Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

جادو بھری آنکھیں

ایک قلم نکالی بستہ سے اور میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور دوسرے ہاتھ سے نقاب ہٹانا شروع کیا میں نے قلم ابھی اس سے لی ہی تھی کہ جیسے ہی نقاب ہٹا میرے ہوش خطا ہو گئے اور میرے ہاتھ سے قلم چھوٹ گئی۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

عدیل منظور وڈ

آج صبح سویرے اٹھا ،روز کی طرح اسکول کے لیے جلدی جلدی تیار ہو گیا اور بائیک پر بیٹھا آج پھر سے روز کی طرح امی کی آواز آئی کہ ناشتہ کئے بغیر نہیں جا سکتے تم ۔لیکن آج میں نے ان کو ایسا محسوس کروایا کہ جیسے میں نے امی کی آواز سنی ہی نہ ہو اور جلدی سے بائیک پر بیٹھا اور اسکول کے لیے نکل گیا اور میں سوچے جا رہا تھا کہ آج اسکول کسی بھی حال میں وقت پر پہنچوں گا، روز کی طرح دیر سے نہیں !
پھر سوچ کر مسکرا دیتا کہ آج امی سے ڈانٹ پڑنے والی تھی ۔۔ کیوں کہ میں ناشتہ کیے بغیر اسکول جا رہا تھا ابھی یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک سفید رنگ کی وین پاس سے گزری اس میں ایک بہت خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نظر آئی جو کہ برقع پہنے ہوئے تھی اور اس برقع میں سے فقط اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں اور وہ خوبصورت آنکھوں سے میری جانب ہی دیکھ رہی تھی میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مردہ جسم میں اچانک سے روح پھونک دی گئی ہو ۔۔

