو شوق سسرال میں پورے کرنے کی اجازت نہیں تھی وہ میکے میں پورے کرنے کی کم از کم اجازت تو تھی، نہ کہ اسے مکمل طور سے غلط قرار دے کر تذلیل کی جاتی ایک درمیانی راستہ نکال لیا گیا۔ اس میں وقار صاحب کا بہت اہم کردار تھا جنہوں نے اس بات کی گہرائی کو سمجھا کہ ایک لڑکی پچیس چھبیس سال کی تربیت و رہن سہن لے کرآرہی ہے وہ ان اطوار کو یک دم کیسے جڑ سے ختم کر سکتی ھے ۔۔
مختصر یہ کہ سپیس ۔۔۔
سپیس۔۔
سپیس۔۔
بہت ضروری ہے کہ انسان ایک دوسرے کو سپیس دیں ۔۔۔ دل کشادہ کرنا پڑتا ھے، رشتے نئے ہوں یا پرانے۔۔ فطرتوں کے تضاد کی کمی بیشی کو ڈھانپنا پڑتا ھے ، مسائل کو بے جاطول دینے اور َالجھانے کے بجائے حل کرنا پڑتا ھے اور حل انسانوں کے ہاتھوں میں ہی ہوتے ہیں ،وہ جس چیز کو چاہیں آسان بنا دیں جسے چاہیں مشکل بنادیں ۔
۔۔
اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top