Close
گفتگو ڈاٹ پی کے پر خوش آمدید

پرکشش ہونے کے کچھ نقصانات

 

آج کل کے لوگوں میں عموماً خواتین میں کم پر کشش ہونے کے باعث احساس کمتری پائی جاتی ہیں۔اور اسی وجہ سے وہ بہت سے مواقع سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔جبکہ ایسا سوچنا بلکل غلط ہے۔ اس آرٹیکل میں پرکشش ہونے کے کچھ نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
بتول تالپور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کسی شک یا حیرانی کی بات نہیں کہ پرکشش افراد کو زندگی میں بہت سے فوائد ملتے ہیں ۔بنسبت ان لوگوں کہ جو کم خوبصورت یا کم پرکشش ہوتے ہیں ۔  بہت سی تحقیقات اس زمرے میں ہوچکی ہیں کہ زیادہ پرکشش اور خوبصورت لوگوں کو دنیا میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے یا وہ زیادہ فائدے میں رہتے ہیں۔ بانسبت کم پرکشش افراد کے ۔  مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جہاں کم پرکشش افراد، پرکشش افراد سے زیادہ فائدے میں رہتے ہیں یا کچھ معاملات میں سبقت لے جاتے ہیں۔
 کائنات میں موجود ہر چیز ہر شخص خوبیوں کا حامل ہے۔ اور اپنے آپ میں ایک خوبصورتی اور کشش رکھتا ہے۔ اس آرٹیکل کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہم کچھ لوگوں کو پرکشش اور کچھ کو بدصورت ثابت کرنا چاھتے ہیں۔ ہمارے لیے سب قارئین اور دنیا کا ہر فرد اپنے آپ میں خوبصورت اور پرکشش ہے۔ آرٹیکل میں دیئے جانی والی معلومات سائنس اور ماہرین کی تحقیقات پر مبنی ہے ۔
طلاق کی شرح پرکشش افراد میں زیادہ ہے
آج کے دور میں بہت سے لوگ شادی نا کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں ۔اور  شادی شدہ افراد میں پہلے کی نسبت طلاق کی شرح میں بھی اضافہ نظر آتا ہے ۔ مگر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی شادی کو لمبے عرصے یا عمر بھر نبھانے کا عزم رکھتے ہیں ۔اور چاھتے ہیں کہ وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کریں ۔ لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ طلاق سے بچنے اور شادی کو لمبا عرصہ چلانے کے لیے ان کا عزم یا رضامندی ہی سب کچھ نہیں ۔ بلکہ طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ انسان کا پرکشش ہونا بھی ہے.
 دورِ حاضر میں اس زمرے میں بہت سی تحقیق ہوچکی ہے ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ پرکشش افراد میں طلاق کی شرح کم پرکشش افراد کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک تحقیق میں ماہرین نے امریکہ کے دو ہائی اسکول کے مختلف افراد کی تصاویر کو دیکھ کر پہلے ان کی کشش کے حوالے سے درجہ بندی کی اور اس کے بعد ان کی شادی اور طلاق کی شرح کو ساتھ ملا کر اور موازنہ کر کے دیکھا ۔ اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ زیادہ پرکشش افراد میں طلاق کی شرح بھی زیادہ تھی ۔ ماہرین نے جب یہی تحقیق  مختلف مشہور شخصیات پر کی۔ تب بھی یہی بات سامنے آئی کہ زیادہ پرکشش مشہور شخصیات میں طلاق کی شرح زیادہ تھی۔

پرکشش خواتین کو ملازمت ملنے کا امکان کم ہوتا ہے

لوگ سمجھتے ہیں کہ ملازمت کے حصول کے لیے دوسری خوبیوں کے ساتھ ساتھ پرکشش اور خوبصورت ہونا بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قارئین کو ہوسکتا ہے کہ اس بات پر حیرانگی ہو مگر اسرائیل میں کی گٸی ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کم پرکشش خواتین کو پرکشش خواتین سے زیادہ ملازمت ملنے کا امکان ہے۔ 

اسرائیل میں تحقیق کرنے والے ماہرین نے تقریبن 2656 لوگوں کی ملازمت کی درخواستیں ملک بھر کی مختلف کمپنیوں وغیرہ کو بھجوائیں۔ جن میں ہر امیدوار کی دو درخواستیں تھیں۔ ایک تصویر کے ساتھ اور دوسری بغیر تصویرکے تھی ۔ اس تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ پرکشش مرد حضرات کو ملازمت کے انٹرویو وغیرہ کے لیے بلایا گیا ۔ جب کہ عورتوں میں سے ان عورتوں کو ترجیح دی گئی جو کم پرکشش تھیں ۔

 ماہرین کہتے ہیں۔چونکہ اکثر ہیومن رسورس ڈپارٹمنٹس میں عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ خود سے زیادہ پرکشش خواتین کوملازمت دینا نہیں چاھتیں۔ یعنی وہ نہیں چاھتیں ان کے مقابلے میں کوئی اور آئے ۔ اور یوں کم پرکشش خواتین کو ملازمت دی جایا کرتی ہے۔ ایک لحاظ سے اسے ہم  پروفیشنل جیلسی  بھی کہہ سکتے ہیں۔

  خواتین  کم پرکشش شریک حیات کے ساتھ زیادہ خوش رہتی ہیں.

