Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

ٹرانس جینڈر – معاشرے کا حصہ

ٹرانس جینڈر جنہیں ہم خواجہ سرا کے نام سے جانتے ہیں۔ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔لیکن ہم انہیں بہت ہی حقیر اور کم تر تصور کرتے ہیں۔ جب کہ ہمارا مذہب ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مزید جاننے کے لیے لنک پہ کلک کریں۔ اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیے۔

عائشہ آرائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک مسلمہ طبی اور تمدنی حقیقت ہے۔ انسانوں کی صنفی اعتبار سے دو ہی قسمیں ہیں ۔ایک مرد اور دوسری عورت ۔ البتہ جسمانی خامیوں کی وجہ سے پیدایشی طور پر یا پیدا ہونے کے بعد جینیاتی بیماری کی وجہ سے بعض انسان نہ مکمل عورت ہوتے ہیں نہ مرد ۔ ان کو اردو میں خواجہ سرا کہتے ہیں۔ان کی متعدد اقسام ہیں ۔البتہ عام طور پر تین قسمیں زیادہ مشہور ہیں ۔ اور انھی سے معاشرتی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ایک قسم میں انسان کی ظاہری صورت مرد کی ہوتی ہے لیکن اس کے مردانہ جنسی اعضاء نا کافی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح بظاہر عورت نظر آنے والے انسان نسوانی اعضاء مخصوصہ کی اکملیت سے عاری ہوتے ہیں ۔ تیسری قسم کے انسان وہ ہیں جن میں دونوں طرح کے نامکمل اعضاء پائے جاتے ہیں ۔
خواجہ سرا اگرچہ مکمل جنسی اعضاء سے محروم خلقت ہیں۔لیکن وہ بھی انسان ہیں۔ وہ بھی جذبات احساسات خیالات خواہشات سمیت تمام ان عوامل کے حامل انسان ہیں۔جس پر ہر انسان فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا تو شاید انسان (مطلب مرد و عورت) اور جانور کے درمیان کے کوئی چیز ہیں۔ احساسات خواہشات جذبات پسند وناپسند تک کوئی انہیں مشترکہ نہیں مانتا ۔بس واحد شے جو ان میں اور ہمارے معاشرے کے انسان میں آج مشترکہ تصور کی جاتی ہے۔ وہ شاید زبان ہے۔ یہ ہم سے بات کر سکتے ہیں مگر یہ انسان نہیں ہیں۔ ان پر ظلم کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کیونکہ اس کا انصاف بھی وہی انسان کرتے ہیں جو انہیں اپنے جیسا انسان نہیں سمجھتے۔ ان پر تھپڑ کسی ندامت کو آواز نہیں دیتا ۔ ان کی عزت کا کوئی وجود نہیں۔ انہیں وہ جانور سمجھا جاتا ہے جو ہمارے سماجی دبدبے کے زور پر ہی ہمارے روبرو خم ہوجانے چاہیے۔

کیا یہ مان نہ لیا جائے کہ اس معاشرے پر بدروحوں کا راج ہے۔ اور یہ بدروحیں جو بس اندھیرے کے دم پر زندہ رہتی ہیں۔ طاقت، اختیار، عزت، حقوق، اخلاق یہ سب بدروحیں ہیں۔ اور اس قدر ظالم ہیں کہ جسموں تک پر حاوی ہیں۔ ایک خواجہ سرا کا جسم چاہے جتنا بھی چیخ کر اپنے انسان ہونے کی گواہی دے یہ بدروحیں اس کی آواز دبا دیتی ہیں۔ کیا اس معاشرے میں انسان ہونے کی تعریف ہی انسان کے وجود پر حاوی نہیں ہو چکی ؟ کیا خواجہ سرا ایک انسان ہونے کا وجودرکھتے ہوئے بھی سماج کی اس ذہنیت سے شکست نہیں کھا چکا۔ جو یہ طے کرتی ہے کہ کون انسان ہے اور کون نہیں؟

خواجہ سرا نہ ہی کوئی الگ مخلوق ہیں اور نہ ہی کوئی الگ قوم۔وہ انسان ہی ہیں۔خلقی اوصاف کے اعتبار سے اُن میں سے بعض کامل مردانہ اوصاف سے محروم ہوتے ہیں اور بعض زنانہ اوصاف سے۔ یہ اُن کی تخلیق کا وہ نقص ہے جو اُن کے خالق اور پروردگار نے اُن میں ایسے ہی رکھا ہے ۔جیسا کہ بعض انسانوں کو ہم خلقی اعتبار سے بعض دوسرے اعضا سے پیدائشی طور پر معذور پاتے ہیں۔اُن کے اور اِن کے مابین فرق محض ناقص اعضا کے اختلاف کاہے ۔

یہ خوا جہ سراآج کی دنیا ہی میں پیدا نہیں ہوئے ہیں۔بلکہ ماضی میں بھی ایسے خوا جہ سرا انسانوں کے مابین پیدا ہوتے رہے ہیں۔ بعض روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی ایسے بعض ناقص مردوں اور عورتوں کے وجود کا تذکرہ ملتا ہے۔

قرآن مجید میں خوا جہ سراؤں کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور یہ تذکرہ نہ ہونا قرآن اور اُس کی دعوت میں کوئی نقص واقع نہیں کرتا۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآن میں پیدائشی نابینا انسانوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔سماعت سے معذور افراد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ہاتھوں سے معذور پیدا ہونےوالے انسانوں کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے وغیرہ۔اِس طرح کے انسانوں کی یہ معذوری ہی ہے جس کی وجہ سے اِنسانی معاشرہ بالعموم انہیں دوسرے درجے کا انسان سمجھتا ہے ۔

دنیا اور اُس کی مخلوقات میں اِس طرح کے بعض نقائص جو اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ آزمائش کے اُصول پر رکھے ہیں۔ایسے اِنسان جو کسی اعتبار سے معذور پیدا کئے گئے ہیں۔وہ اگر خود کامل عقل وشعور رکھتے ہیں تو اُن کا امتحان اِس دنیا میں صبر کا امتحان ہے۔دوسرے اِنسانوں کے لیے یہاں اُن کو دیکھ کر اپنے پروردگار کی شکرگزاری بجالانے کا امتحان ہے ۔اور تمام اِنسانیت کے لیے ایک عمومی درس اِس طرح کے نقائص کے وجود میں یہ ہے کہ یہ دنیا اپنی تمام تر خوبیوں ، خصائص اور نعمتوں کے باوجود بہر حال دار النقائص ہے۔دار الکمال نہیں ہے ۔

ہم چونکہ مسلمان ہیں ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کی اساس پر قائم ہے۔ محض ٹرانس جینڈر ہونے کی بنا پر نفرت کرنا مذاق و استہزاء کرنا پریشان کرنا سخت دل آزاری پر مبنی عمل ناپسندیدہ ہے ۔یہ لوگ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top