Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

امت مخمور

دینِ اسلام سے قربت نہیں مسلمانوں حرفِ قرآن سے رغبت نہیں مسلمانوں علم کی باقی حرارت نہیں مسلمانوں درسِ آبا کی بھی حکمت نہیں مسلمانوں کیا یہی قوم تھی زحمت کشِ پیکار یہاں شوقِ پروازِ جہاں میں جو ہے سرشار یہاں۔۔۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

محمد حیدر بہلولؔ

مسجدیں ہو گیئں آباد مگر دل ہی نہیں
وہ مسافر ہو کے جسکی کوئ منزل ہی نہیں
بس ریاکاری فقط ہے میری محفل ہی نہیں
کیا عبادت ہے مری میں کہیں شامل ہی نہیں
یوں تو پھرتے ہو شب و روز کہ بینائ ملے
جب بلاتا ہوں تو کہتے ہو شہنشاہی ملے

تیرا ہر فعل زمانے نے عبادت سمجھا
اپنے ناکام ارادوں کو ہی قسمت سمجھا
منزلیں پائں تو تونے اسے محنت سمجھا
ہر برے شوق کو تونے ہی تو عادت سمجھا
جب بھی آیا ہے میرے در پہ تو اپنے خاطر
کب کیا سجدہ مجھے تونے سمجھ کے فاطر

ماہِ رمضان گراں صبح کی بیداری گراں
خمس کیا حج ہے یہ کیا روزہ و قربانی گراں
ثروت و نوم ہے پیاری ہے خدا وندی گراں
ہستیِ جنت و دوزخ بھی ہے محشر بھی گراں
دےگی تجھکو یہ عبادت کیا جزاء احیا میں
جب یہ دیتی ہی نہیں تجھکو سکوں دنیا میں

دینِ اسلام سے قربت نہیں مسلمانوں
حرفِ قرآن سے رغبت نہیں مسلمانوں
علم کی باقی حرارت نہیں مسلمانوں
درسِ آبا کی بھی حکمت نہیں مسلمانوں
کیا یہی قوم تھی زحمت کشِ پیکار یہاں
شوقِ پروازِ جہاں میں جو ہے سرشار یہاں

کرکے تحقیق یحودی و نسارا تم پر
کر رہے پست تمہیں سوئے ہوئے تم ہو مگر
ہاں وہی صورتٍ قرآن پہ کرتے ہیں نضر
ایسے ہی کرکے تجسوس وہ ہوئے تمسے زبر
علم قرآن سے لیکر وہ ہوئے ہیں ممتاز
خرمنِ حق کی فصل خشک ہوئ بیتگ و تاز

بھیجا قرآن رسولِ اربی پر ہم نے
بیزروں کو ہی بنایا ہے ابو زر ہم نے
عقل اور فکر سے تم کو دیا شہپر ہم نے
مانگا جسنے بھی اسے دے دیا ساغر ہم نے
تا سرِ عرش ہے دانائے رموزِ اکرم
غافلِ عجز و وفا بائسِ رسوائِ رم

صفحے دھر سے باطل کو مٹاتے ہی نہیں
اپنے اوصاف زمانے میں دکھاتے ہی نہیں
مثلِ میسم کے سرِ دار تم آتے ہی نہیں
اپنے دل میں میری الفت کو جگاتے ہی نہیں
دل کی سیاہی کو مٹانے کا ہنر جانتے ہو
رہِ حیدر کی محبت کا ثمر جانتے ہو

اپنے آبا کی فضیلت نہیں معلوم تمہیں
انکے ہر فعل کی عظمت نہیں معلوم تمہیں
انکے دل میں جو تھی الفت نہیں معلوم تمہیں
انکی طینت کی بھی عظمت نہیں معلوم تمہیں
وہ جو کرتے تھے عبادت تھی فقط میرے لیے
اور سحرائوں میں پھرتے تھے اطاعت کے لیے

مالِ دنیا کے لیے بیچ دیا اپنا ضمیر
شرم آیئ نہ تجھے کفر کے بن بیٹھے مشیر
تم سمجھ بیٹھے شریعت کو ہی اپنی جاگیر
کوہِ موسی سے ملے تجھکو بھلا کیسے قدیر
جب ہوا کفر سے تو زیر مدد ہمنے کی
پردہ پوشی تیرے عیبوں کی بتا ڪسنے کی

تم میں جو ہے یہ غلاظت یہ اثر کسکا ہے
کرتے پھرتے ہو جو غیبت یہ ہنر کسکا ہے
اور لگاتے ہو جو تہمت یہ ہنر کسکا ہے
مثلِ حربا کی سی صورت یہ ہنر کسکا ہے
اپنے عیبون کو چھپا جیسے سکوں پاتے ہو
کرکے دوجوں کے عیاں تم کیا فسوں پاتے ہو

دار پر میسمِ تمار سی کھولو تو زباں
فر نظر آیگی یہ نالا و فریاد و فغاں
ہے کہیں جلتے مکاں اور کہیں اٹھتا ہے دھواں
بیسہاروں کو نہیں ملتی کہیں پر بھی اماں
ہیں شب و روز مظالم سے پریشاں مومن
نظر آتا ہی نہیں کوئ ہمارا محسن

لگ گیے لاشوں کے انبار دکھا کوئ نہیں
ظلم ڈھاتے ہیں سب اغیار دکھا کوئ نہیں
فتنوں سے گرم ہے بازار دکھا کوئ نہیں
راستہ کیسے ہو ہموار دکھا کوئ نہیں
نہ دلاور ہو نہ کرار نہ غمخوار ہو تم
ساحبِ زر کے فقط آج پرستار ہو تم

