Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

اینٹی دجال ۔۔۔پہلا حصہ

اسامہ عاصم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کے اگر اوراق پلٹیں تو قدم اور قلم ایک ایسے مقام پر آ کر رک جاتے ہیں ۔ جس سے زیادہ ہیبت ناک دل دعا اور ہولناک منظر کا تصور کسی کو نہیں آیا ہو گا اور بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ تاریخ میں اس سے بھی زیادہ بربریت اور خون آشامی کا مظاہرہ پہلے بھی کبھی ہو چکا ہو لیکن ایسا نہیں ہے اسلام اور مسلمانوں پر جتنا کڑا وقت اس موقع پر آیا بعد کے زمانے اور ایام اسکی مثال سے بھی خالی ہیں ۔
تاریخ کھول کے بیٹھا تو بندے کے سامنے تاریخ کے صفحات کھل رہے تھے ایک منظر آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ سامنے ایک فلم جیسا چل رہا ہے ۔ مجھے نظر آ رہا تھا کہ ایک وحشی قوم ایسی بھی مسلمانوں کے علاقوں میں موجود ہے جو نہ تو بوڑھوں کی زندگی سے متاثر ہوتی ہے اور نہ ہی بچوں کی معصومیت اسے ترس کھانے پر مجبور کرتی ہے ۔ مردوں کو قتل کرنا انکا محبوب مشغلہ ہے ۔ اور امید والی عورتوں کے پیٹ چاک کر رکے آنے والی نئی جان اور اسکی ماں دونوں کو آب حیات سے محروم کرنا انکا۔مذہبی فریضہ ہے ۔ مشائخ اور علماء انکے سب سے بڑے مجرم ہیں ۔ مساجد و مدارس اور مکاتب انکے نزدیک گمراہی کے اڈے ہیں انہوں نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئے کشتوں کے پشتے لگا دئیے اور اتنا قتل عام کیا کہ خود بھی تھک کر بیٹھ گئے بازاروں اور راستوں کو انسانی لاشوں سے اس طرح کاٹ دیا کہ پورے کے پورے ٹیلے قائم ہو گئے ۔ صرف بغداد میں ہی اٹھارہ لاکھ مقتول شمار کئیے گئے ۔ اعلانیہ شراب کے جام۔لنڈھائے گئے ۔ خنزیر کے گوشت سے ضیافت عام۔کے مزے لوٹے گئے ۔ مساجد کو پانی کی بجائے شراب سے بھر دیا گیا ۔ اذان اور نماز پر سرکاری طور پر پابندی لگا دی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین تاریخ کا بے رحم قلم اسے فتنہ تاتار کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔ لیکن ہم اسے فتنہ تاتار کا نام دینے پر راضی نہ۔ہو سکیں اور اس بات پر اصرار کریں کک اسے فتنہ کفار کا نام دیا جا سکے ۔ کہ اس وقت ساتویں صدی ہجری میں پورا عالم کفر ان حملہ آوروں کا نہ صرف پشت پناہ تھا بلکہ حوصلہ بھی بڑھا رہا تھا ۔ اور دشمنان اسلام کا یہ گروہ بعد میں ( پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے )
کا مصداق بنا ۔ یہی گروہ تاتاری اسلام کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا ہوا تھا ۔ اور اسکے آگے بند باندھنے والا کوئی نہ تھا ۔ ہر ایک کسمپرسی کا شکار تھا ۔ صرف اور صرف ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور اسلام پر آنے والے ان کڑے حالات کا رونا رونے کے علاوہ کوئی بھی کچھ نہ کر سکتا تھا ۔ بے بسی اور بے کسی تمام مسلمانوں کے چہروں سے پیدا تھی کہ اچانک رحمت خداوندی کو جوش آیا ۔باتوں رحمت برسی اور یہی تاتاری اسلام کے محافظ بن کر دنیا کے سامنے جلوہ گر ہو گئے ۔ تاتاری حملہ کے اسباب و وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے مر کر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔

کہ عالم اسلام میں اسکا قریبی محرک یہ واقعہ ہوا کہ چنگیز خان نے خواراک شاہ کو پیام بھیجا کہ میں بھی ایک وسیع سلطنت کا فرمانروا ہوں اور آپ بھی ایک وسیع سلطنت کے تاج دار ہیں ۔ بہتر ہے کہ ہم دونوں تجارتی تعلقات قائم کریں ہمارے تاجر بے خوف و خطر آپکے قلمرو یعنی علاقوں میں جائیں اور یہاں کی مخصوص پیداوار اور مال وہاں فروخت کر سکیں ۔ اور آپکے تاجر اطمینان کیساتھ ہمارے ملک میں آئیں اور وہاں کا مال فروخت کریں ۔ خوارک شاہ نے اس پیشکش کو قبول کر لیا ۔ اور تجارتی تعلقات قائم ہو گئے اور تجارتی قافلے بے خوف و خطر دونوں ملکوں میں آنے جانے لگے ۔ اسکے بعد ایسا کی پیش آیا کہ عالم اسلام خون کے سمندر میں ڈوب گیا ۔اسکی تفصیل مغربی مصنف کی زبان سے سنئیے ۔ جسکی اسلامی مورخین کے بیان سے حرف با حرف تصدیق ہو جاتی ہے ۔
ہیرلڈ لیمب اپنی کتاب ( چنگیز خان ) میں ان تعلقات کی خرابی اور سانحے کی نوعیت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔

لیکن تجارت کے تعلقات جو چنگیز خان نے قائم کئیے تھے وہ اتفاق سے یک لخت ختم ہو گئے ۔ اور یہ اس طرح پیش آیا کہ قراقرم سے تاجروں کا ایک قافلہ مغرب کو آ رہا تھا ۔ کہ راستہ میں ( اترار ) کے حاکم نے جسکا نام انیل جق تھا قافلہ کے سب آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور اسکی اطلاع اپنے آقا خوارزم شاہ کو اس طرح کی گویا کہ اس قافلے میں جاسوس بھی موجود ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیل جق کا یہ خیال بالکل قریب عقل تھا حاکم اترار کے پاس سے اطلاع کے آتے ہی سلطان محمد خوارزم شاہ نے بے سوچے سمجھے حکم دے دیا کہ قافلہ کے کل۔تاجروں کو ہلاک کر دیا جائے چنانچہ اس حکم کے مطابق قراقرم سے آئے ہوئے تمام تاجر قتل کر دئیے گئے ۔ اور اسکی خبر جب چنگیز خان کو ہوئی تو اس نے اسی وقت اپنے سفیر بھیج کر خوارزم شاہ سے اس بات کی شکایت کی ۔ سلطان محمد نے سفیروں کے سردار کو بھی قتل کر دیا اور جو لوگ انکے ساتھ تھے انکی داڑھیاں جلوا دیں ۔ اس سفارت میں سے جو لوگ بچ گئے تھے وہ چنگیز خان کے پاس واپس آئے اور کل حال عرض کیا ۔ دشت روبی کا خان چنگیز خان یہ تمام واقعہ سنتے ہی ایک پہاڑی پر چڑھ گیا تا کہ تنہائی میں اس واقعہ پر غور و فکر کر سکے ۔ مغلوں کے ایلچی کو مار ڈالنا ایسا فعل تھا جسے سزا کے بغیر چھوڑنا ممکن نہ تھا ۔ اور یہ ایسی حرکت تھی جو کہ مغلوں کی گذشتہ روایات کے لحاظ سے ضروری تھا ۔ چنگیز خان نے کہا جس طرح آسمان پر دو آفتاب نہیں رہ سکتے اسی طرح زمین پر بھی دو خاقان نہیں رہ سکتے ۔ ( سابقہ وزیر اعظم خاقان عباسی نہیں ) منگولوں کے بادشاہ کا لقب خاقان ہوا کرتا تھا ۔