شخصیت کی ظاہری کشش اور خوبصورتی کو عموماً مرد و عورت کے مابین تعلقات قائم کرنے یا انہیں برقرار رکھنے کے معاملے میں ایک اہم جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ مگرایسا دونوں صنفوں میں نہیں ہوتا۔  دورِ حاضر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ خواتین  کم پرکشش مرد حضرات کے ساتھ زیادہ خوش اور مطئمن رہتی ہیں۔ 

ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کم پرکشش افراد اپنی شریک سفر خواتین کو باہر گھمانے پھرانے ، یا ریستوران وغیرہ میں کھانے پر ان افراد کی بانسبت زیادہ لے جاتے ہیں جو زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔  کم پرکشش مرد  ازدواجی تعلقات میں زیادہ بہتررہتے یا رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ خواتین کم پرکشش مرد پارٹنر کے ساتھ زیادہ خوش اور مطئمن رہتی ہیں۔ 

ایک اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن خواتین کے شریک حیات زیادہ کشش کے حامل ہوتے ہیں وہ  ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں اور وہ اکثر ظاہری طورپہ زیادہ خوبصورت دکھنے کے لیے جتن کرتی ہیں۔ 

جہاں ایک طرف خواتین کم پرکشش مردوں کے ساتھ زیادہ خوش رہتی ہیں تو وہیں دوسری طرف مرد حضرات خواتین کے بارے میں اس سے برعکس سوچ رکھتے ہیں۔ 

زیادہ پرکشش افراد دوسروں سے کم تعاون کرتے ہیں۔

انسان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے ساتھ مختلف معاملات میں تعاون کرنا ضروری ہے۔ مگر ظاہری طور پر زیادہ کشش اور خوبصورتی کے حامل افراد میں تعاون کی کمی پائی جاتی ہے۔ اسپین میں اس سلسلے میں تحقیق بھی کی گٸی ۔ جس میں مختلف کشش رکھنے والے افراد پر ایک تجربہ کیا گیا ۔ اس میں سب افراد کو پاس ہونے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا تھا ۔ اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ زیادہ کشش رکھنے والے افراد دوسروں سے تعاون کرنے سے گریز کررہے تھے۔ ایک بات اور بھی اس تجربے سے ثابت ہوئی کہ کشش اور خوبصورتی کے حامل افراد دوسروں سے تعاون کی بھی کم ہی امید رکھ رہے تھے۔

  پرکشش افراد میں زیادہ  شخصیتی خرابی اور اطمینان کی کمی

کیا ہم اور زیادہ خوش اور مطئمن رہتے اگر ہم زیادہ کشش یا خوبصورتی کے حامل ہوتے ؟ یہ سوال اکثر ایسے لوگ خود سے کرتے ہیں جو دوسروں کی نسبت کم خوبصورتی اور کشش کے حامل ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس سوال کا جواب سادہ طریقے سے ہاں  یا  نا میں دینا مشکل ہی ہے ۔مگر پھر بھی اگر اس سوال کا جواب یک لفظی دیا جائے تو جواب نا ہے ۔ 

حیرانگی کی بات نہیں۔ یہ بات برٹش رسرچرز نے ایک تحقیق سے ثابت کردی ہے۔ یہ تحقیق مختلف ماڈلز پر کی گٸی ۔ جس میں یہ بات دیکھنے میں آئی کہ یہ پرکشش اور خوبصورت ماڈلز بہت زیادہ شخصیتی خرابی جسے انگریزی  میں آپ personality disorder کہہ سکتے ہیں  کا شکار نظر آئیں ۔  اور ان میں اطمینان کی بھی کمی نظر آٸی ۔ گو کہ ظاہری طور پر یہ بات حیران کن معلوم ہوتی ہے  مگر چونکہ ماڈلز کو زیادہ تر صرف ان کی ظاہری شکل و صورت کی کشش کی بنا پر اہمیت دی جاتی ہے۔ نا کہ ان کی دوسری خوبیوں کی بنا پر ۔تو یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی وجہ سے غیر مطئمن رہتی ہوں۔

  پرکشش افراد زیادہ بورنگ ہوتے ہیں۔

 ہم اکثر سنتے ہیں زیادہ خوبصورتی اور کشش کے حامل افراد کم پرکشش افراد کی بانسبت زیادہ بورنگ ہوتے ہیں۔  یہ بات اب تحقیق نے بھی ثابت کردی ہے۔