نہ کوئ محوِ عبادت نہ کوئ میرا منیر
نہ کوئ ساحبِ الفت نہ کوئ میرا مشیر
نہ بچا کوئ بھی ہامی ہیں فقط مردہ ضمیر
پیروں میں آج شریعت کے پڑی ہے زنجیر
نہ اٹھاوگے جو آواز تباہی ہے قریب
توبہ کا در جو ہوا بند قضا ہوگی نصیب

بحرِ ظلمات میں بھاگے ہو رقیبوں کی طرح
سنتے ہو قصئے کرار فسانوں کی طرح
ٹوٹ جاتے ہو بہت جلد کمانوں کی طرح
در بدلتے ہو بہت جلد خزانوں کی طرح
صفتِ مسلمِ جرت بھی ہے کھوئ تمنے
بھاگ کر غاروں میں پائ ہے رسائ تمنے

باز آتے ہی نہیں اپنی اداکاری سے
حق سے بھی ہو گئے محروم جفاکاری سے
ظلم کی کرتے غلامی ہو وفاداری سے
حق بیانی بھی نہیں کرتے ہو درباری سے
حالِ ماضی پہ نظر کرنا جو منظور نہیں
بیحیاوں کی مدد میرا بھی دستور نہیں

قومِ آوارہ کی مانند تاحتِ عرشِ بریں
پیرِ گردوں پہ نظر رکھتے نہیں اہلِ زمیں
شوقِ جنت بھی بتگر پہ بھی رکھتا ہے یقیں
پسرِ آدم و حوا ہوے شیطان قریں
نام لیوا مذہبِ حق کے بھی الحاد ہوئے
قومِ مظلوم کے کارندے بھی جلاد ہوئے

داغِ حسرت لئے سینے میں کہ ارزاں کر دے
سوئے محشر بھی سرافراز مسلماں کر دے
ساحبِ ذوق کو دنیا میں ہی عریاں کر دے
شاملِ رہروئے عشقِ خیاباں کر دے
محوِ بت ساز گلستانِ ارم کی امید
دشتِ گردوں میں بھگوڑوں کو علم کی امید

اپنے چہرے کے خدو خال پہ مغرور بہت
رہروِ مایئے دولت پہ ہو مسرور بہت
ساحبِ بیت ہو آسودہ ہو مشہور بہت
عزت و نام کی خاطر ہوئے منصور بہت
بت گری آم ہوئ طرزِ نفس کی خاطر
زائے پیغامِ نبی بیتِ حوس کی خاطر

اپنے اجداد کے مدفن کو نہ چھوڑا تمنے
وجہِ توحید کو ہاتھوں سے گنوایا تمنے
نوے انساں کو غلامی مین دھکیلا تمنے
اپنے کعبے کے لئے کعبہ کو چھوڑا تمنے
زیرِ سجدہ بھی رہے شاملِ بت ساز رہے
آستینوں میں چھپائے ہوئے کچھ راز رہے

جزبہ باہم نہ رہی دینِ خدائ نہ رہی
ثروتِ دنیا رہی قوم پرستی نہ رہی
بوزر و سلماں سی اب پختہ خیالی نہ رہی
مذہبِ آبا سی تلقین غزالی نہ رہی
ملت قومِ حجازی کا سخنور نہ رہا
دینِ اسلاف کا باقی کوئ مظہر نہ رہا

غیبتِ مظہرِ یزدان کا حامی نہ کوئ
رسمِ غیبت کے عقیدے پہ بھی باقی نہ کوئ
رسمِ غم باقی ہے باقی عزاداری نہ کوئ
منتظرِ منتقمِ خونِ حسینی نہ کوئ
شاملِ ظلم رہے شاملِ وسواس رہے
جنگی فراروں کی مانند ہی خناس رہے

گر وفا کرتے میرے در سے نہ ہوتے بیزار
صحنِ کعبہ میں بھی رکھتے میرے آیئں کا حصار
بت شکن کے لیے ہوتی جو سدا جان نثار
مئے توحید جو پیتے نہ کبھی ہوتے فرار
مثلِ احباب کے جنگوں میں ثنائ کرتے
حیدری ڈھنگ سے مرحب پہ چڑھائ کرتے

نہ وہ تکبیر کی ہنکار نہ وہ قومِ حجاز
صحنِ کعبہ میں ہوا کفر نشیں کا آغاز
ہے کہیں سود فروشی تو کہین پر غماز
طلبِ دنیا مین کرتے ہیں یہی ترک نماز
روشِ بوزرو سلماں سے عقیدت نہ رہی
تمکو اب طرزِ سلف سے کوئ نسبت نہ رہی

صفتِ امّتِ یکجائ نہ پختہ ایماں
فتنیے فرقہ پرستی سے بریدہ داماں
ہاں فقط دولتِ دنیا پہ ہیں کرتے رقص
خوں گری تیرِشیاطین صفاتٍ اصیاں
شوقِ جنت بھی دارین کے باشندوں کو
کھا گیی آتشِ نمرود ہی کارندوں کو

قومِ مرحوم طلسماتِ دھر کی زد میں
سیکڑوں پیش دلیلیں ہویں حق کی رد میں
بھول بیٹھے ہیں رہا کوئ نہ اپنی حد میں
ملحفظ اہلِ مکیں ہو گئے کارِ بد میں
نہ یقیں جنت و دوزخ پہ اے سکانِ زمیں
ملتِ شوخ زباں ہو گئے سرطانِ زمیں

نفس کم ظرف ہے تیرا یہ خطا تیری نہیں
ہے یہ آلامِ جھالت کی صدا تیری نہیں
غاصبِ دھر ہیں پرجوش ندا تیری نہیں
روگِ دنیا کے پرستار فضا تیری نہیں
ہے شکم تیرا جو مالِ حرام سے لبریز
قلب بہلول تصوف سے ہو کیسے زرخیز

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top