اب میں سب کچھ چھوڑ کر صرف ان حسین آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا کہ خدا جانے ان حسین آنکھوں میں کتنے جوانوں کے ارمانوں کی لاشیں دفن ہونگیں اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہو اس وین کی رفتار اب تیز ہو چکی تھی وہ حسین آنکھیں دھیرے دھیرے مجھ سے دور ہونے لگیں تو میں نے بھی اپنی بائیک کی رفتار بڑھائی اور ان خوبصورت آنکھوں کا پیچھا کرنے لگا پھر اچانک سے ہائی وے پر ٹریفک جام ہو گیا اور میں گاڑیوں کی رش میں پھنس گیا اور وہ خوبصورت آنکھیں اب مجھے میسر نہیں ہو پا رہی تھیں اس گاڑیوں کی رش میں میں بہت نا آشنا ہو گیا اور آج میں اسکول پہنچ تو وقت پر گیا مگر جس خوشی سے گھر سے نکلا تھا کہ آج اسکول وقت پر پہنچوں گا ۔۔اب وہ خوشی ایک غم میں تبدیل ہو چکی تھی مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے آج جیسے بہت قیمتی چیز گنوا دی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حسین آنکھیں صرف میرے لیے ہی بنائی ہیں خدا نے ۔۔۔۔
تا کہ میں ان حسین آنکھوں میں خود کو دیکھ سکوں اسکول میں دوستوں سے ملاقات ہوئی اب روز کی طرح دوستوں سے بات چیت نہیں ہو پا رہی تھی کیوں کہ میں ابھی تک ان آنکھوں میں کھویا ہوا تھا میں پوری طرح سے ڈوب چکا تھا ان جھیل جیسی آنکھوں میں اب کوئی ہوش نہیں تھا استاد صاحب کلاس میں آئے اور لکھوانا شروع کیا تو میں نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا جو کچھ انہوں نے لکھوایا۔۔۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو مجھے غصہ سے بولے تم لکھ کیوں نہیں رہے کونسی سوچ میں گم ہو اب میں انکو کیا بتاتا کہ میں اپنی روح تو کہیں اور چھوڑ کر آیا ہوں یہاں تو فقط میرا جنازہ پڑا ہے میں نے ان سے جھوٹ بولا کہ میری قلم کھو گئی ہے تبھی ایسے چپ چاپ بیٹھا ہوں تو انہوں نے غصّہ سے بولا جاؤ اور نئی قلم لیکر آؤ اب میں کینٹین گیا قلم لینے تو مجھ سے پہلے ایک بہت خوبصورت لڑکی وہاں پر موجود تھی جو ناک میں کوکا پہنے ہوئے اور داہنے گال پر ایک موٹے سے تل کے ساتھ تھی اس کے ساتھ اس کی سہیلی بھی تھی میں نے شاپ والے سے بولا جناب ایک قلم چاہیے اس نے قلم لا کر دی تو میں نے قلم اٹھائی اور چل دیا پیچھے سے ایک بہت ہی سخت لہجہ آواز آئی میاں پیسے تو دیتے جاؤ یہ آواز اس گال پر موٹے تل والی خوبصورت لڑکی کی تھی میں واپس مڑا اور شاپ والے سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا جناب معاف کرنا میرا خیال کہیں اور تھا اور آپ کو پیسے دینا بھول گیا شاپ والے نے تو کچھ نہ بولا داہنے گال پہ موٹے تل والی لڑکی بولی کیا ہوا آپ کافی پریشان نظر آ رہے ہو کسی سے لڑائی ہوئی ہے آپ کی؟
اس اجنبی لڑکی کی آواز میں اپناپن تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں اس کو کافی عرصہ سے جانتا ہوں!!
میں نے بولا نہیں ایسا کچھ نہیں ہے اور میں چل دیا اپنی کلاس کی جانب اور جب کلاس میں پہنچا تو جیب میں ہاتھ مار کر دیکھا تو جو قلم میں نے خریدا تھا وہ اب میری جیب میں نہیں تھا۔ میں نے علی سے قلم لی اور کلاس کا کام لکھنے لگ گیا علی میرا بہت اچھا دوست تھا ہر مشکل میں کام آنے والا دوست تھا علی اور میں دوست کم اور بھائی زیادہ تھے۔ جب چھٹی ہوئی اسکول کی تو میں گھر کو چل دیا اور راستے میں یہی سوچتے آ رہا تھا کہ کاش ایک بار پھر سے وہ خوبصورت آنکھیں نظر آ جائیں جب بھی کوئی وین پاس سے گزرتی جسم کانپ جاتا اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی مگر مجھے وہ آنکھیں اب نہ مل سکیں۔گھر جیسے ہی پہنچا تو امی سے ڈانٹ کھانے کو ملی اور امی نے بولا کہ صبح ناشتہ کیوں نہیں کیا جاؤ ہاتھ منہ دھو کر آؤ کھانا تیار ہے میری امی جان بہت سخت طبیعت کی عورت تھیں اب مجھے بھوک بالکل بھی نہیں تھی مجھے صرف وہ خوبصورت آنکھیں نظر آنے لگیں تھیں ہر جگہ میں نے امی سے کہہ دیا کہ آج میں علی کے گھر سے کھانا کھا کے آ رہا ہوں۔ اب حالت اور بگڑتی جا رہی تھی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ایک عجیب قسم کی بے چینی تھی ۔۔اگلے دن کا آغاز بھی روز کی طرح ہوا لیکن آج میں سویر سے تیار ہو کے اسکول کے لیے بیٹھا تھا کیوں کہ ساری رات ایک پل بھی میں سویا نہ تھا آج اسکول کے لیے نکلا تو سوچا آج شاید پھر سے ان حسین آنکھوں کا دیدار ان آنکھوں کو نصیب ہو جائے ابھی ان حسین آنکھوں کے بارے سوچنے کا عمل جاری ہی تھا ایک سفید رنگ کی وین پاس سے گزری اور میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی وہی خوبصورت آنکھیں جنہیں دیکھ کر قیامت پر ایمان آ جاتا کے واقعی میں خدا وند نے قیامت کا ذکر یوں ہی نہیں کیا قرآن پاک میں۔۔
اب میں اس وین کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج کچھ بھی ہو جائے میں ان خوبصورت آنکھوں والی کو بغیر حجاب کے دیکھ کر رہوں گا۔ میرے ہوش خطا ہو گئے جب وہ وین میرے اسکول کے گیٹ پر رکی اور ایک لڑکی اس وین میں سے نکلی ۔۔۔
میں نے اپنی بائیک آج اسکول کے گیٹ پر ہی روک دی اور جلدی جلدی سے اس خوبصورت آنکھوں والی کے پیچھے پیچھے چل پڑا اور وہ لڑکی رکی اور پیچھے مڑی جب اس نے میری طرف دیکھا تو جیسے میری جان ہی نکل گئی ہو اور میں ایک لاش کی مانند اس سے دور کھڑا تھا تو اس لڑکی نے آواز دی یہاں آؤ ۔۔جناب میں ایک لاش کی طرح تھا میری اتنی ہمت نہ ہوئی کہ اسکی طرف قدم بڑھاتا میں چپ چاپ اسکی طرف دیکھتا ہی رہا وہ آگے بڑھی اور ایک قلم نکالی بستہ سے اور میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور دوسرے ہاتھ سے نقاب ہٹانا شروع کیا میں نے قلم ابھی اس سے لی ہی تھی کہ جیسے ہی نقاب ہٹا میرے ہوش خطا ہو گئے اور میرے ہاتھ سے قلم چھوٹ گئی وہ وہی لڑکی تھی داہنے گال پر موٹے تل والی بولی جناب کل آپ کی قلم وہیں کینٹین پر ہی رہ گی تھی۔ میں اب سوچ رہا تھا کہ کل میں نے اس کی ان حسین آنکھوں پر غور کیوں نہیں کیا۔مجھے اس کے گال کا موٹا تل تو نظر آ رہا تھا اس کی حسین آنکھیں نظر کیوں نہیں آئیں!!!

عدیل منظور رڈ۔۔۔۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top