یو کے کی ایک یونیورسٹی کے سائیکولجسٹس کا کہنا ہے۔بہت زیادہ خوبصورت خواتین اور پرکشش مرد حضرات کی شخصیت کم خوبصورت لوگوں کی نسبت  بورنگ  یا بیزاریت بھری ہوتی ہے۔  

رسرچرز کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ خوبصورت افراد اکثر صرف اپنے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں دوسروں کے بارے میں سمجھنے سے زیادہ اپنی تعریف کرنے  یا اپنے آپ  میں دلچسپی ہوتی ہے۔ 

زیادہ پرکشش سائنسدان کم ذہین سمجھے جاتے ہیں۔

سائنس ایک ایسا شعبہ ہے جہاں انسان اپنی ظاہری کشش اور خوبصورتی کی بنیاد پر ترقی حاصل کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس شعبے میں صرف اور صرف انسان کی اہلیت ، قابلیت اور مہارتیں دیکھی جاتی ہیں۔ خالص انہی خوبیوں کی بنیاد پر ایک انسان کو اس شعبے میں اہمیت  دی جاتی ہے۔ جس کے پاس جتنی اپنے شعبے سے وابستہ مہارت اور قابلیت ہوگی۔ وہ اتنا ہی اس شعبے میں قابل اور لائقِ عزت سمجھا جائے گا ۔   ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی سائنسدان مسلسل بری کارکردگی دکھائے۔ اور اس کو محض اس کی ظاہری شخصیت کی بنا پر اس کی مسلسل بری کاکردگی کو نظرانداز کردیا جاٸے یا اسے اہمیت دی

جائے ۔ 

ریسرچرز نے اپنی ایک تحقیق میں مختلف سائنسدانوں کی تصاویر لے کر لوگوں کو دکھائیں اور پھر سائنس کے شعبے میں ان کے کیے گئے کام اور خدمات کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا ۔ لوگوں نے  کم پرکشش سائنسدانوں کی تصاویر دیکھنے کے بعد بھی ان کے کام کو زیادہ سراہا۔ 

کم پرکشش افراد میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

 تحقیق کے مطابق خواتین کے حاملہ ہونے کے امکانات کم پرکشش مرد کے ساتھ ازدواجی تعلق میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ 

اس حوالے سے دنیا بھر میں زیادہ تر یہ بات حقیقی مانی جاتی ہے۔ کہ  زیادہ پرکشش افراد عموماً زیادہ جنسی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس لیے ان میں اولاد کی صلاحیت کم پرکشش افراد کے مقابلے میں کم ہوجاتی ہے۔

 پرکشش خواتین ڈیٹ کم ہی تلاش کرپاتی ہیں۔

آج کا دور آن لائن ڈیٹنگ کا دور ہے اور یہ سمجھا جاتاہے کہ زیادہ پرکشش اور خوبصورت افراد کو آسانی سے  ڈیٹنگ پارٹنر  مل جاتا ہے ۔

خواتین کے لیے معاملہ تھوڑا سا پیچیدہ ہے۔ OKcupid کی ایک تحقیق کے مطابق مرد اس عورت کے ساتھ  ڈیٹ پر جاتے  ہیں۔ جس کے بارے میں وہ کوئی متفقہ رائے نا دے سکیں ۔کہ عورت پرکشش ہے یا نہیں. 

OKcupid کی تحقیق پہ پوری طرح اعتبار ہوسکتا ہے ۔  مگر بہرحال اس تحقیق کا نتیجہ یہی نکلا ہے۔ 

کہ خواتین ظاہری طور پر زیادہ مردانہ نقوش یا کثرتی جسم کے حامل افراد سے طویل تعلق یا شادی کو ترجیح نہیں دیتیں۔ 

روایتی معیار کے مطابق چوڑا سینہ، بڑی اور خوبصورت مسکراہٹ، واضح نظرآنے والے جبڑے  ورزشی بدن اور اسی قسم کے دوسرے نقوش مرد کی خوبصورتی سمجھے جاتے ہیں ۔   اور لوگ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کے نقوش کے حامل افراد کو خواتین زیادہ ترجیح دیتی ہیں اور ایسے مردوں کے ساتھ زیادہ خوش و مطئمن بھی رہتی ہیں۔

تحقیق اس کے برکس ہی نتائج سامنے لائی ہے ۔ گلاسکو یونیورسٹی کے ماہرین کی پندرہ سال تک جاری رہنے والی تحقیق سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ خواتین شادی یا طویل تعلق کے لیے اس طرح کے مردوں کا چناٶ نہیں کرتیں۔

 

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور گفتگو ڈاٹ پی کے سے جڑے رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top