اسلام کے مشرقی ممالک تاتاریوں کی زد میں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاتاریوں نے پہلے بناتا کہ اینٹ سے اینٹ بجائی ۔ اور اسکو ایک تودہ خاک یعنی مٹی کا ڈھیر بنا دیا کہ اس شہر کی آبادی میں سے کوئی زندہ نہ بچا ۔ پھر سمرقند کو خاک سیاہ کر دیا اور ساری آبادی کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔ اور یہی حال تمام اسلامی شہروں ۔ رے ۔ ہمدان ۔ زنجان ۔ قزوین ۔ مرو ۔ نیشا پور ۔ اور خوارزم کا ہوا ۔ خوارزم شاہ جو اس وقت عالم اسلامی کا واحد فرمانروا اور سب سے طاقتور سلطان تھا ۔ تاتاریوں کے خوف سے بھاگا بھاگا پھر رہا تھا ۔ اور تاتاری اسکے تعاقب میں رہتے تھے یہاں تک کہ ایک نا معلوم جزیرہ میں اسکو موت آ گئی ۔ خوارزم شاہ نے ایران و ترکستان کی اسلامی ریاستوں اور خود مختار حکومتوں کو اپنی شاہی یعنی حکومت میں ضم کر لیا تھا ۔ اس لیئے جب انہوں نے تاتاریوں کے مقابلہ میں شکست کھائی تو پھر انکا مقابلہ کرنے والا مشرق میں کوئی بھی نہ تھا ۔ تاتاریوں کی ہیبت اور مسلمانوں کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات ایک تاتاری ایک گلی میں گھستا ہے جہاں سو مسلمان موجود ہوتے ہیں تو کسی کو مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی اور اس نے ایک ایک کر کے سب کو قتل کر دیا ۔ اور کسی نے ہاتھ تک نہ اٹھایا ۔ اسی طرح ایک تاتاری عورت مرد کے بھیس میں ایک گھر میں گھس گئی اور تنہا ہی سارے گھر والوں کو قتل کر دیا ۔ پھر ایک قیدی کو جو اس کے ساتھ تھا احساس ہوا کہ یہ تو عورت ہے تو اس نے اسکو قتل کیا بعض اوقات تاتاری نے کسی مسلمان کو گرفتار کیا اور اس سے کہا اس پتھر پر سر رکھ دے میں تجھے خنجر لا کر ذبح کروں گا تو وہ مسلمان سہما پڑا رہا وہاں اور بھاگنے کی بالکل بھی ہمت نہ ہوئی ۔ یہاں تک کہ وہ شہر سے خنجر لایا اور اس مسلمان کو ذبح کر دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاتاری یورش عالم اسلام کیلئے ایک بلائے عظیم تھے جس سے دنیائے اسلام کی چولیں ہل گئیں ۔ مسلمان مبہوت و ششدر تھے ۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہراس یعنی خوف اور یاس یعنی نا امیدی کا عالم طاری تھا ۔ تاتاریوں کو ایک بلائے بے درماں ( یعنی ایسی بلا جو کہیں پر بھی جا کر کسی کو بھی غیر پھاڑ سکتی ہے ) سمجھا جاتا تھا ۔ انکا مقابلہ نا ممکن اور انکی شکست ناقابل قیاس ( یعنی ناقابل خیال ) سمجھی جاتی تھی ۔ یہاں تک کہ مثال کے طور پر انکے بارے میں مشہور تھا کہ ( إذا قيل لك إن التتر إنهزموا فلا تصدق ) یعنی اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاریوں کو کہیں شکست ہوئی ہے تو بالکل یقین نہ کرنا جن ملکوں یا شہروں کی طرف انکا رخ ہو جاتا سمجھ لیا جاتا تھا کہ انکی شامت آ گئی ہے ۔ جان و مال ۔ عزت و آبرو ۔ مساجد و مدارس کسی بھی چیز کی خیر نہیں تھی ۔
تاتاریوں کا رخ کرنا گویا کہ بربادی ۔ قتل عام ۔ ذلت ۔ بے آبرو ہونے کے مترادف تھا ایک مرتبہ تو سارا عالم اسلام اور خصوصا اسکے مشرقی حصے اس وقت فتنہ جہاں سوز کی زبردست لپیٹ میں آ چکے تھے ۔ یاد رکھیں قارئین مورخ یعنی تاریخ لکھنے والا ہر طرح کے واقعات پڑھتا اور لکھتا ہے ۔ اس کے سامنے قوموں کی بربادی اور ملکوں کی تباہی کے اتنے مناظر گزرتے ہیں کہ اسکی طبعیت بے حس اور اسکا قلم بے درد ہو جاتا ہے ۔ لیکن اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ابن اثیر جیسا مورخ جس نے بڑے صبر و تحمل کیساتھ دنیا کی تاریخ لکھی ہے اپنی قلبی کیفیت اور تاثر کو چھپا نہیں سکا ۔ وہ لکھتا ہے ۔
اس کے واقعات ان شاء اللہ اگلی پوسٹ میں تحریر کئیے جائیں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو شیطان و دجال کے فتنوں سے اپنی پناہ میں رکھے ہمارا خاتمہ بالایمان کرے اور ہمیں قبر و جہنم کے عذاب سے بچائے آمین

و آخر الدعوانا أن الحمد لله رب العالمين
۔۔۔

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top