Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

یادوں کی کتاب

اکثر اوقات ہم ایسا کرتے ہیں کہ اپنے سے جڑے لوگوں اور ان سے جڑی یادوں باتوں کو سنبھالتے سنبھالتےان پیاروں کو کھو دیتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے یا تو وہ خود جا چکے جاتے ہیں یا دور کر دیئے جاتے ہیں ایسے میں ہماری وہ غلطیاں ہمارے بڑے کام آتی ہیں وہ جوڑی گئی چھوٹی چھوٹی یادیں اس دکھ اس جدائی کو کم کرنے میں بڑی مددگار ثابت ہوتی ہیں چونکہ جدا ہونا لوگوں کا بچھڑنا ایک فطرتی عمل ہے جس کو چاہ کر بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا اس کے رنج سے باہر آنے کے لئے وہ یادیں اور ان لوگوں سے جڑی چیزیں ہوتی ہیں جو انکی کمی کو پورا تو نہیں بہرحال کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جیسے سب سے خوبصورت ماں کی لوری بچپن کی خوبصورت یاد یا گاناکسی گانے کی دھن جو آپ نے کسی کے ساتھ سنی ہو اور بار بار سنی ہو جس کو سن کر یوں لگے کہ اس دھن میں کسی کے دل کی دھڑکن موجود ہو وہ الفاظ کسی کے احساسات ہوں جو کبھی اچھے دنوں میں وہ اپکو کہتا رہا ہو سن کر عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے اسکو سنتے ہوئے آپ کسی تخیلاتی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ شخص آپکے ساتھ موجود ہوتا ہے اور آپ جی بھر کر اس سے باتیں کرتے ہو اسکو دیکھتے ہو ایک خوبصورت سا احساس۔ ۔ ۔ ایسے ہی کبھی بارش ہو رہی ہو تو دو باتیں یا یادیں عموماً دیکھنے میں آئی ہیں اکثر یا تو لوگ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں کہ کیسے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بارشوں میں گھومتے تھے خوب ہلا گلا محلے کے بچوں کا کھیلنا پانی میں کاغذ کشتیاں چلانا ماں کے ہاتھ کے پکوڑے بہنوں سے بنوائی گئی چائے گپ شپ کرنا دوستوں کے ساتھ گھومنا اور ایسی بہت ساری یادیں ذہن کی اسکرین پہ واضح ہونے لگتی ہیں دوسری طرف کئی لوگ اپنے محبوب کو بھی یاد کرتے ہیں کوئی بارش کے حوالے سے میوزک سنتا ہے تو کوئی شاعری لکھتا یا پڑھتا ہے کوئی پرانی لکھی گئی شاعری یا تحاریر کا مطالعہ کرتے کرتے چائے کے گرم کپ سے چسکیاں لیتے لیتے اسکی بھاپ میں اڑتی ان یادوں کو دیکھ کر کھویا رہتا ہے ۔ ۔
~{ بادلوں کی رم۔جھم میں
جل ترنگ۔ ۔ سی ہوتی ہے
آنکھیں نم بھی ہوتی ہیں
اک سماں۔ ۔ ۔ سموتی ہیں
پاگلوں سا۔ ۔۔ ۔ یہ روتی ہیں

ملاقاتوں کی باتیں بھی
شبنمی سے قطروں میں
سیپیوں کے۔ ۔ موتی سی
یادیں بن کے چمکتی ہیں}~

کبھی کسی مصیبت میں یا پریشانی میں اپنے سے بڑوں کی کوئی بات یاد آ جانا جو اس وقت پہ تو آپ نے شاید مزاق میں اڑائی ہوں لیکن اس پریشانی میں وہی اپکے کام آئیں تو آپ کو وہ لوگ یاد آتے ہیں اور دل سے انکے شکریہ کے لئے اک دعا نکلتی ہے ۔ ۔ کچھ ڈھونڈتے ہوئے اکثر گھر کی اپنی الماری کی صفائی کرتے ہوئے کبھی تصویروں کا ایلبم نظر آ جائے تو ہم سارے کام چھوڑ کر اسکو کھول کر بیٹھ جاتے ہیں جس میں ہمارے بچپن اور بہن بھائیوں کے شرارتوں کی ماں باپ کی خوبصورت سی مسکراہٹ اور کزنز کی مستیاں آپکا پورا بچپن اور لڑکپن کی محبتوں کی تصویریں بھی 😁 قید ہوتی ہیں آپ دیکھ دیکھ کر کبھی مسکراتے اور کبھی رونے لگتے ہیں ان سے جڑے واقعات انکی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ ڈائری لکھتے ہیں اہم دن ان سے جڑے واقعات کو وہ اس میں محفوظ کرتے ہیں اس وقت تو نہیں لیکن کچھ عرصہ گزرنے کےبعد جب وہ انکو پڑھتے ہیں تو اس میں محفوظ کئی لوگوں کی یادیں اس کے لئے قیمتی سرمایہ بن چکی ہوتی ہیں خاص کر وہ جو اب انکے ساتھ نا ہوں کوئی بھی ہو سکتا ہے جو بہت اپنا ہو۔

