Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

عذابِ آگہی

پتا چلا

لبنیٰ نورین
بہت سنہرے دن تھے وہ ۔ جب بستے میں کتابوں کیساتھ تختی بھی ہوتی تھی ، معصومیت اور لاپرواہی بھی ۔جب ہاتھ سیاہی سے کالے بھی ہوتے تھے اور آنکھیں بلاوجہ انجانی خوشیوں سے چمکتی رہتی تھیں ۔ اور اس، دن تو دنیا مٹھی میں ہوتی تھی جب پراٹھے کی بجائے امی دو روپے مٹھی میں دبوچ دیتی تھیں لنچ کیلئے ۔۔۔۔۔۔
صبحیں چاچا جی( مستنصر حسین تارڑ ) کیساتھ گزرتیں اور شامیں گلی میں کھیلتے یا ٹی وی کا اینٹینا ٹھیک کرنے میں گزر جاتیں ۔۔۔۔۔۔ آٹھ بجے ڈرامہ اور نوبجے خبرنامہ ۔
ہورے گھر میں ایک ہی فون ہوا کرتا تھا ۔بچپن جوانی تک چلا کرتا تھا ۔ کالج میں جانے کے بعد بھی اماں کے دھموکے پڑتے رہتے جو پتا نہیں چلنے دیتے تھے کہ ہم بڑے ہوئے بھی ہیں یا نہیں ۔ اگر کسی کو کہیں سے لو لیٹر مل جاتا تو اسے خراب سمجھا جاتا اور جوان بھی ۔۔ ورنہ باقی بچے رہتے اور بچپن کا حسین خواب کسی کا، رشتہ آنے پر ٹوٹتا ۔ اور شادی کس چیز کا نام ہے یہ شادی کے بعد ہی پتا چلتا تھا ۔
لیکن پھر سمارٹ فونز آگئے ۔سوشل میڈیا کا طوفان برپا ہوگیا ۔ بچپن کہیں کھوگئے ۔ سر، اٹھاتے ہی جوانی آگئی چوکھٹ پہ ۔ نیٹ پیکیجز کی وجہ سے راتیں طویل ہونے لگیں ۔اور خواب چھوٹے پڑ گئے. پہلے پڑھائی اہم ہوتی تھی اور باقی سب بعد میں ۔اب باقی سب پہلے ہوتا ہے اور ہڑھائی بعد میں ۔
سوشل میڈیا نے عقیدت کے تمام بت توڑنے کی قسم کھائی ہوئی تھی شاید کہ ہم جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کو پوجنے کی حد تک عظیم الشان ہستیاں مانتے تھے پتا چلا کہ کوئی ان کو سیکیولر کہتا ہے اور کوئی اقبال کی شاعری کو انگریزی شاعری کا چربہ کہتا ۔
ہمارے رشتے جو ہمارے جینے کی وجہ تھے پتا چلا کہ وہ بھی دم گھونٹ سکتے ہیں ۔ کوئی ماموں سگی بھانجی کا ریپ کرسکتا ہے ۔کوئی باپ اپنی ہی سگی بیٹی کو مار سکتا ہے ۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کو سمندر برد کرسکتی ہے ۔ اور کوئی استاد اپنے طالبعلم کو قتل کرسکتا ہے ۔ سوشل میڈیا کی گھر گھر پہنچ جانے والی اس آگاہی نے رشتوں کے چہروں پہ پڑے خوبصورت نقاب کو ہی کھینچ ڈالا، ۔ اب پتا چلا کہ لاعلمی کو نعمت کیوں کہا جاتا ہے. اس لاعلمی نے ہی ہمارے بچپن اور جوانی کو خوبصورت اور معصوم بنارکھا تھا جبکہ ہماری آنیوالی نسل کو وقت سے پہلے ہی بڑھاپے کی کرختگی عطا کردی ۔۔۔۔۔
صد افسوس کہ وہ سنہرے دن اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے ۔ اب کوئی اینٹینا ٹھیک کرنے چھت پہ نہیں جایا کرے گا ۔ کوئی نئی کیسیٹس خرید کر نہیں لایا کرے گا ۔ اور نہ ہی پینسل سے، اس کی ریل ٹھیک کرے گا ۔
اب کوئی کارٹون نہیں دیکھے گا ۔اب تو سمارٹ فونز پہ گیم کھیلی جایا کریں گی اور فنگر ٹپ پر رشتے بنائے اور توڑے جایا کریں گے ۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

لبنی نورین

تعلیم ____نفسیات میں بیچلرز
گھریلو خاتون ہوں ۔۔۔۔۔شعروادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تمام ہی شاخوں سے دلچسپی ہے ۔لکھنے لکھانے کا فن اور شوق ورثے میں ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top