Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

محبت پھر سہی جاناں

دعا نے وہ انگوٹھی اتاری اور اسکے ہاتھ میں دے دی ۔ ہشام نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کمرے میں لڑکی کی سسکیوں کی آواز کا شور بڑھ رہا تھا مکمل تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

صبح ہو چکی تھی اور دعا بھی اب اٹھنے کا سوچ رہی تھی کہ درد کی ایک شدید لہر اس کے سر سے ہو کر گزری، وہ ہمت کر کے اٹھی جا کر واش بیسن کے سامنے کھڑی ہو گئی اور خود کو آئینہ میں دیکھنے لگی آنکھیں سرخ تھیں اور سوجی ہوئیں یوں لگ رہا تھا جیسے کئی دن سے سوئی نا ہو دو تین دفعہ منہ پے پانی پھینکنے سے بھی سکون نا آیا تو جا کر واپس کمرے میں بیٹھ گئی کبھی اٹھ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگتی تو کبھی بیٹھ جاتی۔ اتنے میں چائے آ گئی اور وہ پینے لگی پیتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے خود سے باتیں کر رہی ہو اور خود کو منانے کی کوشش میں ناکام ہو رہی ہو پچھلے کچھ دنوں کے گزرے واقعات اسے یاد آرہے تھے وہ ایک دم سے اٹھی بال باندھے اور یوں باہر نکلی جیسے بالکل نارمل ہو ہمت جمع کر کے کئی سوالات شکوے ساتھ لئے وہ سیڑھیوں سے نیچے اتری اور ہشام کے گھر کی طرف چل دی گھر ساتھ ہی تھا تو زیادہ وقت نہیں لگا وہ سیدھا ہشام کے کمرے میں داخل ہو گئی کمرے کا دروازہ لاک نہیں تھا اور داخل ہوتے ہی ہشام کو دیکھا جو پر سکون انداز میں گہری نیند سو رہا تھا وہ سوچنے لگی کوئی انسان اس قدر بے حس بھی ہو سکتا کہ کسی کی نیندیں اور اسکا سکون تباہ کر کے خود ایسے پر سکون نیند سو سکتا ہے؟ سوالات بے شمار تھے لیکن جواب ایک بھی نہیں جیسے جیسے لمحات گزر رہے تھے اسکی حالت پھر سے ویسی ہی ہو رہی تھی وہ ہمت ہار رہی تھی بڑی مشکل سے اس نے آواز دی ہشام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید وہ سن نہیں سکا ۔ دوبارہ اس نے اسکے کندھے کو ہلایا تو ہشام نے لیٹے لیٹے ہی منہ اسکی طرف کیا اور اسکو اپنے سامنے کھڑا پایا ۔
ہشام نے اسکو کہا بیٹھو ۔
دعا۔ بیٹھنے نہیں آئی بس دیکھنے آئی تھی کہ کیسے لگ رہے ہو اور یہ بھی دیکھنے آئی تھی کہ شاید کوئی پچھتاوا ہو لیکن نہیں ۔
ہشام ۔خاموش رہا
دعا ۔ میں بس آپکی امانت لوٹانے آئی تھی آج واپسی ہے تو۔ (اسکی آواز بھر آئی)
ہشام۔ کونسی امانت۔۔۔؟
دعا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اسکے الٹے ہاتھ میں ایک چمکتی انگوٹھی تھی (اس نے ہتھیلی کی طرف اشارہ کیا)
ہشام ۔ میں یہ واپس نہیں لے سکتا
دعا۔ اسکو اپنے پاس رکھنے کی کوئی وجہ بھی تو دومجھے ۔۔۔جو کہ تمہارے پاس نہیں ہے جب اسکو پہنانے والا میرا نہیں تو اسکا کیا کروں گی میں۔ ۔
اور لڑکی نے ہاتھ آگے بڑھا کر کہا اسکو اتارو
ہشام ۔ نہیں
دعا ۔ میں نے کہا اتارو
ہشام نے منہ دوسری طرف کر لیا اور لڑکی کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی ۔ ۔
دعا نے وہ انگوٹھی اتاری اور اسکے ہاتھ میں دے دی ۔
ہشام نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کمرے میں لڑکی کی سسکیوں کی آواز کا شور بڑھ رہا تھا ۔ وہ پھر سے مخاطب ہوئی اور کہا ادھر دیکھو
ہشام نے دیکھ کر نظریں جھکا لی
دعا ۔ یہ سسکیاں سن رہے ہو یہ تمہارے کانوں میں ہمیشہ ایسے ہی گونجیں گی ۔ یہ آنکھیں دیکھ رہے ہو انکی ویرانی تمہیں کبھی خوش نہیں ہونے دے گی یہ ہاتھوں کی ٹھنڈک ہمیشہ تمہیں تمہاری ضد اور جھوٹی انا کی یاد دلائے گی تم جب بھی کسی کو روتا دیکھو گے تو یہ چہرہ تمہیں نظر آئے گا تم کبھی بھی سکون سے نہیں رہ سکو گے۔۔۔ میں معاف کر بھی دوں تب بھی نہیں ۔ مجھے میری سالگرہ کا اتنا اچھا تحفہ دیا میری خوش فہمیوں کو دور کرنے کا بے حد شکریہ یہ دعا ہے کہ تم خوش رہو اپنی محبت کے ساتھ اپنی انا کے ساتھ ۔

ہشام۔ دوسری طرف منہ کئے لیٹا رہا شاید ندامت اسے بھی تھی لیکن یہ صرف گمان ہی تھا اس لڑکی کا ۔
وہ وہاں سے باہر آ گئی محبت ہار گئی تھی ۔۔ کسی کی ضد کسی کی انا کے لئے اپنی محبت کو قربان کر کے آج پھر وہ اس پر ایک احسان کئے جا رہی تھی۔ آس پاس کے منظر سے بے خبر۔۔۔ اسکو اور اسکے شہر کو یہاں تک کہ خود کو بھی چھوڑ کر وہ وہاں سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ
” انائیں اہم ہیں فی الوقت محبت پھر سہی جاناں ”

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

فریحہ کرن

پنجاب کی سوندھی مٹی میں جنم اور کراچی میں جاری تعلیمی سفر،اردو ادب سے عشق، اوراق کی خوشبو سے ذہن کو معطر رکھتے ہوۓ اپنے دلی جذبات اور ذہنی غور و فکر کو الفاظ میں قلم بند کرنے کی کوشش کرنے والی طالبہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top