~ جس میں قصیدے اس کے، اسی کا بیان تھا
ابرک جلا دیا ہے وہ دیواں ابھی ابھی

کچھ لوگ اپنے دوستوں ٹیچرز اپنے ائیڈیلز سےکچھ نا کچھ لکھوا کر اپنے پاس رکھتے ہیں جو پھر کبھی انکی نظروں سے گزرے تو ایک خوبصورت مسکراہٹ انکے چہرے کو روشن کئے دیتی ہے اسی بہانے اکثر وہ لوگ بھی یاد آجاتے ہیں جنہیں ہم اپنی مصروفیت اور وقت کی کمی کی وجہ سے بھول گئے ہوتے ہیں ۔ ۔کبھی کہیں گئے ہوں اور اچانک کوئی بچپن کا دوست کوئی اسکول کا دوست یا کوئی ٹیچر نظر آ جائے تو ہم کتنے پرجوش ہو کر ان سے ملتے ہیں جی چاہتا ہے کہ ہم ان کے پاس بیٹھے رہیں اور پرانی باتیں یاد کر کر کے قہقہے لگاتے رہیں ۔ ۔ ۔ ۔
کسی کا دیا ہوا تحفہ بہت سنمبھال کر رکھا جاتا ہے کئی برس تک اسکو بڑے پیار سے محفوظ رکھا جاتا ہے اسکو دینے والا شخص اسکا پیار اس تحفے کی صورت آپکے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے جب کبھی وہ اپکو یاد آئے تو آپ اس تحفے کو نکال کر اسکو دیکھتے ہیں پاس رکھتے ہیں جیسے وہ دینے والا آپکے آس پاس ہی ہو کہیں اسکی یاد کسی مہمان کی طرح کچھ وقت کے لئے آپکی اداسی کو بھی عجیب سے سکون خوشی واالا احساس دے جاتی ہے لیکن وہیں وہ آپکی اذیت کا باعث بھی بن سکتی ہے

کچھ یوں کرو کہ آئے وہ مہماں ابھی ابھی
یا یہ کرو کہ جائے مری جاں ابھی ابھی

لوگ ان سے جڑی یادیں واقعات لکھنے بیٹھیں تو کئی کئی صفحات بھر جائیں لیکن وہ ختم نا ہوں کیوں کہ یہ سب کوئی ایک آدھ دن کی بات نہیں ہوتی ایک زندگی کی بات ہوتی ہے جس میں سینکڑوں لاکھوں قصے جنم لے کر اسی زندگی میں دم توڑتے ہیں وقت بھی بہت آگے نکل جاتا ہے لیکن ہم دور کہیں انہیں یادوں میں قید ہوئے اس اذیت اس کرب یا شاید کبھی کبھی سکون سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں شاید کبھی کوشش ہی نہیں کرتے کہ ان سب کو جھٹلا کر آگے بڑھ سکیں ہاں یہ ضرور کرتے ہیں انکا بوجھ ساتھ لئے نئی کہانیوں انکے نئے کرداروں کو نبھاتے چلے جاتے ہیں اور یادوں کی کتاب کی فہرست میں انہیں بھی شامل کئے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

خانہ ہجر میں یادیں تیری رقصاں ہونگی
ہم اسی شوق میں تنہائی لئے بیٹھے ہیں

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں

فریحہ کرن

پنجاب کی سوندھی مٹی میں جنم اور کراچی میں جاری تعلیمی سفر،اردو ادب سے عشق، اوراق کی خوشبو سے ذہن کو معطر رکھتے ہوۓ اپنے دلی جذبات اور ذہنی غور و فکر کو الفاظ میں قلم بند کرنے کی کوشش کرنے والی طالبہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top